دیوار
یہ اندھیرے یہ اندھیروں میں گرجتے ہوئے طوفان کا شور میرا ماضی مری خوں گشتہ امیدوں کا مزار یہ روایات کہن اور غم ایام کے رستے ہوئے زخم جیسے دیوار گزر گاہ تمدن کے شگاف وقت کے پھیلتے بڑھتے ہوئے سایوں کو لیے آج بھی ظلمت دوراں ہے شریک غم زیست آج اور آج کے خوابوں کا سنہری گنبد اپنے ماضی ...