شاعری

دیوار

یہ اندھیرے یہ اندھیروں میں گرجتے ہوئے طوفان کا شور میرا ماضی مری خوں گشتہ امیدوں کا مزار یہ روایات کہن اور غم ایام کے رستے ہوئے زخم جیسے دیوار گزر گاہ تمدن کے شگاف وقت کے پھیلتے بڑھتے ہوئے سایوں کو لیے آج بھی ظلمت دوراں ہے شریک غم زیست آج اور آج کے خوابوں کا سنہری گنبد اپنے ماضی ...

مزید پڑھیے

خواب کے سناٹے

پھر وہی عمر گریزاں کا ملال پھر وہی کشمکش ماضی و حال انگنت خواب لڑکپن کے جوانی کے سلگتے ہوئے جذبوں کے مہ و سال کے خواب ایک اک لمحہ بکھرتا سا سمٹتا سا خد و خال کے سو رنگ لیے قہقہے مجلس احباب شگفتہ چہرے ایک آسودہ تمنا کا دیار جیسے نوخیز شگوفوں کی بہار اور اب خواب کے سناٹے میں عمر کی ...

مزید پڑھیے

شہر خوباں شہر مقتل

مرے اس شہر کی رونق بسیں رکشا ٹرامیں موٹریں اور آدمی سیلاب کے مانند سڑکیں ہمہماتی شور ہنگامہ تگ و دو وقت کی گردش میں صبح و شام کا معمول ہے مرے اس شہر کی رونق اسکول نا آشنا لمحے ادھوری خواہش خوابوں کے ویرانے اندھیرے شب کے افسانے مرے اس شہر کی رونق حسیں بازار رونق دکانیں دل ربا ...

مزید پڑھیے

نذر سودا

کہنے کو عام رسم شکایات ہو گئی لب تک نہ آئی بات مگر بات ہو گئی ہنس ہنس کے پی لیے غم دوراں کے تلخ جام یوں سازگار گردش حالات ہو گئی زنداں کی شب نظر کے اجالے خیال دوست یکجا ہوئے تو پرسش حالات ہو گئی محویت حکایت دوراں نہ پوچھیے کب دن ہوا خبر نہیں کب رات ہو گئی جو آسماں نشیں ہیں انہیں اس ...

مزید پڑھیے

روشنی کے لیے

پھول کھلتے رہے زخم رستے رہے چاند ہنستا رہا دل سلگتا رہا ساز بجتے رہے شمع جلتی رہی زندگی دوش غم پر سسکتی رہی پھول سے خار تک قید سے دار تک زینت رنگ و بو آدمی کا لہو شام سے صبح تک روشنی کے لیے جھلملاتے رہے روشنی کے لئے

مزید پڑھیے

تعمیر نو

گھنے اندھیروں سے پھوٹا سپیدۂ سحری ضمیر خاک میں جاگا مذاق دیدہ وری غموں سے دور مسرت کی شاہراہوں میں حیات ڈھونڈ رہی ہے نشان استقبال تہوں میں ڈوب کے ابھری ہے فکر انسانی نکل رہا ہے سیاہی سے آفتاب کمال لہو کے چھینٹوں سے بدلی ہے قسمت آدم زمانہ ناپ رہا ہے جنوں کے پیمانے خرد کی مے سے ...

مزید پڑھیے

خدا جانتا ہے

یہ اشکوں کی حدت خدا جانتا ہے کہ کس جذبۂ نارسا کی ہے شدت ان اشکوں کے پیچھے چھپی داستانوں کے ہیں رنگ کتنے خدا جانتا ہے چمک میں ان اشکوں کی کتنی تمناؤں کے دیپ کی جھلملاہٹ خدا جانتا ہے روانی میں ان کی سفر در سفر مسافت کا اک سلسلہ ہے اور ان آنسوؤں میں کشش کا وہ ساماں جو بے کیف رشتوں ...

مزید پڑھیے

چلو ہم مان لیتے ہیں

چلو ہم مان لیتے ہیں نہ کوئی راہ نکلے گی کہ باہم مل کے بیٹھیں گے مگر کیا دل سے دل تک راستہ بھی روک سکتے ہو ابھی میں دل گرفتہ ہوں ابھی تم آب دیدہ ہو سکوں کے چند لمحوں میں ذرا یہ دھیان میں رکھنا کہ کوئی راہ میں آنکھیں بچھائے اب بھی تم کو یاد کرتا ہے کوئی اب بھی تمہاری اک صدا پر لوٹ آنے ...

مزید پڑھیے

اندر کی تنہائی

اپنے گھر سے اس کے گھر تک رستہ سارا جل تھل تھا اس کے گھر میں یوں لگتا تھا خوشیاں رقص کناں ہوں جیسے جیون کے سب رنگ وہاں تھے لیکن ہم جب لوٹ کے آئے ساتھ اپنے حیرانی لائے ہاتھ پکڑ کر بیٹھنے والا گال پہ تھپکی دینے والا لب مسکان سجانے والی ہر پل دل کو لبھانے والی یوں لگتا تھا ایک ہیں ...

مزید پڑھیے

تمہارا کیا ہے

تمہارا کیا ہے کہ تم ہزاروں دلوں کی دھڑکن تمہارا کیا ہے کہ اک اشارے پہ پھول کلیاں تمہارے قدموں میں آ گرے ہیں نہ جانے کتنی ہی سر زمینوں کے تم فلک ہو نہ جانے کتنے ہی تشنہ جسموں کا چین ہو تم ہمارا کیا ہے کہ نارسائی کی داستاں کا بنے ہیں عنواں ہمارا کیا ہے کہ عمر ساری بتائی ہم نے تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 240 سے 960