شاعری

گاندھی

ایک فقیر ایک انساں پیکر اخلاص روح راستی اک فقیر بے نوا ایثار جس کی زندگی جس کے ہر قول و عمل میں امن کا پیغام تھا جس کا ہر اقدام گویا عافیت انجام تھا جس کی دنیا بندگی بھگتی سرور جاوداں جس کی دنیا کیف و سرمستی کی حاصل بے گماں آشتی تھی جس کی فطرت جس کا مذہب پیار تھا خدمت انسانیت کا جو ...

مزید پڑھیے

نئی صبح

یہ چمن زار یہ خوش رنگ بہاروں کا جہاں زندگی کتنی دل آویز و دل آرا ہے یہاں چمپئی دھوپ میں ہر ذرہ ہے سورج کی کرن چاندنی رات میں ہر پھول ہے روشن روشن نور ہی نور زمیں سے ہے فلک تک رقصاں زندگی کتنی دل آویز و دل آرا ہے یہاں وادیٔ گنگ و جمن جنت نظارہ ہے سر زمیں اپنی زر و سیم کا گہوارہ ...

مزید پڑھیے

صداۓ جاوداں

واہمے کی سسکیاں چاروں طرف اور ان میں اک صدا سب سے الگ جیسے صحرا میں گلاب تیرگی میں جیسے ابھرے ماہتاب موت کی پرچھائیوں میں جیسے روشن زندگانی کی لکیر منکروں کے درمیاں جیسے مسیح جیسے بپتا میں گھرے انسان کو اپنے مرشد کا ملے آشیرواد کورووں کے دل کا نرغہ اور اس میں جیسے کرشن بانسری کی ...

مزید پڑھیے

تارے

ہیں کتنے پیارے سارے کے سارے یہ شوخ تارے ہرگز نہیں ہیں قسمت کے مارے یہ شوخ تارے کرتے ہیں دیکھو کیا کیا اشارے یہ شوخ تارے کھیلو تو ہوں گے ساتھی تمہارے یہ شوخ تارے

مزید پڑھیے

امنگ

سب کو ہے چین سا سب کو ہے آسرا میں ہوں چھوٹا تو کیا آتی ہے جب کلی بنتی ہے پھول بھی میں چھوٹا تو کیا ننھی سی بوند سے کتنے دریا بہے میں ہوں چھوٹا تو کیا ہلکی ہلکی پھوار لاتی ہے کیا بہار میں ہوں چھوٹا تو کیا ایک چیونٹی ارے اور ہاتھی مرے میں ہوں چھوٹا تو کیا اک گلہری اٹھے ٹکڑے پتھر ...

مزید پڑھیے

چڑیاں

مل مل کر ہٹنا پتوں کا تھم تھم کر کھلنا کلیوں کا ٹکرائے جانا لہروں کا جگ مگ ہے مندر نغموں کا پیاری چڑیو چہکے جاؤ سورج کی چنچل کرنوں سے ڈھلتے ہیں جب راگ تمہارے ایسے رنگیں ایسے میٹھے کیا ہوں گے دنیا کے گانے پیاری چڑیو چہکے جاؤ آنکھیں ہیں ہر دم ہنسنا ہے دل اک راحت کی دنیا ہے ایک تڑپ ہے ...

مزید پڑھیے

شاعر

اے دوست مرے پاس نہیں لعل و جواہر تو دیکھ کہ کس درجہ ہے سادہ مری پوشاک لیکن مجھے قدرت نے عطا کی ہے فقیری اس بات کا شاہد ہے مرا دامن صد چاک ہر چند کہ کم مایہ ہوں دنیا کی نظر میں اقلیم سخن میں ہے مری بیٹھی ہوئی دھاک ہر رنگ زمانہ سے ہوں اس عمر میں واقف رفتار زمانہ ہے مری بستۂ فتراک دنیا ...

مزید پڑھیے

موت جو میرا مقدر تھی

بہت میں نے اس مختصر زندگی میں عزیز و اقارب کے صدمات دیکھے بہت دوستوں کی جواں میتوں کو سسکتے ہوئے میں نے کاندھا دیا ہے بہت مہربانوں کی مجروح لاشوں کے تابوت مٹی کے منہ میں اتارے مگر میری بے رحم منحوس آنکھیں یہ دل دوز منظر سمیٹے ہوئے پھر نئے زخم تک مندمل ہو گئیں ہر دفعہ اپنے اشکوں ...

مزید پڑھیے

کتبوں کے متروک الفاظ کہاں جائیں

دیکھتے رہنا کالی رات اور تیز ہوا کے چہروں سے اک نہ اک دن پیڑ کا سایہ ڈر جائے گا یہ جو اپنے آگے پیچھے سات سمندر رہتے ہیں جانتے ہو نا ان کا ایک ہی مقصد ہے ان کے ہاتھوں پر یہ خشکی یوں ہی باقی رہ جائے سات سمندر کالی رات اور تیز ہوا موسم کے ہاتھوں پہ نوحہ لکھتے ہیں بحری قزاقوں کے دل میں ...

مزید پڑھیے

اردوئے معلیٰ

اپنے منہ سے کہہ رہی ہے صاف اردو کی زباں مولد و ماویٰ ہے میرا کشور ہندوستاں اس کے افعال و روابط دے رہے ہیں خود نشاں کس طرح پیدا ہوئی کیوں کر بڑھی پل کر یہاں روز افزوں حسن کا ہر دور اک سیارہ ہے ہے دبستاں لکھنؤ دلی اگر گہوارہ ہے مدتوں سرکار دہلی میں رہی یہ باریاب اب تک اردوئے معلیٰ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 241 سے 960