خیال
میز کی دراز سے کچھ ڈھونڈتے ہوئے نگاہ کسی کے دئے گئے پین پر پڑی دفعتاً ذہن میں یہ خیال کوندا کہ میری لکھی ہوئی ڈائری بھی تو اسی کے پاس ہوگی زندگی کے سفر میں ہم کتنا کچھ ایک دوسرے کو سونپتے ہیں اور پھر اجنبی بن جاتے ہیں
میز کی دراز سے کچھ ڈھونڈتے ہوئے نگاہ کسی کے دئے گئے پین پر پڑی دفعتاً ذہن میں یہ خیال کوندا کہ میری لکھی ہوئی ڈائری بھی تو اسی کے پاس ہوگی زندگی کے سفر میں ہم کتنا کچھ ایک دوسرے کو سونپتے ہیں اور پھر اجنبی بن جاتے ہیں
کس طرح روکتا ہوں اشک اپنے کس قدر دل پہ جبر کرتا ہوں آج بھی کارزار ہستی میں جب ترے شہر سے گزرتا ہوں اس قدر بھی نہیں مجھے معلوم کس محلے میں ہے مکاں تیرا کون سی شاخ گل پہ رقصاں ہے رشک فردوس آشیاں تیرا جانے کن وادیوں میں اترا ہے غیرت حسن کارواں تیرا کس سے پوچھوں گا میں خبر تیری کون ...
اس سے پہلے کہ تیری چشم کرم معذرت کی نگاہ بن جائے اس سے پہلے کہ تیرے بام کا حسن رفعت مہر و ماہ بن جائے پیار ڈھل جائے میرے اشکوں میں آرزو ایک آہ بن جائے مجھ پہ آ جائے عشق کا الزام اور تو بے گناہ بن جائے میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا اس سے پہلے کہ سادگی تیری لب خاموش کو گلہ کہہ دے میں تجھے ...
مری نگاہ کو اب بھی تری ضرورت ہے دل تباہ کو اب بھی تری ضرورت ہے خروش نالہ تڑپتا ہے تیری فرقت میں سکوت آہ کو اب بھی تری ضرورت ہے یہ صبح و شام تری جستجو میں پھرتے ہیں کہ مہر و ماہ کو اب بھی تری ضرورت ہے بہار زلف پریشاں لیے ہے گلشن میں گل و گیاہ کو اب بھی تری ضرورت ہے زمانہ ڈھونڈ رہا ...
کس قیامت کا تبسم ہے ترے ہونٹوں پر استعاروں میں بھٹکتے ہیں خیالات مرے میں کہ ہر سانس کو اک شعر بنا سکتا ہوں نظم ہونے کو پریشان ہیں جذبات مرے آنکھ جمتی نہیں لہراتے ہوئے قدموں پر کسی نغمے کا تلاطم ہے کہ رفتار تری رقص انگڑائیاں لیتا ہے تری بانہوں میں حیرت آثار ہے کیوں چشم فسوں بار ...
لوگ کہتے ہیں کہ پربت سے نکل کر چشمے کسی کھوئی منزل کی طرف بہتے ہیں اور سر شام ہوا ان کے لئے چلتی ہے جن کے محبوب بہت دور کہیں رہتے ہیں کوئی پیغام نہیں جس کی توقع ہو مجھے کس لیے گوش بر آواز ہوں معلوم نہیں جو کبھی دل میں تمنا تھی وہ آغوش میں ہے اب کدھر مائل پرواز ہوں معلوم نہیں نہیں ...
ایک سپیرا میری گلی میں آ نکلا کل شام اس کی آنکھیں چمکیلی تھیں اور آنکھیں سنگین لیکن رس میں بھیگے نغمے چھیڑ رہی تھی بین نغمے جن میں جاگ رہے تھے دنیا کے آلام اس کے گلے میں سانپ پڑا تھا جیسے کوئی ہار اس نے گلے سے سانپ اتارا اور کہا کہ جھوم مٹی چاٹ کے پیار سے بابو جی کے پاؤں چوم سانپ ...
ایک جوان سی اور دیوانی عورت کو میں نے سڑک پر اکثر گھومتے دیکھا ہے گاہ کسی سائے کی طرف مصروف خرام اور کبھی وحشت میں جھومتے دیکھا ہے اس کی سرخ آنکھوں میں پاگل پن کے سوا اور بھی کچھ ہے جس کا کوئی نام نہیں اک ایسی بیداری اس پر طاری ہے جس کے مقدر میں اب کوئی شام نہیں اس کے پتھر جیسے چپ ...
میں ہمیشہ کی طرح تنہائی کی باہوں میں باہیں ڈال کر رات بھی ساحل پہ تھا محو خرام رات بھی اپنے ہی سائے کی نگاہوں میں نگاہیں ڈال کر میں خود اپنے آپ سے تھا ہم کلام دم بدم دامن کشاں تھا رات بھی گہرے سمندر کا فسوں کھنچ رہی تھیں رات کی نیلی رگیں رات بھی جب بڑھ رہا تھا تیز وحشت خیز موجوں ...
موسم سرما کی رات جس کے سردی میں رچے برفیلے ہاتھ جب بھی چھوتے ہیں مجھے کپکپا اٹھتا ہوں میں میں عجب برزخ میں ہوں اپنی بیوی کا شناسا جسم بھی اب مجھے سیراب کر سکتا نہیں میرے اندر خواہشوں کا ایک پیاسا بھیڑیا آج بے کل ہے بہت خون تازہ کے لیے