شاعری

منی کی باتیں

بنا کے منہ تو مرے سامنے کھڑی کیا ہے مجھے بتا تو کسی سے ابھی لڑی کیا ہے سمجھ رہا ہوں چلی آئی ہے جگانے مجھے ذرا سا اور ٹھہر جاتی ہڑبڑی کیا ہے ابھی نہ پوری ہوئی نیند دس بجے کیسے ہمیشہ تیز جو چلتی رہے گھڑی کیا ہے گھڑی کو ڈاکٹر صاحب کے پاس لے جاؤ انہیں دکھاؤ اسے اس میں گڑبڑی کیا ہے ابھی ...

مزید پڑھیے

سبزی اگاؤ

آؤ گھر میں سبزی اگاؤ پھر سب مل کر مزے سے کھاؤ پہلے جھٹ پٹ کیاری کھودو پھر یہ ساری سبزی بو دو کدو کریلا اروی آلو بیگن ٹنڈا اور شفتالو مولی گاجر شلجم توری لال ہری اور گوری گوری دھنیہ مرچیں لہسن ادرک ہریالی ہے آنکھ کی ٹھنڈک ادھر بھی کیاری کھودو رینا اس میں بونا ہے پودینا جاؤ لوٹا ...

مزید پڑھیے

کاش ایسا نہ سانحہ ہوتا

کاش وہ لمحہ خواب سا ہوتا کاش وہ لمحہ وہم سا ہوتا کاش وہ لمحہ دوسرا ہوتا بچے ٹی وی ہی دیکھتے ہوتے چائے بھی گھر میں بن رہی ہوتی پیالیاں کھنکھنا رہی ہوتیں چہرے چہرے پہ زندگی ہوتی اک دھماکا عجیب کیوں ہوتا ایک جلتا مکان کیوں ہوتا ایک اجڑا جہان کیوں ہوتا سانحہ اک بیان کیوں ہوتا کسی ...

مزید پڑھیے

میں اجنبی نہیں

مرے خدا تو مرے قلب کو منور کر مرے وجود کو بہتر سے اور بہتر کر مری حیات ترے ذکر میں گزر جائے کرم بس اتنا اے پروردگار مجھ پر کر اگر ہے سر پہ مرے آفتاب ہی رکھنا نصیب میں ہے اگر اضطراب ہی رکھنا تو اے خدائے کریم اک یہی دعا سن لے ہر امتحاں میں مجھے کامیاب ہی رکھنا مرا ضمیر کبھی داغدار ...

مزید پڑھیے

بے رنگ شجر

زندگی کی شاخ سے زرد پتوں کی صورت ایک ایک کرکے رنگ برنگی آرزوئیں ٹوٹ کر گرتی جا رہی ہیں خاک ہوتی جا رہی ہیں شجر وجود کا بے برگ ہوتا جا رہا ہے محرومیوں کے ہاتھوں اجڑتا جا رہا ہے

مزید پڑھیے

سماعت کا دھوکا

کھلا ہوا دروازہ ہاں مگر دبیز پردہ گرا ہوا باہر سے کھلے پٹ پہ ایک دستک اندر سے آواز آئے سماعت کا دھوکا آئیے پردہ کا ہٹنا چوڑیوں کا کھنک اٹھنا حیرتوں کا حملہ شرمندگی کی چھینٹیں سکوت کی فتح ندامت کے آنسو دوستی کا واسطہ

مزید پڑھیے

پھول لٹاتے بچے

ہنستے بچے گاتے بچے جیون جوت جگاتے بچے لاکھوں سوانگ رچاتے بچے گھر بھر کو بہلاتے بچے امی کو سمجھاتے بچے ڈیڈی سے اتراتے بچے اپنے بھولے پن سے سب کی بگڑی بات بناتے بچے گھر سے پڑھنے پڑھ کے گھر کو آتے بچے جاتے بچے جیون کی سنسان ڈگر پر لاکھوں پھول لٹاتے بچے ایک خوشی کی چنگاری سے پل پل دیپ ...

مزید پڑھیے

شرارت پہ تماشا

ساتھی نے کی شرارت اور مار میں نے کھائی باجی نے کی شکایت ابو نے کی پٹائی سب گھر میں سو گئے جب وہ چپکے چپکے اٹھا آہستہ سے کچن میں چوروں کی طرح پہنچا کھرچی توے سے کالک پھر اس میں تیل ڈالا لے کر کچن سے نکلا کالک بھرا پیالہ سب نیند میں تھے کھوئے سب بے خبر تھے سوئے لایا تلاش کر کے روئی کے ...

مزید پڑھیے

امید مری شہزادی تھی

امی کی محبت ملتی ہے ابو کی بھی شفقت ملتی ہے اے ماضی ترے اک دامن سے کیا کیا مجھے دولت ملتی ہے بچپن کا زمانہ تجھ میں ہے ہر لمحہ سہانا تجھ میں ہے جو خوابوں کو دستک دیتا تھا وہ عہد پرانا تجھ میں ہے ناکامی نہ یہ نا شادی تھی بے فکری تھی آزادی تھی شہزادہ تھا میں ارمانوں کا امید مری ...

مزید پڑھیے

سفر سے لوٹتے لمحوں میں

وہ جسم جس کو اندھیرے نے چاندنی میں بنا وہ جسم جس کو تراشا نہیں گیا تھا مگر وہ جسم خود ہی تراشا ہوا تھا اک پیکر وہ جسم جس کے وسیلے سے اس جزیرے کی جو سیر میں نے کبھی کی تھی بھولنا ہے عبث وہ فاصلہ کہ جو صدیوں میں طے نہیں ہوگا وہ طے ہوا تھا فقط صرف چند لمحوں میں مری رگوں میں ابھی خون ...

مزید پڑھیے
صفحہ 142 سے 960