شاعری

کیا تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ

کیا تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ ایک اچھے بھلے شخص نے ایک اچھے بھلے شخص کو سامنے والے فٹ پاتھ پر مار ڈالا ہے اس نے کافی کی ہلکی سی چسکی بھری اور چہرے پہ حیرت کا جنگل لیے مجھ کو تکتے ہوئے چار مینار سگریٹ کا پھر سے مہورت کیا اور پھر اپنے منہ سے اگلتے ہوئے وہ دھواں مجھ سے کہنے لگا شاید اس ...

مزید پڑھیے

گومتی

میرے بچپن کی مری پیاری سہیلی گومتی تجھ پہ کیا گزری ہے کہ تو یوں سمٹ کر رہ گئی وہ تری مدھم سروں میں خوش بیانی کیا ہوئی وہ تری بے ساختہ طرز روانی کیا ہوئی شوخئ رفتار پر تیری فدا تھا لکھنؤ ہر قدم پر کہہ رہا نام خدا تھا لکھنؤ کب بھلا اپنی حدوں میں اس طرح بہتی تھی تو بے خودی میں سب کنارے ...

مزید پڑھیے

چور دروازہ

میرے سونے کمرے میں تو کوئی نہیں تھا میں نے اس کمرے کو خالی کر کے سب دروازے بند رکھے تھے گوشہ گوشہ دیکھ چکا تھا کوئی نہیں تھا میں تھا میری تنہائی تھی لیکن مجھ کو یہ تو بتاؤ تم آخر کس دروازے سے اس کمرے میں در آئی ہو

مزید پڑھیے

کس سے کہئے دل کی بات

کس سے کہئے دل کی بات اپنی عزت اپنے ہات تم بن سونے ہیں یوں دن جیسے بول رہی ہو رات کیسی شادی کیسا غم اپنے اپنے محسوسات عشق ہے یہ کچھ کھیل نہیں کس کی مات اور کیسی مات دیکھ چکا ہوں حشر کا دن کاٹ چکا ہوں ہجر کی رات ہر الزام مجھے تسلیم اپنے دل پر رکھئے ہات لوٹے ہیں راتوں کے دن چمکی ہے ساقی ...

مزید پڑھیے

سچی باتوں سے کھڑے سرکار کے ہوتے ہیں کان

سچی باتوں سے کھڑے سرکار کے ہوتے ہیں کان دھیرے دھیرے بولئے دیوار کے ہوتے ہیں کان دیجئے مجھ کو سزا پیغامبر کا کیا قصور گرم کیوں اس مجرم گفتار کے ہوتے ہیں کان باغ میں غنچہ جو چٹکا میں خوشی سے پھول اٹھا آشنا کتنے صدائے یار کے ہوتے ہیں کان میکدے میں کیوں نہ خالی جائے پھر واعظ کی بات جب ...

مزید پڑھیے

لکھنؤ

ماضی کی تجلی سے معمور یہ کاشانہ احساس مسلماں کو کر دیتا ہے دیوانہ اللہ رے بیدردی طوفان حوادث کی دنیا میں حقیقت بھی بن جاتی ہے افسانہ عالم کی نگاہوں سے اترے ہوئے ایوانو بے ساختہ اشکوں کا حاضر ہے یہ نذرانہ اب حسن کی محفل میں حسرت سی برستی ہے وہ غمزۂ ہندی ہیں نے عشوۂ ترکانہ غم عظمت ...

مزید پڑھیے

ساقی

بتاؤں کیا جو رنگ گردش ایام ہے ساقی جہاں کا ذرہ ذرہ کشتۂ آلام ہے ساقی معاذ اللہ اب ہر ہر قدم پر دام ہے ساقی گلستاں میں یہ آزادی کا فیض عام ہے ساقی سمجھ سکتا ہے کون اس راز کو جز اہل مے خانہ لباس صبح میں کتنی بھیانک شام ہے ساقی قفس کیسا نشیمن کیا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں نہ جب آرام تھا ...

مزید پڑھیے

بہار شباب

محتسب کے ہوش اڑانے کا زمانہ آ گیا بے جھجک پینے پلانے کا زمانہ آ گیا جام آتش زیر پا کی اوٹ لے کر ساقیا بوتلوں میں ڈوب جانے کا زمانہ آ گیا کائنات ہوش پر کالی گھٹائیں چھا گئیں یوم شب تابی منانے کا زمانہ آ گیا پھر خیال عارض تاباں نے لیں انگڑائیاں رات کو پھر دن بنانے کا زمانہ آ گیا مست ...

مزید پڑھیے

ٹھہرا پانی

چھل چھل کرتی دھارا پانی کی ذہن کو جیسے آئینہ دکھائے دم دم بڑھتی جیون دھارا کا بھرم بتائے پر وقت جیسا شیتل جل بھی مٹھی میں سے چھن جاتا ہے خالی مٹھی بھیگی بھیگی یاد دلائے شیتل جل کی آس پاس سب ٹھہرا ٹھہرا ہے جیسے دھارا جم سی گئی ہو جیون جیسے تھم سا گیا ہو اس ٹھہرے ٹھہرے گدلے پانی ...

مزید پڑھیے

اک کہانی

ہم پر تھی پیارے بچو نانی کی مہربانی روزانہ رات کو وہ کہتی تھیں اک کہانی اک رات کو سنایا برسات کا فسانہ کہنے لگیں کہ موسم اک روز تھا سہانا تھا دیکھنے کے قابل فوارہ آسمانی دریا سے لا کے بادل برسا رہے تھے پانی تالاب بن گیا تھا آنگن ہمارے گھر کا ٹہنی پے اس کی بچو بیٹھا تھا ایک طوطا اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 141 سے 960