شاعری

ڈھونڈھتا ہوں میں کسی کو نظر آتا ہے کوئی

ڈھونڈھتا ہوں میں کسی کو نظر آتا ہے کوئی دید میں کیوں نہیں آتا اگر آتا ہے کوئی راستے میں کسی سائے کا دکھائی دینا بام و در کا یہ سمجھنا کہ گھر آتا ہے کوئی مجھ پہ گرتی ہوئی یہ دھوپ بھی اب تھک گئی ہے میں بھی اس طاق میں ہوں کب شجر آتا ہے کوئی کیا تناقض ہے کہ آنکھوں سے نہ ہو کر داخل دل ...

مزید پڑھیے

اک عجب سی دھندھ میں اب سر بسر لپٹا ہوں میں

اک عجب سی دھندھ میں اب سر بسر لپٹا ہوں میں کھو گیا ہوں یوں کہ خود کو بھی کہاں دکھتا ہوں میں ڈھونڈھتا ہوں اک شناسا مجمع اغیار میں اجنبی چہرے بھی پہروں دیکھتا رہتا ہوں میں شہر کی شب پر بپا ہیں جگمگاتی لائٹیں ہائے راتوں کو اندھیرا ڈھونڈھتا پھرتا ہوں میں یہ مرا کار جنوں ہے یا مجاز ...

مزید پڑھیے

ہزاروں درد یکجا ہو کے آنکھیں دھو رہے ہیں

ہزاروں درد یکجا ہو کے آنکھیں دھو رہے ہیں یہ رت گریہ کی ہے ہر سمت آنسو ہو رہے ہیں ہوائے خواب خوش نے تھی ہماری نیند توڑی سو اک گہری اداسی اوڑھ لی ہے سو رہے ہیں ہمیں رکھنے تھے اپنے نقش پا بھی سرخیوں میں سو اپنی راہ میں کچھ اور کانٹے بو رہے ہیں بڑی خواہش تھی ہم کو قیس ہونے کی سو ہو ...

مزید پڑھیے

عجیب اس سے بھی رشتہ ہے کیا کیا جائے

عجیب اس سے بھی رشتہ ہے کیا کیا جائے وہ صرف خوابوں میں ملتا ہے کیا کیا جائے جہاں جہاں تیرے ملنے کا ہے گمان وہاں نہ زندگی ہے نہ راستہ ہے کیا کیا جائے غلط نہیں مجھے مرنے کا مشورہ اس کا وہ میرا درد سمجھتا ہے کیا کیا جائے کسی پہ اب کسی غم کا اثر نہیں ہوتا مگر یہ دل ہے کہ دکھتا ہے کیا ...

مزید پڑھیے

تمہیں کوئی خبر ہے نہ پتا ہے

تمہیں کوئی خبر ہے نہ پتا ہے مرے اندر کوئی اب تک چھپا ہے تماری دستکیں سب رائیگاں ہیں کہاں دروازہ اس گھر میں لگا ہے مری انگلی میں وہ چھلا نہیں ہے تمہارے نام کا بس دائرہ ہے سمندر میں وہی طوفان ہے پھر کہ دریا اپنا حصہ مانگتا ہے کوئی پوچھے تو کیا بتلاؤں گا میں جو دشمن ہے وہ ہی تو ہم ...

مزید پڑھیے

تمام خواب ادھورے اٹھا کے رکھے ہیں

تمام خواب ادھورے اٹھا کے رکھے ہیں کبھی تو ہوں گے یہ پورے اٹھا کے رکھے ہیں تمہارے نام کا پیکر بنا کے رکھا ہے تمہارے نام کے چہرے اٹھا کے رکھے ہیں یہ کیا کہ چاند تو بادل میں جا کے بیٹھا ہے سو ہم نے جگنو سنہرے اٹھا کے رکھے ہیں یہ تیری شوخ ادائیں ہیں اور مری لرزش کہ جتنے پہرے تھے ...

مزید پڑھیے

آ کے اک بار مرے یار ذرا دیکھ تو لے

آ کے اک بار مرے یار ذرا دیکھ تو لے چارہ گر خود بھی ہے بیمار ذرا دیکھ تو لے دن گزرتا ہے ترے ہجر میں تھوڑا تھوڑا گردش وقت کی یہ مار ذرا دیکھ تو لے قلب وارفتہ کی ہر آہ بھی سہمی سہمی دھیمی دھیمی سی ہے رفتار ذرا دیکھ تو لے اب بھی محفوظ ہیں آنکھوں میں وہ سارے منظر وہی نخرے وہی تکرار ...

مزید پڑھیے

دن بھر سورج آگ اگلتا رہتا ہے

دن بھر سورج آگ اگلتا رہتا ہے چاند بھی اپنے کام میں الجھا رہتا ہے جانے مجھ میں کون تڑپتا رہتا ہے میں جیتا ہوں پر وہ مارتا رہتا ہے دروازے پہ کنڈی لٹکی رہتی ہے کھڑکی سے وہ آتا جاتا رہتا ہے خاموشی کی بھاشا خوب سمجھتا ہے میں تو چپ ہوں پر وہ سنتا رہتا ہے میرے سارے بادل سوکھے سوکھے ...

مزید پڑھیے

منظور ہے جو بھی فیصلہ ہے

منظور ہے جو بھی فیصلہ ہے دہلیز پہ سر رکھا ہوا ہے گھر میں ترے کون سی بلا ہے ویرانوں میں رات کاٹتا ہے میں ساتھ چلوں کے چھوڑ جاؤں اے دوست ترا خیال کیا ہے ہر شخص رکا مگر کسی نے پوچھا نہیں یہ کہ حال کیا ہے رشتوں میں نہیں خلوص باقی بدلی ہوئی شہر کی فضا ہے

مزید پڑھیے

رنگ لائے گی میری وفا دیکھنا

رنگ لائے گی میری وفا دیکھنا مٹ ہی جائے گا ہر فاصلہ دیکھنا دعوت دید دیتے ہیں منظر کئی سامنے تم اگر ہو تو کیا دیکھنا میرا ملنا کوئی مسئلہ بھی نہیں شرط ہے کرکے کوشش ذرا دیکھنا جا رہے تو ہو تم گاؤں کو چھوڑ کر شہر کی پہلے آب و ہوا دیکھنا ہر جگہ مجھ کو پاؤ گے اپنے قریب تم کہیں سے بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 956 سے 4657