شاعری

یہ ملا ہے صلہ ندامت میں

یہ ملا ہے صلہ ندامت میں آ گیا میں بھی ابر رحمت میں بن پروں کے ہوا میں اڑتا ہے ایسا کیا ہے نشہ سیاست میں ہم ترے غم کو اپنا کہتے ہیں جان دے دیں گے اس محبت میں فیصلے سارے ان کے حق میں ہیں پھر بھی میرا یقیں عدالت میں اس کو سلمانؔ کیسے سمجھائے جس نے پا لی خودی وراثت میں

مزید پڑھیے

مجھ ناتواں پہ حشر میں وہم فغاں غلط

مجھ ناتواں پہ حشر میں وہم فغاں غلط میں گفتگو کی تاب رکھوں یہ گماں غلط تم بھی وہی کہو تو کہیں سب بجا درست میں بھی وہی کہوں تو کہے اک جہاں غلط گرمی سے اس کے حسن کی کس کا جگر جلا تشبیہ مہر و روئے نکوئے بتاں غلط کہئے اسیر خواہش سنبل کوئی ہوا دینی مثال کاکل عنبر فشاں غلط سچ ہے کہ ...

مزید پڑھیے

کچھ تغیر مرے احوال پریشاں میں نہیں

کچھ تغیر مرے احوال پریشاں میں نہیں ایسے عالم میں ہوں جو عالم امکاں میں نہیں صبح محشر بھی دکھائی نہیں دیتی یا رب روز بد بھی تو نصیب شب ہجراں میں نہیں وحشت عشق کو ثابت قدمی بھی ہے ضرور قیس کا نقش قدم تک تو بیاباں میں نہیں ہو گیا ذوق فزائے خلش یاد مژہ کون کہتا ہے کہ لذت ترے پیکاں ...

مزید پڑھیے

یوں بھلا تم پر سجا کب آئنے میں دیکھنا

یوں بھلا تم پر سجا کب آئنے میں دیکھنا رات آنکھوں میں کٹے تب آئنے میں دیکھنا کیسے کیسے منظروں کے عکس ہیں ان میں نہاں اپنی آنکھیں سوچنا جب آئنے میں دیکھنا کیسے کیسے رنگ ہیں تنہائی کی تصویر میں جب کبھی فرصت ملے تب آئنے میں دیکھنا تم کبھی پتھر کی مورت تھے مگر اب پھول ہو اپنی ...

مزید پڑھیے

مے کشی چھوڑ دی توہین ہنر کر آیا

مے کشی چھوڑ دی توہین ہنر کر آیا جام الٹائے سبو زیر و زبر کر آیا جب وہ دیوار گری تھی تو یہ در کیوں رہتا بس یہی سوچ کے مسمار وہ گھر کر آیا دشت امکان میں تنہا میں کہاں تک جاتا جب گماں بھی نہ رہا ترک سفر کر آیا ایک امید کا عالم ہے کہ تھکتا ہی نہیں بار احسان سے بھی صرف نظر کر آیا راہ ...

مزید پڑھیے

سود و زیاں کے باب میں ہارے گھڑی گھڑی

سود و زیاں کے باب میں ہارے گھڑی گھڑی سانسوں کے قرض ہم نے اتارے گھڑی گھڑی چلتی رہی ہوائے مخالف تمام رات گرتے رہے فلک سے ستارے گھڑی گھڑی تھمتی ہے روز گردش ساغر مگر خمار چلتا ہے ساتھ ساتھ ہمارے گھڑی گھڑی اب ہجر نہ وصال نہ سودا ترے بغیر دکھتا ہے دل بھی درد کے مارے گھڑی گھڑی اے ...

مزید پڑھیے

دل کو اجڑے ہوئے بیتے ہیں زمانے کتنے

دل کو اجڑے ہوئے بیتے ہیں زمانے کتنے کلک تقدیر نے لوٹے ہیں خزانے کتنے بھول جاتا ہوں مگر سچ تو یہی ہے برسوں تم سے وابستہ رہے خواب سہانے کتنے دل دکھاتی ہی رہی گردش ایام مگر ہم بھی مصروف رہے خود بھی نہ جانے کتنے ایک ہم اور یہ دشنام طرازی توبہ اپنے اطراف رہے آئنہ خانے کتنے اک نظر ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر آپ کو دعا کرنا

دیکھ کر آپ کو دعا کرنا پھر نمازیں سبھی ادا کرنا عشق دیکھو کہاں پہ لے آیا صبر کرنا کہ التجا کرنا چھوڑ جاتے ہو یہ تو بتلا دو آپ کے بعد ہم نے کیا کرنا وہ سراپا غزل کا پیکر ہے اس کے چہرے سے ابتدا کرنا دل نے چاہا کہ اس کو چھو لوں میں کتنا مشکل ہے حوصلہ کرنا عشق تو اک معمہ ہے اے ...

مزید پڑھیے

یہی نہیں کہ ہمیں ہیں یہاں بکھرتے ہوئے

یہی نہیں کہ ہمیں ہیں یہاں بکھرتے ہوئے ادھر تو دیکھ رہا ہوں سبھی کو ڈرتے ہوئے یہ دل فریب چراغاں یہ قہقہوں کے ہجوم میں ڈر رہا ہوں اب اس شہر سے گزرتے ہوئے تمام رات ہم افسردگان محفل خواب گزارتے ہیں ستاروں سے بات کرتے ہوئے شفق کا رنگ بھی آنکھوں میں ابھی باقی ہے دکھائی دے رہی ہے رات ...

مزید پڑھیے

خلا سے کبریا تک کا سفر تھا اور ہم تھے

خلا سے کبریا تک کا سفر تھا اور ہم تھے تھرکتا چاک تھا اک کوزہ گر تھا اور ہم تھے تمہیں کو دیکھتے گزرے تھے اک سچائی سے ہم جہاں آشوب ہی حد نظر تھا اور ہم تھے بڑی مشکل سے کی دریافت ہم نے رغبت غم پھر اس کے بعد تو آساں سفر تھا اور ہم تھے گزاری عمر ہم نے آبیاری میں کسی کی وہ اپنا ایک کار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 955 سے 4657