خراشیں اور شکن آلود چہرہ بول سکتا ہے
خراشیں اور شکن آلود چہرہ بول سکتا ہے سمجھنے والا کوئی ہو تو گونگا بول سکتا ہے ہم اپنے سے بہت چھوٹے کو بھی چھوٹا نہیں کہتے زباں اس کی ہے وہ دریا کو قطرہ بول سکتا ہے عطائے رب الگ شے ہے یہ بندوں کا دیا ہے کیا سکھاؤ جتنا طوطے کو بس اتنا بول سکتا ہے شرافت خون میں ہوتی ہے لہجے میں ...