شاعری

خراشیں اور شکن آلود چہرہ بول سکتا ہے

خراشیں اور شکن آلود چہرہ بول سکتا ہے سمجھنے والا کوئی ہو تو گونگا بول سکتا ہے ہم اپنے سے بہت چھوٹے کو بھی چھوٹا نہیں کہتے زباں اس کی ہے وہ دریا کو قطرہ بول سکتا ہے عطائے رب الگ شے ہے یہ بندوں کا دیا ہے کیا سکھاؤ جتنا طوطے کو بس اتنا بول سکتا ہے شرافت خون میں ہوتی ہے لہجے میں ...

مزید پڑھیے

حرف حق میری زباں سے جو نکل پڑتا ہے

حرف حق میری زباں سے جو نکل پڑتا ہے سامنے والے کی پیشانی پہ بل پڑتا ہے ان دنوں دل کا عجب حال ہوا ہے ہمدم بات بے بات پہ کم بخت اچھل پڑتا ہے وعدۂ وصل ہے پرسوں کا مگر یاد رہے درمیاں اپنی ملاقات کے کل پڑتا ہے چاند پر جاؤ کہ مریخ پہ پہنچو لیکن اس سے آگے کی نہ سوچو کہ زحل پڑتا ہے بد دعا ...

مزید پڑھیے

کوئی صورت کتاب سے نکلے

کوئی صورت کتاب سے نکلے یاد سوکھے گلاب سے نکلے میری آنکھیں ہے منتظر اب بھی کب وہ چہرہ نقاب سے نکلے کتنے موتی ہیں اس کے آنچل میں کتنی کرنیں حجاب سے نکلے اے شب ماہ ٹوٹتا ہے بدن درد شاید شراب سے نکلے چاند اترا تھا شب کو آنگن میں نیند ٹوٹے تو خواب سے نکلے وہ مری پیاس کو بجھا دے ...

مزید پڑھیے

ہر اک منظر وہیں ٹھہرا لگے گا

ہر اک منظر وہیں ٹھہرا لگے گا کبھی دریا کبھی صحرا لگے گا ہوائیں لے اڑے گی خوشبوؤں کو ترے دامن میں بس کانٹا لگے گا کتابیں پھینک دو دریا میں ساری پڑھو گے خود کو تو اچھا لگے گا وہ پھر ایک بار ہم پہ مہرباں ہے کوئی ایک زخم پھر گہرا لگے گا ابھی روٹھا ہوا ہے چاند ہم سے ہٹے گا ابر تو ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر آپ کو دعا کرنا

دیکھ کر آپ کو دعا کرنا پھر نمازیں سبھی ادا کرنا عشق دیکھو کہاں پہ لے آیا صبر کرنا کہ التجا کرنا چھوڑ جاتے ہو یہ تو بتلا دو آپ کے بعد ہم نے کیا کرنا وہ سراپا غزل کا پیکر ہے اس کے چہرے سے ابتدا کرنا دل نے چاہا کہ اس کو چھو لوں میں کتنا مشکل ہے حوصلہ کرنا عشق تو اک معمہ ہے اے ...

مزید پڑھیے

درد جب داستاں بناؤں گا

درد جب داستاں بناؤں گا آپ کو ہم زباں بناؤں گا پہلے رکھوں گا اس زمیں پہ قدم پھر میں اک آسماں بناؤں گا اس نے خط میں بنائیں ہیں آنسو میں بھی اب سسکیاں بناؤں گا اپنے کمرے سے مشورہ کر کے خامشی کی زباں بناؤں گا تیرے ہونٹوں سے سرخیاں لے کر دیکھنا تتلیاں بناؤں گا جس میں لیلیٰ ہی ...

مزید پڑھیے

وہ بھی آخر رفتہ رفتہ اس کے جیسا ہو گیا

وہ بھی آخر رفتہ رفتہ اس کے جیسا ہو گیا جس نے دنیا جتنی دیکھی اتنا دنیا ہو گیا خون سے مظلوم کے ہو تو گئے روشن چراغ روشنی ایسی ہوئی پھر شہر اندھا ہو گیا ٹوٹ کر برباد اب ہوگا نہیں اس کا وجود تجربے کی آگ میں تپ کر وہ سونا ہو گیا عشق کہتا ہے ابھی دو چار سانسیں اور ہیں حسن کہتا ہے کہ ...

مزید پڑھیے

ترے غم میں جو سلگی جا رہی ہے

ترے غم میں جو سلگی جا رہی ہے مجھے سگریٹ وہ پیتی جا رہی ہے منایا جا رہا ہے غم تمہارا پرانی فلم دیکھی جا رہی ہے جو ڈیپی لگ گئی نمبر پہ تیرے وہ صبح و شام دیکھی جا رہی ہے جہاں باتوں میں کٹنی چاہیے تھی وہاں پر بات کاٹی جا رہی ہے نگاہوں سے وہ اوجھل ہو رہا ہے کوئی گاڑی ہے چھوٹی جا رہی ...

مزید پڑھیے

ہم تو پانی ہیں کسی شکل بھی ڈھل سکتے ہیں

ہم تو پانی ہیں کسی شکل بھی ڈھل سکتے ہیں اک ذرا آنچ دکھا دو تو ابل سکتے ہیں روز اول سے ہے مٹی کا سہارا مٹی آپ بیساکھیوں سے کتنا سنبھل سکتے ہیں آپ کے ہاتھ میں ہے مجھ سے تعلق کا ریموٹ آپ چاہیں تو یہ چینل بھی بدل سکتے ہیں

مزید پڑھیے

اول اول تو یہ خوابوں کی طرح ہوتا ہے

اول اول تو یہ خوابوں کی طرح ہوتا ہے عشق پھر دوسرے کاموں کی طرح ہوتا ہے پہلے فلمیں بھی حقیقت کی طرح ہوتی تھیں اب حقیقت میں بھی فلموں کی طرح ہوتا ہے کام کرتا ہے مسلسل کبھی تھکتا ہی نہیں باپ گویا کہ مشینوں کی طرح ہوتا ہے میں ترے ہجر میں اس درجہ مگن ہوتا ہوں میرا دن بھی مری راتوں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 957 سے 4657