شاعری

عیب تو ہوں گے چاند تارے میں

عیب تو ہوں گے چاند تارے میں سوچیے آپ اپنے بارے میں اتنا کہہ دو کہ اپنے تک رکھیے پھیل جائے گی بات سارے میں اور دل کش ہوئی ہیں نم آنکھیں میٹھی لگتی ہیں اور کھارے میں اپنی کرتے ہیں دل ضمیر و ذہن سارے افسر ہیں اس ادارے میں الجھنوں سے نجات پنہاں ہے اک بھروسے میں اک اشارے میں سب ...

مزید پڑھیے

چلو کہ زخم کریدیں خیال کیسا ہے

چلو کہ زخم کریدیں خیال کیسا ہے پھر اپنے آپ سے پوچھیں کہ حال کیسا ہے ستائیں اتنا کہ اک دن پلٹ کے وار کرے پھر اس کے بعد سزا دیں یہ جال کیسا ہے تمہارے طرز عدل کا کوئی جواب نہیں مگر جو پیدا ہوا ہے سوال کیسا ہے لگاؤ پیڑ تو سائے کی آرزو نہ رکھو ملے گی چھاؤں کسی کو ملال کیسا ہے تمہارے ...

مزید پڑھیے

پھر آس دے کے آج کو کل کر دیا گیا

پھر آس دے کے آج کو کل کر دیا گیا ہونٹوں کے بیچ بات کو شل کر دیا گیا صدیوں کا پھوک جسم سنبھالے تو کس طرح جب عمر کو نچوڑ کے پل کر دیا گیا اب تو سنوارنے کے لیے ہجر بھی نہیں سارا وبال لے کے غزل کر دیا گیا مجھ کو مری مجال سے زیادہ جنوں دیا دھڑکن کی لے کو ساز اجل کر دیا گیا کیسے بجھائیں ...

مزید پڑھیے

وفور شرم سے میں مر رہا تھا

وفور شرم سے میں مر رہا تھا خود اپنا تجزیہ جب کر رہا تھا جو میرے پیار کا دم بھر رہا تھا مرے حالات سے وہ ڈر رہا تھا خود اپنی ذات کو دھوکے دئے تھے گماں یہ ہے محبت کر رہا تھا اسے منزل کی حسرت کھا گئی ہے وہ جس کے ساتھ اک رہبر رہا تھا خدا جانے میں کیوں کر بچ گیا ہوں وہ مجھ پر وار پیہم ...

مزید پڑھیے

ان کے جور بے حد کو بھی خاموشی سے سہتا ہوں

ان کے جور بے حد کو بھی خاموشی سے سہتا ہوں جانے کن موہوم امیدوں کی رو میں میں بہتا ہوں تم کیا جانو ان باتوں سے تم تو دور ہی رہتے ہو میں جو باتیں تنہائی میں دل سے کرتا رہتا ہوں آج تمہارے پاس ہوں لیکن تم کو کوئی قدر نہیں کل تم خود سب سے پوچھو گے میں کس دیش میں رہتا ہوں زلف ہستی کو ...

مزید پڑھیے

جرأتوں حوصلوں امنگوں سے

جرأتوں حوصلوں امنگوں سے نعرۂ حق بلند کر پیارے جو تجھے کشت و خوں سے ملتی ہو اس مسرت پہ آہ بھر پیارے غم طرب خیز ہے کہ جاں لیوا اب یہ قصہ تمام کر پیارے ہاں ہر اک بات حسن رکھتی ہے اپنے اپنے مقام پر پیارے تو بھی عرفان آگہی پا لے تو بھی ہے صاحب نظر پیارے ہے تو مشکل مگر ہے امکاں ...

مزید پڑھیے

سکوں نصیب ہوا اور نہ کچھ قرار مجھے

سکوں نصیب ہوا اور نہ کچھ قرار مجھے خزاں ہی لگتا ہے یہ موسم بہار مجھے وہ آئیں بزم تصور میں بس یہ کافی ہے قسم خدا کی یہی ہے وصال یار مجھے یہ بے خودی بھی محبت کی اک امانت ہے خدا کے واسطے کیجے نہ ہوشیار مجھے سمجھ سکے نہ مرے غم کو آپ بھی اب تک یہی ہے غم جو رلاتا ہے زار زار مجھے یہ ...

مزید پڑھیے

اشک بہا لے آہیں بھر لے

اشک بہا لے آہیں بھر لے دل کے بوجھ کو ہلکا کر لے میں نے تجھ سے پیار کیا ہے جو بھی تجھے کرنا ہو کر لے اب وہ مجھ کو بھول گیا ہے ایسی بات کا کون اثر لے خوش کامی نایاب ہوئی ہے ناکامی سے جھولی بھر لے غم خواروں سے گھبراتا ہے ایسے دل کی کون خبر لے کل تو ماٹی ہو جائے گا جتنا چاہے آج سنور ...

مزید پڑھیے

دور تک جن کا کوئی نقش نہیں ہے یارو

دور تک جن کا کوئی نقش نہیں ہے یارو ایسے ہی قدموں پہ اپنی بھی جبیں ہے یارو ایک سودائے محبت کے سوا دنیا میں میرا سرمایۂ دل کچھ بھی نہیں ہے یارو ہم نے سر خم نہ کیا سنگ زنوں کے آگے بس اسی جرم پہ مجروح جبیں ہے یارو وہ بھی تنہائی میں روتا ہے مرے دل کی طرح جانے کیوں مجھ کو یہ رنگین یقیں ...

مزید پڑھیے

عشق میں ہو کے تر بہ تر جانا

عشق میں ہو کے تر بہ تر جانا دل کی خواہش ہے تجھ پہ مر جانا عشق یہ ہے نہیں تو پھر کیا ہے میرا چھونا ترا نکھر جانا تجھ کو دیکھے تو پھر یہ لازم ہے چاند کے چہرے کا اتر جانا یہ مرا دل ہے سنگ مرمر سا چاندنی بن کے تم بکھر جانا تو محبت کا آشیانہ تھا چھوڑ کر تجھ کو اے شجرؔ جانا

مزید پڑھیے
صفحہ 907 سے 4657