شاعری

سنا رہے ہیں وہ یوں اعتبار کے قصے

سنا رہے ہیں وہ یوں اعتبار کے قصے خزاں کے دور میں جیسے بہار کے قصے کہیں گے ہم بھی کبھی انتظار کے قصے تمہارا پیار شجر اور پیار کے قصے اداس لہجے میں کچھ شعر ہیں جو رومانی انہیں سمجھنا کہ سب ہیں ادھار کے قصے دلوں کی تہ میں صدا اشک ابلتے رہتے ہیں ہر ایک صحرا میں ہیں آبشار کے قصے یہ ...

مزید پڑھیے

کیوں کسی نے تمہیں روکا تو نہ تھا آ جاتے

کیوں کسی نے تمہیں روکا تو نہ تھا آ جاتے اور انجان بھی رستہ تو نہ تھا آ جاتے اس سے پہلے یہ بہانہ تو نہ تھا آ جاتے درمیاں اپنے زمانہ تو نہ تھا آ جاتے وہم ہے آپ کا ایسا تو نہ تھا آ جاتے بزم میں غیر کا چرچا تو نہ آ جاتے حال بیمار بھی اچھا تو نہ تھا آ جاتے زخم مجھ پر کوئی تازہ تو نہ تھا ...

مزید پڑھیے

اک نظر دیکھ لے تو ادھر زندگی

اک نظر دیکھ لے تو ادھر زندگی کیسے ہوتی ہے تجھ بن بسر زندگی اک صدی کی طرح عمر گزری مری زندگی تھی مگر مختصر زندگی ہاتھ سے ہاتھ چھوٹا ہے جب سے ترا ڈھونڈھتا ہوں تجھے در بدر زندگی روح سے دل سے رشتہ رہا ہی نہیں لوگ جیتے رہے جسم بھر زندگی سانس بوجھل ہوئی جسم بھی تھک گیا موت بولی کہ چل ...

مزید پڑھیے

خواہشوں کا مقام تھوڑی ہے

خواہشوں کا مقام تھوڑی ہے دل کا کوئی نظام تھوڑی ہے عمر ہے یہ مرض بھی ہونا ہے اب کوئی روک تھام تھوڑی ہے یوں ہی بس ہاں میں ہاں ملاتے ہیں آپ کا احترام تھوڑی ہے شاعری بے لباس اف توبہ بزم ہے یہ حمام تھوڑی ہے داد و تحسین سب اسی کی ہے میرا خود کا کلام تھوڑی ہے

مزید پڑھیے

کہیں کیا خندہ لب کیوں ہم ہیں یارو

کہیں کیا خندہ لب کیوں ہم ہیں یارو ہمارے پاس بھی کچھ غم ہیں یارو قتال غم تو لاکھوں مل رہے ہیں مگر کچھ ہی شہید غم ہیں یارو محبت میں بہ زعم جرأت دل ہم ان میں ہیں جو مستحکم ہیں یارو سیاست کے نشے میں اہل دانش شکار لغزش پیہم ہیں یارو ہماری مستیوں کا راز کیا ہے کہ جب مدت سے تشنہ ہم ہیں ...

مزید پڑھیے

خیالوں میں وفا اچھی لگی ہے

خیالوں میں وفا اچھی لگی ہے یہ جینے کی ادا اچھی لگی ہے جو اکثر پیار میں ہوتی ہے یارو مجھے تو وہ خطا اچھی لگی ہے ملی ہے جو محبت کی بدولت ہمیشہ وہ سزا اچھی لگی ہے بنی بیٹی جو دلہن باپ بولا ہتھیلی پر حنا اچھی لگی ہے میرے محبوب کی خوشبو جو لائی مجھے باد صبا اچھی لگی ہے

مزید پڑھیے

تیرے نزدیک ہی ہر وقت بھٹکتا کیوں ہوں

تیرے نزدیک ہی ہر وقت بھٹکتا کیوں ہوں تو بتا پھول کے جیسا میں مہکتا کیوں ہوں میں نہ راتوں کا ہوں جگنو نہ کوئی تارہ پر اس کی آنکھوں میں مگر پھر بھی چمکتا کیوں ہوں اس پہیلی کا کوئی حل تو بتاؤ یارو ہجر کی راتوں میں آتش سا دہکتا کیوں ہوں گھر بنایا ہے ترے دل میں اسی دن سے صنم ساری ...

مزید پڑھیے

دل کے نزدیک سے گزرو تو بتا کر جانا

دل کے نزدیک سے گزرو تو بتا کر جانا یہ بھی چاہت کی ہے اک رسم نبھا کر جانا تم مجھے چھوڑ کے جاتے ہو تو جاؤ لیکن اپنے بھیجے ہوئے خط سارے جلا کر جانا کیا بتاؤں گا جدائی کا سبب لوگوں کو جو حقیقت ہے زمانہ کو بتا کر جانا تاکہ تنہائی سے گھبراؤں تو باتیں کر لوں اپنی تصویر کو کمرے میں لگا ...

مزید پڑھیے

درد کے انقلاب سے ہارا

درد کے انقلاب سے ہارا ایک پتھر گلاب سے ہارا سب سوالوں نے خودکشی کر لی جب میں اس کے جواب سے ہارا کیا مرا درد بانچ لیتا جو آئنہ اک نقاب سے ہارا اس کو بھی جیت کا گمان رہے میں بھی کچھ اس حساب سے ہارا آخری سانس لے رہی تھی رات جب چراغ آفتاب سے ہارا

مزید پڑھیے

کوئی امید کا تارا کہاں سے ملتا ہے

کوئی امید کا تارا کہاں سے ملتا ہے یہ مفلسی کو سہارا کہاں سے ملتا ہے سوال یہ نہیں خنجر ہے کن کے ہاتھوں میں سوال ہے کہ اشارہ کہاں سے ملتا ہے کوئی جو ڈوب کے دیکھے تو جان پائے گا ہمیں پتہ ہے کنارہ کہاں سے ملتا ہے بتا اے زندگی ہر دم تجھے مری خاطر فقط غموں کا پٹارا کہاں سے ملتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 908 سے 4657