شاعری

خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے

خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے جسم کے تماشے میں روح پیاسی پیاسی ہے خواب اور تمنا کا کیا حساب رکھنا ہے خواہشیں ہیں صدیوں کی عمر تو ذرا سی ہے راہ و رسم رکھنے کے بعد ہم نے جانا ہے وہ جو آشنائی تھی وہ تو نا شناسی ہے ہم کسی نئے دن کا انتظار کرتے ہیں دن پرانے سورج کا شام باسی باسی ...

مزید پڑھیے

کھونٹیوں پر خامشی لٹکائی ہے

کھونٹیوں پر خامشی لٹکائی ہے الگنی پر سوکھتی تنہائی ہے چاند کی اجلی ڈلی برگد تلے ہجر کی ست آسماں لے آئی ہے درد کی اک چپچپاتی گوند میں ڈیوڑھیوں تک چپ کی چھٹی آئی ہے اونچے لمبے ان ستونوں کے تلے ڈولتی ٹھنڈی ہوا سودائی ہے نیند کے خوابی پپوٹوں کے تلے پھانس سی چبھتی ہوئی پروائی ...

مزید پڑھیے

تنہائی نے پھر بزم سجا لی ہے تو کیا ہے

تنہائی نے پھر بزم سجا لی ہے تو کیا ہے چپ نے جو کہیں آگ جلالی ہے تو کیا ہے لو خاک نشینان بیابان چلے پھر منزل نے مری پیاس بجھا لی ہے تو کیا ہے شاید رگ جاں توڑ کے نکلی ہے تمنا خوابوں نے کوئی بزم سجا لی ہے تو کیا ہے پھر عکس بجھا جاتا ہے سورج کی ضیا سے آئینے سے وہ دھول اٹھا لی ہے تو کیا ...

مزید پڑھیے

ایک چپ کھائے گئی ہے مجھ کو

ایک چپ کھائے گئی ہے مجھ کو آگہی ڈھائے گئی ہے مجھ کو زندگی میرے سنورنے کے لیے درد پہنائے گئی ہے مجھ کو بے خودی آپ تلک لائی تھی سو وہی لائے گئی ہے مجھ کو آپ نے راکھ کیا اڑنے کو خاک دفنائے گئی ہے مجھ کو میرے ادراک کی مجبوری سے بات بہلائے گئی ہے مجھ کو چاند اس طور سے اترا شب ...

مزید پڑھیے

ثواب کی دعاؤں نے گناہ کر دیا مجھے

ثواب کی دعاؤں نے گناہ کر دیا مجھے بڑی ادا سے وقت نے تباہ کر دیا مجھے منافقت کے شہر میں سزائیں حرف کو ملیں قلم کی روشنائی نے سیاہ کر دیا مجھے مرے لیے ہر اک نظر ملامتوں میں ڈھل گئی نہ کچھ کیا تو حیرت نگاہ کر دیا مجھے خوشی جو غم سے مل گئی تو پھول آگ ہو گئے جنون بندگی نے خود نگاہ کر ...

مزید پڑھیے

قطرہ قطرہ بکھر رہا ہے کوئی

قطرہ قطرہ بکھر رہا ہے کوئی بس کرو ہجر مر رہا ہے کوئی کوئی اب کس طرح بتائے اسے تجھ سے امید کر رہا ہے کوئی اپنے زخموں کی بد مزاجی میں پٹریوں سا اکھڑ رہا ہے کوئی گرد ہوتی ہوئی صداؤں سے خامشی سے نتھر رہا ہے کوئی اپنی سانسوں کے خالی برتن میں مستقل پیاس بھر رہا ہے کوئی دیکھ چہرہ ...

مزید پڑھیے

خاطر حال مدارت نہیں کی جائے گی

خاطر حال مدارت نہیں کی جائے گی ہم سے اس طور محبت نہیں کی جائے گی روئیں گے سینۂ افلاک کے چاک ہونے تک اس قدر ہم سے مروت نہیں کی جائے گی کس طرح خواب کا امکان زیاں کم ہوگا آپ سے کشف و کرامت نہیں کی جائے گی سانحے خاک نے پھر باندھے مرے دامن سے دل سے اس درجہ صعوبت نہیں کی جائے گی ہم ...

مزید پڑھیے

مایوسیٔ نگاہ کا قائل نہیں رہا

مایوسیٔ نگاہ کا قائل نہیں رہا یعنی تمہاری راہ کا قائل نہیں رہا جب میں گناہ عشق کا پابند ہو گیا تب سے کسی گناہ کا قائل نہیں رہا ترک تعلقات کا افسوس ہے مگر تجدید رسم و راہ کا قائل نہیں رہا جس میں سوائے وعدۂ فردا کے کچھ نہ ہو ایسی کسی نگاہ کا قائل نہیں رہا لب ہائے صبح و شام سدا ...

مزید پڑھیے

زندگی دھوپ میں بسر کی ہے

زندگی دھوپ میں بسر کی ہے بات لمبی تھی مختصر کی ہے آ ہی جائے گا اپنے مطلب پہ بات پہلے ادھر ادھر کی ہے سانپ دیکھے ہیں آستینوں میں کیسی منزل یہ آج سر کی ہے رنج کو مجھ پہ جو تصرف ہے ایسا لگتا ہے بات گھر کی ہے درمیاں کوئی راستہ ہی نہیں بات اک دوسرے کے سر کی ہے ایک تصویر کی طرح چپ ...

مزید پڑھیے

تم سناؤ گے نویدیں کتنی

تم سناؤ گے نویدیں کتنی ہم کو تم سے تھی امیدیں کتنی ہم ہی مقروض تمہارے ٹھہرے گھر میں رکھیں ہیں رسیدیں کتنی کتنا باندھوگے ہوا میں گیسو کہہ بھی دو اور تمہیدیں کتنی میزباں گھر کی ہوئی ہے مہماں جان اک جاں سے کشیدیں کتنی خاک اب ہوگی کھلونوں کی قضا گو دکانیں ہی خریدیں کتنی

مزید پڑھیے
صفحہ 906 سے 4657