خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے
خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے جسم کے تماشے میں روح پیاسی پیاسی ہے خواب اور تمنا کا کیا حساب رکھنا ہے خواہشیں ہیں صدیوں کی عمر تو ذرا سی ہے راہ و رسم رکھنے کے بعد ہم نے جانا ہے وہ جو آشنائی تھی وہ تو نا شناسی ہے ہم کسی نئے دن کا انتظار کرتے ہیں دن پرانے سورج کا شام باسی باسی ...