شاعری

قطرے کو تم دریا کر دو

قطرے کو تم دریا کر دو مجھ کو اپنے جیسا کر دو دل میں اپنا پیار جگا کر کاش محبت والا کر دو مجھ کو اپنا کہہ کر سب سے میرے پیچھے دنیا کر دو ایسی آندھی پیار کی بھیجو دل کا گلشن صحرا کر دو تیرے سوا میں کچھ بھی نہ دیکھوں آنکھ پہ ایسا پردا کر دو دھڑکن آہیں سب ہیں سونی سانسوں کو بھی ...

مزید پڑھیے

مری مشکل کا حل نہیں ملتا

مری مشکل کا حل نہیں ملتا پھول کھلتے ہیں پھل نہیں ملتا چند روزہ حیات دنیا میں چین کا ایک پھل نہیں ملتا جن کے دل میں ہزار شکوے ہیں ان کے ماتھے پہ بل نہیں ملتا اور سب کچھ ہے تیری آنکھوں میں ایک سوز غزل نہیں ملتا اتفاقاً اگر بچھڑ جائے آدمی کا بدل نہیں ملتا میرا اپنا مزاج ہے ...

مزید پڑھیے

فرشتوں سے محبت کر رہے ہیں

فرشتوں سے محبت کر رہے ہیں جوانی میں عبادت کر رہے ہیں وہ اب کھل کر عنایت کر رہے ہیں شرارت باجماعت کر رہے ہیں فقیروں کو امیری مل گئی ہے زمیں پر بادشاہت کر رہے ہیں خداوندا تیرے معصوم بندے وفا کی پھر حماقت کر رہے ہیں ہماری راہ میں کانٹے بچھا کر ستم وہ حسب عادت کر رہے ہیں نظر آ کر ...

مزید پڑھیے

محفل میں اگر ساقیٔ گلفام نہیں ہے

محفل میں اگر ساقیٔ گلفام نہیں ہے رندوں کو مئے و جام سے کچھ کام نہیں ہے آرام سے ہیں اور سبھی لوگ جہاں میں ہم عشق کے ماروں کو ہی آرام نہیں ہے اے راہروے راہ محبت یہ سمجھ لے اس راہ میں راحت کا کہیں نام نہیں ہے لذت کش آغاز محبت ہے ابھی دل دیوانے کو اندیشۂ انجام نہیں ہے کیا آئے گا وہ ...

مزید پڑھیے

گردش غم تمام ہو کہ نہ ہو

گردش غم تمام ہو کہ نہ ہو زندگی شاد کام ہو کہ نہ ہو پھر یہ فرصت ہمیں ملے نہ ملے پھر یہ رنگین شام ہو کہ نہ ہو ہم کو ہے پاس وضع اہل جنوں آپ کو احترام ہو کہ نہ ہو دیکھ تو لے نگاہ الفت سے ہم سے تو ہم کلام ہو کہ نہ ہو زندگی میں ہی نام پیدا کر بعد مرنے کے نام ہو کہ نہ ہو تلخئ غم ہے مستقل ...

مزید پڑھیے

قلب الم نصیب کی تشنہ لبی بجھائے جا

قلب الم نصیب کی تشنہ لبی بجھائے جا اے میرے ساقیا مجھے شام و سحر پلائے جا اے دل بے قرار سن رونے سے فائدہ ہے کیا جس نے بھلا دیا تجھے تو بھی اسے بھلائے جا برسر بام آ کے تو پردۂ رخ ہٹا ذرا ہم بھی ہیں صاحب نظر ہم کو بھی آزمائے جا ذوق طلوع صبح بھی دے گی یہ تیرگی تجھے رات طویل ہے تو کیا ...

مزید پڑھیے

جب شب فرقت کی تاریکی سے گھبراتا ہوں میں

جب شب فرقت کی تاریکی سے گھبراتا ہوں میں تیری یادوں سے دل مضطر کو بہلاتا ہوں میں جب کسی زہرا جبیں کو سامنے پاتا ہوں میں ہوش کی ہر دسترس سے دور ہو جاتا ہوں میں آرزوئیں لاکھ ہوتی ہیں مرے دل میں مگر سامنے آتے ہو جب تم کچھ نہ کہہ پاتا ہوں میں سست رو ہوتی ہے جب راہ طلب میں جستجو شعلۂ ...

مزید پڑھیے

دل بیتاب کا پیام لیا

دل بیتاب کا پیام لیا پھر کسی نے مرا سلام لیا روٹھ کر ہم سے تو نے اے ظالم کس خطا کا ہے انتقام لیا ہو کے مجبور جوش الفت سے ہم نے دامن کسی کا تھام لیا پھول جھڑنے لگے زباں سے مری جب کسی گل بدن کا نام لیا کام آئے نہ عقل و ہوش جہاں ہم نے دیوانگی سے کام لیا ڈگمگاتے ہوئے مرے دل کو اس ...

مزید پڑھیے

بہ فیض گردش ایام ہم کو

بہ فیض گردش ایام ہم کو کسی صورت نہیں آرام ہم کو سکوں دشمن جنوں پرور ارادو نہ کر دینا کہیں بدنام ہم کو فسردہ خلوتوں میں یاد آ کر رلاتے ہیں وہ صبح و شام ہم کو اٹھا اے مطربا ساز محبت پلا اے ساقیٔ گلفام ہم کو نہ ہم کو زندگی کی ہے ضرورت نہ دنیا سے ہے کوئی کام ہم کو کسی کی بے وفائی کے ...

مزید پڑھیے

رہ طلب میں نہ کر اس طرح خراب مجھے

رہ طلب میں نہ کر اس طرح خراب مجھے ٹھہرنے دے کہیں اے چشم انتخاب مجھے بلا رہا ہے کہیں عشق سوئے دار و رسن پکارتا ہے کہیں حس بے نقاب مجھے میں ایک ذرۂ ناچیز ہی سہی لیکن نگاہ والے سمجھتے ہیں آفتاب مجھے بس ایک جرم محبت پہ اس ستم گر نے دئے ہیں شام و سحر سیکڑوں عذاب مجھے لٹی لٹی سی شب غم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 864 سے 4657