شاعری

پھولوں کے روبرو تھا ستاروں کے سامنے

پھولوں کے روبرو تھا ستاروں کے سامنے وہ شخص جل رہا تھا ہزاروں کے سامنے میں ذات کے غلام جزیرے میں قید تھا چرچا مری انا کا تھا یاروں کے سامنے چہرے بہت حسیں تھے مگر دل بہت اداس منظر دھواں دھواں تھے بہاروں کے سامنے باتیں ہمارے پیار کی شعلہ بیان تھیں تنکوں کے آشیاں تھے شراروں کے ...

مزید پڑھیے

رات دن گزرتی ہے میری زندگی تنہا

رات دن گزرتی ہے میری زندگی تنہا جیسے صحن گلشن میں ہو کہیں کلی تنہا پہلے تیرے جلووں کے ساتھ ساتھ آتی تھی آ گئی مرے لب پر آج کیوں ہنسی تنہا موند لیں ستاروں نے تھک کے خود بہ خود آنکھیں چاند کیوں لٹاتا ہے اپنی چاندنی تنہا آج ایک مدت پر وہ مجھے نظر آئے راہ میں ملے جیسے کوئی اجنبی ...

مزید پڑھیے

دشت جنوں میں جلوۂ خوباں کی جستجو

دشت جنوں میں جلوۂ خوباں کی جستجو کتنی عجیب ہے دل ناداں کی جستجو گزری تھی زلف یار سے ہو کر نسیم شوق اب تک ہے اس کی بوئے پریشاں کی جستجو حیرت زدہ ہوں دیکھ کے یہ انقلاب نو ہے شاخ گل کو آج گلستاں کی جستجو لیجے فنا کا درس پتنگوں کی خاک سے آساں نہیں ہے شمع فروزاں کی جستجو شبنمؔ کی ...

مزید پڑھیے

اتنا بھی ہو نہ ذوق تجسس نگاہ میں

اتنا بھی ہو نہ ذوق تجسس نگاہ میں حائل رہیں خود آپ ہمیں اپنی راہ میں ہونے کو کیا نہیں ہے تمہاری نگاہ میں لیکن وہ ایک چیز جو ہوتی ہے آہ میں توبہ کی راحتیں نہیں میرے گناہ میں کس درجہ آ گئی ہے بلندی نگاہ میں حالانکہ منزلیں بھی نئی عزم بھی نیا ملتے ہیں میرے نقش قدم مجھ کو راہ میں بس ...

مزید پڑھیے

اعتماد عشق کو کیوں رائیگاں سمجھا تھا میں

اعتماد عشق کو کیوں رائیگاں سمجھا تھا میں ان کے جلوے بھی وہیں نکلے جہاں سمجھا تھا میں ایک پسندیدہ گرفتاری تھی آزادی نہ تھی ایک قفس تھا وہ بھی جس کو آشیاں سمجھا تھا میں کس قدر طعنے دئے ہیں ہمت پرواز نے سوچتا ہوں کیوں قفس کو آشیاں سمجھا تھا میں اے معاذ اللہ مفہوم وفا کی ...

مزید پڑھیے

پہنچ گیا جو تصور کسی کی محفل تک

پہنچ گیا جو تصور کسی کی محفل تک چراغ جل گئے گویا نگاہ سے دل تک وہ اجنبی سی نگاہیں اتر گئیں دل تک مسافر آ گئے بھولے سے اپنی منزل تک ہجوم حسرت و ارماں کا ذکر اور دل تک پہنچ سکا نہ کوئی اپنے ساتھ منزل تک دعا ملی تھی تباہی کی جن سفینوں کو وہ لوٹ آئے ہیں طوفاں کو لے کے ساحل تک وہ جن ...

مزید پڑھیے

ظلم سہ کر انہیں حسرت سے تکا کرتے ہیں

ظلم سہ کر انہیں حسرت سے تکا کرتے ہیں ہم نگاہوں سے بھی فریاد کیا کرتے ہیں مجھ سے یہ کہہ کے وہ تاویل جفا کرتے ہیں ہم تجھے خوگر تسلیم و رضا کرتے ہیں غم میں ہم عیش کو یوں جلوہ نما کرتے ہیں درد کو درد کی لذت میں فنا کرتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ غم سے ہو خوشی کی تکمیل اشک بھی جوش مسرت میں ...

مزید پڑھیے

جنوں ہے تو قفس کب تک قفس کی تیلیاں کب تک

جنوں ہے تو قفس کب تک قفس کی تیلیاں کب تک نہ آئے گی ادھر آخر ہوائے گلستاں کب تک رہے گی میرے دم سے گرمیٔ بزم جہاں کب تک فغاں پر ناز ہے مجھ کو مگر تاب فغاں کب تک مرا افسانۂ ہستی ہے افسانہ در افسانہ سنے گا کوئی میری زندگی کی داستاں کب تک بدل دے خود نظام دہر کو گر تجھ میں ہمت ہے کرے گا ...

مزید پڑھیے

تسکین اضطراب تمنا نہ کیجئے

تسکین اضطراب تمنا نہ کیجئے مجھ سے جدا ابھی مری دنیا نہ کیجئے دیوانۂ فریب تمنا نہ کیجئے میری طرف سے مجھ کو پکارا نہ کیجئے کچھ دور چلنے دیجئے اب خود ہی عشق کو ہر ہر قدم پہ آپ اشارا نہ کیجئے دل کے سوا تمام کتاب حیات میں اک لفظ بھی نہیں جسے افسانہ کیجئے اٹھتے ہیں جب جنوں میں ...

مزید پڑھیے

احساس غم میں آج وہ یوں جلوہ گر ہوا

احساس غم میں آج وہ یوں جلوہ گر ہوا رہ رہ کے مجھ کو دل پہ گمان نظر ہوا اتنا قریب ہو کے کوئی جلوہ گر ہوا یہ بھی خبر نہیں کہ میں کب بے خبر ہوا گزرا ہے یوں زمانے سے بیگانہ ہو کے عشق غم کا اثر ہوا نہ خوشی کا اثر ہوا میرے قفس تک آ نہ سکا کوئی انقلاب مجھ کو تو آج تک نہ غم بال و پر ہوا منزل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 825 سے 4657