شاعری

للہ کوئی کوشش نہ کرے الفت میں مجھے سمجھانے کی

للہ کوئی کوشش نہ کرے الفت میں مجھے سمجھانے کی جلنے کے علاوہ اور کوئی منزل ہی نہیں پروانے کی ڈرنے کو تو کتنے ڈرتے ہیں رسوائی سے وہ دیوانے کی اک حد تو مقرر کر دیتے زلفوں کے لیے لہرانے کی نظریں تو ملاتی تھیں ان سے کچھ بات نہ تھی گھبرانے کی اے عشق مگر ہم چوک گئے یہ چوٹ تھی دل پر ...

مزید پڑھیے

یہ آخری زحمت ہے ذرا اور ٹھہر جائیں

یہ آخری زحمت ہے ذرا اور ٹھہر جائیں بیمار ادھر جائے تو پھر آپ ادھر جائیں یوں ظلمت شب میں چمک اٹھتے ہیں ستارے جس طرح سے معصوم بھری نیند میں ڈر جائیں اچھا تیری محفل سے چلے جاتے ہیں لیکن یہ اور بتا دے کہ کہاں جائیں کدھر جائیں اے دست جنوں دیدۂ خوں بار کی سننا دامن میں جو موتی ہیں ...

مزید پڑھیے

راہ میں حائل نہ ہو جاتے اگر دیر و حرم

راہ میں حائل نہ ہو جاتے اگر دیر و حرم اور شاید دور تک ملتے ترے نقش قدم عشق میں فرق مراتب کو کبھی بھولے نہ ہم اپنی خاطر آہ و زاری ان کی خاطر ضبط غم جب بھی ہاتھ آئی بقدر ظرف ہی ثابت ہوئی پی کے دیکھی ہے زیادہ سے زیادہ کم سے کم کر لیا ہے میں نے ہر اک حادثے کا تجزیہ مسکرانے سے مسرت بن ...

مزید پڑھیے

سر بزم میری نظر سے جب وہ نگاہ ہوش ربا ملی

سر بزم میری نظر سے جب وہ نگاہ ہوش ربا ملی کبھی زندگی کا مزہ ملا کبھی زندگی کی سزا ملی کئی منزلوں سے گزر گئے تو ہمیں یہ راہ وفا ملی کہیں دل ملا کہیں درد دل کہیں درد دل کی دوا ملی تمہیں یاد ہے مرے ساتھیو کہ بچھڑ گئے تھے وہیں سے ہم تمہیں درد دل کی دوا ملی مجھے درد دل کی دعا ملی نہ ...

مزید پڑھیے

جب اٹھایا ہے جام شراب کہن

جب اٹھایا ہے جام شراب کہن پڑ گئی عصر نو کی جبیں پر شکن دیکھ کر رہرو عشق کے بانکپن کھو گئے رہ نما لٹ گئے راہزن کچھ تو دو فن کو للہ اے اہل فن زندگی ارتقا سادگی بانکپن رہ نما رہ نما راہزن راہزن ان کے بس کا نہیں اپنا دیوانہ پن کیا خبر کل ہماری جگہ کون ہو ہوشیار اے خدایان دار و ...

مزید پڑھیے

گل یاد نہ امواج نسیم سحری یاد

گل یاد نہ امواج نسیم سحری یاد کچھ بھی نہیں جز عالم بے بال و پری یاد خورشید سحر عارض مہتاب کا عالم نظروں کو ابھی تک ہے تری جلوہ گری یاد سوئے حرم و دیر کبھی رخ نہ کریں گے جن کو مرے ساقی کی ہے رنگیں نظری یاد جلووں کا تقاضا نہیں کرتی نظر ان کی رہتی ہے جنہیں حسن کی دیوانہ گری یاد یہ ...

مزید پڑھیے

جو کیف عشق سے خالی ہو زندگی کیا ہے

جو کیف عشق سے خالی ہو زندگی کیا ہے شگفتگی نہ ملے جس میں وہ کلی کیا ہے مری نگاہ میں ہے ان کا عارض روشن یہ کہکشاں یہ ستارے یہ چاندنی کیا ہے جمال یار کی رعنائیوں میں گم ہے نظر مجھے یہ ہوش کہاں ہے کہ زندگی کیا ہے اٹھا بھی جام کہ دنیا ترے قدم چومے یہ مے کدہ ہے یہاں عیش کی کمی کیا ...

مزید پڑھیے

سنا کے رنج و الم مجھ کو الجھنوں میں نہ ڈال

سنا کے رنج و الم مجھ کو الجھنوں میں نہ ڈال تھکن کا خوف مرے عزم کی رگوں میں نہ ڈال میں اس جہان کو کچھ اور دینا چاہتا ہوں تو کار وقت کے پر ہول چکروں میں نہ ڈال ملول دیکھ کے تجھ کو میں رک نہ جاؤں کہیں خدارا! ہجر کی شدت کو آنسوؤں میں نہ ڈال تری بھلائی کی خاطر مجھے اتارا گیا مجھے لپیٹ ...

مزید پڑھیے

اے جنوں وہ گل کھلا سارا چمن دیکھا کرے

اے جنوں وہ گل کھلا سارا چمن دیکھا کرے جب گریباں چاک ہو جائے بہار آیا کرے زلف جاناں جب سنورنے کے لئے ترسا کرے ابر رحمت ہم گنہ گاروں پہ کیا سایا کرے آنکھ کھول اے محو خود بینی کہیں ایسا نہ ہو آئینہ خانوں میں آئینوں سے ٹکرایا کرے دیکھ کر کالی گھٹائیں ہوش کھو دیتے ہیں لوگ اپنے گیسو ...

مزید پڑھیے

ہم ان سے کر گئے ہیں کنارا کبھی کبھی

ہم ان سے کر گئے ہیں کنارا کبھی کبھی دل ہو گیا ہے جان سے پیارا کبھی کبھی راتوں کی خامشی میں مرے دل پہ رکھ کے ہاتھ لیتی ہے کائنات سہارا کبھی کبھی اس طرح بھی وہ آتے ہیں آغوش شوق میں گرتا ہے جیسے ٹوٹ کے تارا کبھی کبھی میں نے جہان شوق کو بے جذبۂ نمود اپنے ہی دیکھنے کو سنوارا کبھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 826 سے 4657