للہ کوئی کوشش نہ کرے الفت میں مجھے سمجھانے کی
للہ کوئی کوشش نہ کرے الفت میں مجھے سمجھانے کی جلنے کے علاوہ اور کوئی منزل ہی نہیں پروانے کی ڈرنے کو تو کتنے ڈرتے ہیں رسوائی سے وہ دیوانے کی اک حد تو مقرر کر دیتے زلفوں کے لیے لہرانے کی نظریں تو ملاتی تھیں ان سے کچھ بات نہ تھی گھبرانے کی اے عشق مگر ہم چوک گئے یہ چوٹ تھی دل پر ...