شاعری

مرے غیاب میں جس نے ہنسی اڑائی مری

مرے غیاب میں جس نے ہنسی اڑائی مری کسی نے کیا اسے حالت نہیں بتائی مری کشش کا رد کشش ہے عمل کا رد عمل بدن سے لمحہ بہ لمحہ گریز پائی مری میں ایک بار سمندر کو جاتا دیکھا گیا پھر اس کے بعد کہیں سے خبر نہ آئی مری الگ نہ کر سکا اب تک میں اس کے اجزا کو بعید کیا ہے کہ حیرت ہو کیمیائی ...

مزید پڑھیے

دن ہوا اور روشنی ہی نہیں

دن ہوا اور روشنی ہی نہیں چاند نکلا تو چاندنی ہی نہیں بیچ جنگل میں راہ بھولی تھی لوٹ کر گھر کبھی گئی ہی نہیں حال اور ماضی ایک جیسے ہیں وقت سے میری دوستی ہی نہیں میری آنکھوں کو لے اڑا بادل ایسی بارش ہوئی تھمی ہی نہیں بے سہارا تھکن ہے اور میں ہوں منزل عشق تک چلی ہی نہیں کچھ ...

مزید پڑھیے

حرف کے پھول چن کے لاتے تھے

حرف کے پھول چن کے لاتے تھے روز تازہ غزل سناتے تھے درد کی صورتوں میں اک گھر تھا اس کی ویرانیاں سجاتے تھے زندگی ڈایری میں لکھتے تھے اور پھر ڈایری جلاتے تھے اک شجر تھا جو اس کے جیسا تھا اس کو ہم حال دل سناتے تھے اب اندھیرے میں بیٹھے رہتے ہیں پہلے اکثر دیے جلاتے تھے اس کے لہجے کی ...

مزید پڑھیے

دستک ہوئی تو سر پہ دوپٹا سنبھل گیا

دستک ہوئی تو سر پہ دوپٹا سنبھل گیا چھوٹا سا اک چراغ مرے دل میں جل گیا جاتے ہوئے رکا ہی نہیں ایک پل بھی وہ سارے ستارے پاؤں کے نیچے کچل گیا تانبے کی ٹکڑیاں سی بکھرتی چلی گئیں پھر دیکھتے ہی دیکھتے سورج پگھل گیا بارش کی بوند بوند کو ترسا ہوا تھا شہر آنچل ہوا کا تھام کے بادل نکل ...

مزید پڑھیے

ذہانت نے نئی دنیا کی بوطیقا مرتب کی

ذہانت نے نئی دنیا کی بوطیقا مرتب کی کہانی حاشیے پر جا چکی شاعر کے منصب کی تری یہ گول دنیا تو کنواں ہے موت کا یا رب میں چکرایا توازن میں تو پائی داد کرتب کی نہ جانے آنکھ نے کیا دیکھ کر توسیع اسے دی ہے وگرنہ خواب کی مدت تو پوری ہو چکی کب کی صبا خوشبو کو آندھی گرد کو آگے بڑھاتی ...

مزید پڑھیے

یہ کائناتی ذہانت کا دور ہے بھائی

یہ کائناتی ذہانت کا دور ہے بھائی یہاں خدا کا تصور کچھ اور ہے بھائی سناؤ کیسے ہو کیسے ہیں چاند پر حالات زمین پر تو وہی ظلم و جور ہے بھائی کوئی پلک بھی جھپکتا نہیں تماشے میں مداریوں کا طلسمانہ طور ہے بھائی وطن کی صبح سے ہجرت کی رات دور نہیں حرا سے چند قدم غار ثور ہے بھائی تمہیں ...

مزید پڑھیے

ایک تتلی کے پر مارنے سے ہواؤں کی لہروں میں طوفان پیدا ہوا

ایک تتلی کے پر مارنے سے ہواؤں کی لہروں میں طوفان پیدا ہوا کیسے چھوٹے وقوعے سے کتنے بڑے اک وقوعے کا امکان پیدا ہوا شر پسندی کا شعلہ دلوں تک جو پہنچا تو جل کر شبیہیں فنا ہو گئیں نذر آتش ہوئیں آئنوں کی دکانیں تو حیرت کا بحران پیدا ہوا اول اول یہ کردار مذکور تھا زندگی کی پرانی ...

مزید پڑھیے

کہیں شب کے کینوس پر نیا دن ابھر رہا ہے

کہیں شب کے کینوس پر نیا دن ابھر رہا ہے مرا داغ نارسائی مرا نقش بن گیا ہے میں چلا ہوں جنگلوں سے کسی باغ آتشیں تک مرا زاد خار و خس ہے مرا رنگ اڑا ہوا ہے جو ہے بزم ہم سے خالی وہ رہے گی غم سے خالی جو جگہ خوشی سے پر ہے وہ ہمارا ہی خلا ہے ابھی دیکھئے گا ہر سو مرا خاک بوس ہونا کہ ہوائیں چل ...

مزید پڑھیے

جاں کبھی دن سے کبھی رات سے ٹکراتی ہے

جاں کبھی دن سے کبھی رات سے ٹکراتی ہے ایک کشتی کئی خطرات سے ٹکراتی ہے دل کی مڈبھیڑ تری یاد سے ہوتی ہے کہیں تیرگی نور کے ذرات سے ٹکراتی ہے ایک حالت کا کوئی حال نہیں ہے مجھ میں ایک حالت ہے کہ حالات سے ٹکراتی ہے آہ کے چیتھڑے آفاق میں اڑتے ہیں کہیں بے کسی ارض و سماوات سے ٹکراتی ...

مزید پڑھیے

قباحت ایسی بھی کیا ہے نظر نہ آنے میں

قباحت ایسی بھی کیا ہے نظر نہ آنے میں کہ دن گزار دیں لوگوں سے منہ چھپانے میں کھڑے ہوئے تھے کہیں وقت کے کنارے پر پھسل کے جا گرے اک اور ہی زمانے میں تو اتنے فالتو ہو جاتے ہیں یہ خواب اک دن کہ پھینک دیتے ہیں ان کو کباڑ خانے میں یہ ایک عمر میں جانا یقینی کچھ بھی نہیں بقایا عمر کٹی پھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 760 سے 4657