نہ خراب ہوتا میں دھوپ میں نہ اندھیری رات میں گھومتا
نہ خراب ہوتا میں دھوپ میں نہ اندھیری رات میں گھومتا تو جو ساتھ ہوتا تو اور ہی کسی کائنات میں گھومتا ترے زرد خطے میں خاک اڑانے سے وقت ملتا اگر کبھی تو میں زندگی ترے سبز پوش علاقہ جات میں گھومتا یہ حجاب ہٹتا نگاہ سے یہ غبار چھٹتا جو راہ سے میں تری نشانیاں دیکھتا میں عجائبات میں ...