شاعری

ریت سے آندھیوں کا جھگڑا تھا

ریت سے آندھیوں کا جھگڑا تھا سانس در سانس دم الجھتا تھا وہ اکیلا ہی بھیڑ جیسا تھا وہ مرے چاروں اور چلتا تھا کھیل کھیلا چھپن چھپائی کا چھپنے والا کبھی نہ ملتا تھا اس برس ڈھ گئی ہیں دیواریں پچھلی بارش میں مور ناچا تھا سرخ جوڑا خرید لائی ماں جانے کن لکڑیوں میں جلنا تھا رات ...

مزید پڑھیے

یہ دستک اور یہ در میرا نہیں ہے

یہ دستک اور یہ در میرا نہیں ہے اب اس بستی میں گھر میرا نہیں سفر ہے اور ہی درپیش مجھ کو یہ مشت خاک گھر میرا نہیں ہے میں کس بارود میں بکھری پڑی ہوں یہ دھڑ میرا ہے سر میرا نہیں ہے مجھے میرے حوالے کر گیا ہے تو کیا ہے وہ اگر میرا نہیں ہے یہ کس آنگن میں جھکتا جا رہا ہے شجر میرا ہے گھر ...

مزید پڑھیے

ندی کو روک سکی تو ڈھلان باندھوں گی

ندی کو روک سکی تو ڈھلان باندھوں گی میں اپنی ناؤ پہ خود بادبان باندھوں گی یہ ابر برسا تو دھرتی غروب کر دے گا میں اپنی اوڑھنی میں آسمان باندھوں گی میں گر گئی تری دستار کو سنبھالنے میں روایتوں کو میں شایان شان باندھوں گی وہ میرے گھر کی ہر اک چیز توڑ دیتا ہے میں دل سے درد کی بوجھل ...

مزید پڑھیے

عجب ہوا کہ مجھے موت سے حیات ہوئی

عجب ہوا کہ مجھے موت سے حیات ہوئی جب اس کی ذات میں تحلیل میری ذات ہوئی ہر ایک لفظ ستارے میں ہو گیا تبدیل تمام رات مری آسماں سے بات ہوئی سجا دئے تھے منڈیروں پہ بیقرار چراغ درون رات مجھے اور ایک رات ہوئی ہری رتوں میں ہمیں شاخ شاخ دیکھنا تم وہ پھول پھول کھلا میں بھی پات پات ...

مزید پڑھیے

چھوٹی سی اک اڑان بھری اور بکھر گیا

چھوٹی سی اک اڑان بھری اور بکھر گیا چڑیا کا بوٹ پنکھے سے ٹکرا کے مر گیا سرما کی چاندنی تھی جوانی گزر گئی جھلسا رہی ہے دھوپ بڑھاپا ٹھہر گیا تا صبح جھلملائی مرے آنسوؤں میں شب بجھتا ہوا چراغ ستاروں سے بھر گیا پنہاریوں نے گاگروں میں نیر بھر لیے چڑھتی ندی کا مست بہاؤ اتر گیا آواز ...

مزید پڑھیے

دن ہوا جیسے روشنی ہی نہیں

دن ہوا جیسے روشنی ہی نہیں چاند نکلا تو چاندنی ہی نہیں بیچ جنگل میں راہ بھولی تھی لوٹ کر گھر کبھی گئی ہی نہیں حال اور ماضی ایک جیسے ہیں وقت سے میری دوستی ہی نہیں میری آنکھوں کو لے اڑا بادل ایسی بارش ہوئی تھمی ہی نہیں بے سہارا تھکن ہے اور میں ہوں منزل عشق تک چلی ہی نہیں کچھ ...

مزید پڑھیے

ڈوب کر ابھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

ڈوب کر ابھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے رات کے گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے چنریوں میں چوڑی میں رنگ کتنے بھاتے ہیں رنگ کے اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے ماں کے پیٹ میں بچہ روم روم بڑھتا ہے آدمی کو مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے گھر کو گھر بنانے میں عمر بیت جاتی ہے پھر مکان گرنے میں دیر کتنی ...

مزید پڑھیے

ایک رشتہ بنا رہا ہے مجھے

ایک رشتہ بنا رہا ہے مجھے ایک رشتہ مٹا رہا ہے مجھے یہ دیا چپ نہیں رہا شب بھر اک کہانی سنا رہا ہے مجھے اب مجھے کیل سے لٹکنا ہے پینٹنگ سی بنا رہا ہے مجھے اشک آنکھوں میں ریت سانسوں میں عشق کیا کیا سکھا رہا ہے مجھے آگ کا راگ ہے اسے مت چھیڑ بے خبر کیوں جلا رہا ہے مجھے لوک دھن جیسی ...

مزید پڑھیے

پھر کبھی خواب نہ آئے وہ سہانے والے

پھر کبھی خواب نہ آئے وہ سہانے والے میں سمجھتی تھی کہ پھر آئیں گے جانے والے گھر سے نکلے تو ملا اجنبی چہروں کا ہجوم جھڑ گئے پھول بھی شاخوں سے پرانے والے ہم ہیں ٹوٹی ہوئی اک شاخ گل زرد مگر ہم کو گلدان میں رکھیں گے زمانے والے ہم کوئی چاند ستارے ہیں فلک پر چمکیں ہم وہ آنسو ہیں جو مٹی ...

مزید پڑھیے

یہ غم رہے نہ رہے غم نگاری رہ جائے

یہ غم رہے نہ رہے غم نگاری رہ جائے ہمارے بعد بھی حالت ہماری رہ جائے یہ پھول جھڑنے سے بچ جائیں منجمد ہو کر شجر پہ یوں ہی اگر برف باری رہ جائے خواص اور بھی معلوم ہو سکیں شاید ہماری خاک پہ تحقیق جاری رہ جائے مری زمین کے موسم بدلتے جاتے ہیں مگر خدا کرے خوشبو تمہاری رہ جائے وہ دن نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 759 سے 4657