ریت سے آندھیوں کا جھگڑا تھا
ریت سے آندھیوں کا جھگڑا تھا سانس در سانس دم الجھتا تھا وہ اکیلا ہی بھیڑ جیسا تھا وہ مرے چاروں اور چلتا تھا کھیل کھیلا چھپن چھپائی کا چھپنے والا کبھی نہ ملتا تھا اس برس ڈھ گئی ہیں دیواریں پچھلی بارش میں مور ناچا تھا سرخ جوڑا خرید لائی ماں جانے کن لکڑیوں میں جلنا تھا رات ...