شاعری

یہ کیوں کہوں کہ انہیں حال دل سنا نہ سکا

یہ کیوں کہوں کہ انہیں حال دل سنا نہ سکا نظر میں تھا وہ فسانہ جو لب تک آ نہ سکا مجھے کبھی خلش دل کا لطف آ نہ سکا نظر اٹھی بھی تو ان سے نظر ملا نہ سکا گناہ گار محبت کو سب نے بخش دیا کہ یہ گناہ کسی کی سمجھ میں آ نہ سکا مرے خیال میں تخلیق دل کا راز یہ ہے کہ عشق وسعت کونین میں سما نہ ...

مزید پڑھیے

اس نظر سے جو رابطہ ہو جائے

اس نظر سے جو رابطہ ہو جائے کچھ نہ ہونا بھی حادثہ ہو جائے وہ کریں التجا میں ترک کروں مجھ کو اک ایسا تجربہ ہو جائے یوں نہ ہو پھر ہو تیرا قرب نصیب یوں نہ ہو پھر یہ سانحہ ہو جائے نام لیتے ہی دل دھڑکتا ہے سامنے آئے وہ تو کیا ہو جائے کام کتنا ہے اس کی یادوں کا آج پھر سے نہ رتجگا ہو ...

مزید پڑھیے

مسلسل بے قراری چل رہی ہے

مسلسل بے قراری چل رہی ہے اداسی کی سواری چل رہی ہے یہ آنسو ضبط کھو بیٹھے ہیں کیوں کر یہ کس کی غم گساری چل رہی ہے امیدوں کے پڑے تھے بیج دل میں وہیں پر آبیاری چل رہی ہے لبوں پر رہ گیا اک نام آ کر کسی کی پاسداری چل رہی ہے عداوت ہو گئی ہے ہر خوشی سے غموں سے اپنی یاری چل رہی ہے

مزید پڑھیے

یاد کی پوٹلی نکلتی ہے

یاد کی پوٹلی نکلتی ہے رات سے روشنی نکلتی ہے مشکلیں راہ بھی دکھاتی ہیں پتھروں سے ندی نکلتی ہے چاہے جتنا بھی وہ مکمل ہو آدمی میں کمی نکلتی ہے سوچتی ہوں جو تیری باتوں کو بیٹھے بیٹھے ہنسی نکلتی ہے جب بھی دل کی تلاشی لیتی ہوں تیری خواہش چھپی نکلتی ہے استفادہ ہے ساتھ چلنے میں بات ...

مزید پڑھیے

کسی کی یاد آفت ڈھا رہی ہے

کسی کی یاد آفت ڈھا رہی ہے طبیعت خود بخود گھبرا رہی ہے چلا ہوں اس نظر کی جستجو میں جہاں دل ہے وہ منزل آ رہی ہے محبت کو نہیں سمجھی ہے اب تک مگر دنیا ہمیں سمجھا رہی ہے یہی ہے کیا محبت کا زمانہ زمانے پر اداسی چھا رہی ہے انہیں جی بھر کے اب دیکھیں گے شاہدؔ یہ سنتے ہیں قیامت آ رہی ہے

مزید پڑھیے

بقدر شوق مزا اضطراب کا نہ ملا

بقدر شوق مزا اضطراب کا نہ ملا کہ دل کو درد ملا بھی تو لا دوا نہ ملا کہاں پہنچ کے ہوا ہے ملال گمشدگی یہ سن رہا ہوں کہ ان کو مرا پتا نہ ملا مزا ملا تھا محبت کی ابتدا میں مگر پھر اس کے بعد اذیت ملی مزا نہ ملا بہت قریب تھی سرحد بے خودی لیکن خودی کی حد میں بھٹکتے رہے خدا نہ ملا جبین ...

مزید پڑھیے

ممکن نہیں کہ فیض جنوں رائیگاں رہے

ممکن نہیں کہ فیض جنوں رائیگاں رہے یہ بھی تو اک نشاں ہے کہ ہم بے نشاں رہے عاجز تری تلاش میں کون و مکاں رہے اب جو تجھے تلاش کرے وہ کہاں رہے بے واسطہ نظارۂ شان جمال کر یہ بھی ہے اک خطا کہ نظر درمیاں رہے توفیق دے کہ پیش کروں غم کو اس طرح دنیا کو میرے غم پہ خوشی کا گماں رہے شام ان کی ...

مزید پڑھیے

وفا کی راہ سے مستانہ وار ہم گزرے

وفا کی راہ سے مستانہ وار ہم گزرے ہزار منزلیں آئیں ہزار غم گزرے حیات سلسلۂ غم سہی مگر اے دوست خیال میں ہیں وہی حادثے جو کم گزرے خوشی کے پھول کھلائے تھے اس نظر نے جہاں ہم اس دیار سے اکثر بہ چشم نم گزرے ستم زدہ سی ہے دنیا تمہارے جانے سے کہیں تو کس سے کہیں ہم پہ کیا ستم گزرے کھڑے ...

مزید پڑھیے

میں جہاں بھی ہوں وہیں انجمن آرائی ہے

میں جہاں بھی ہوں وہیں انجمن آرائی ہے کہ مرے ساتھ مرا عالم تنہائی ہے حسرت آہ بھی توہین شکیبائی ہے کیا مرے درد کا مفہوم ہی رسوائی ہے نہ تجلی نہ کوئی انجمن آرائی ہے زندگی ایک مسلسل شب تنہائی ہے موت ہے قیمت ہستی کوئی انعام نہیں جان دی ہے تو حیات ابدی پائی ہے ڈھونڈھتے پھرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

نئی زندگی کی ہوا چلی تو کئی نقاب اتر گئے

نئی زندگی کی ہوا چلی تو کئی نقاب اتر گئے جنہیں انقلاب سے پیار تھا وہی انقلاب سے ڈر گئے مجھے رہبروں سے ہے یہ گلہ کہ انہیں شعور سفر نہ تھا کبھی راستوں میں الجھ گئے کبھی منزلوں سے گزر گئے تجھے مرگ نو کی تلاش ہے مگر ارتقا کا پتہ نہیں کوئی ایک شکل جو مٹ گئی تو ہزار نقش ابھر گئے جسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 727 سے 4657