کبھی خرد کا کبھی عشق کا بہانا تھا
کبھی خرد کا کبھی عشق کا بہانا تھا مری حیات کا مقصد فریب کھانا تھا تری نگاہ کو گہرائیوں میں جانا تھا مرے سکوت کی ہر تہہ میں اک فسانا تھا چمن کے ایک ہی گوشے میں ہے ہجوم بہار یہ وہ جگہ ہے جہاں میرا آشیانہ تھا خزاں کا خوف تھا غنچوں کو فصل گل میں مگر وہ مسکرا کے رہے جن کو مسکرانا ...