شاعری

کبھی خرد کا کبھی عشق کا بہانا تھا

کبھی خرد کا کبھی عشق کا بہانا تھا مری حیات کا مقصد فریب کھانا تھا تری نگاہ کو گہرائیوں میں جانا تھا مرے سکوت کی ہر تہہ میں اک فسانا تھا چمن کے ایک ہی گوشے میں ہے ہجوم بہار یہ وہ جگہ ہے جہاں میرا آشیانہ تھا خزاں کا خوف تھا غنچوں کو فصل گل میں مگر وہ مسکرا کے رہے جن کو مسکرانا ...

مزید پڑھیے

پھر تلاش راحت میں درد کا پیام آیا

پھر تلاش راحت میں درد کا پیام آیا ہم جہاں سے گزرے تھے پھر وہی مقام آیا تیرے غم کی راہوں میں وہ بھی اک مقام آیا موت کی تمنا تھی موت کا سلام آیا شب گزارنے والو حاصل سحر کیا تھا اک پیام بیداری وہ بھی نا تمام آیا یوں عروج پر آئی داستاں محبت کی دل کا ذکر چھیڑا تھا لب پہ ان کا نام ...

مزید پڑھیے

دل ہے ایک ہی لیکن نام دل بدلتا ہے

دل ہے ایک ہی لیکن نام دل بدلتا ہے سج گیا تو گلشن ہے لٹ گیا تو صحرا ہے میرا درد محرومی اک نیا تقاضا ہے عشق رائیگاں کیوں ہو تم نہیں تو دنیا ہے حسن ہے بہاریں ہیں شوق ہے تماشا ہے عاشقی کی نسبت سے زندگی گوارا ہے درد و غم کی راہوں میں ساتھ چھوڑنا کیسا دور تک چلے آؤ دور تک اندھیرا ...

مزید پڑھیے

یہ عالم ہے تو پھر کیوں ہوں حوادث سے پریشاں ہم

یہ عالم ہے تو پھر کیوں ہوں حوادث سے پریشاں ہم قفس ہم آشیاں ہم خار ہم گل ہم گلستاں ہم ہمیں دنیا کی طوفانی ہواؤں میں بھڑکنے دو نہیں ہوں گے نہیں ہوں گے چراغ زیر داماں ہم مزا پایا ہے اتنا مشکلات زندگانی میں کہ دیکھے جائیں گے تا حشر یہ خواب پریشاں ہم زمانہ ہم کو طوفاں میں پھنسا کر ...

مزید پڑھیے

سحر ہوتے ہی اہل انجمن کو نیند سی آئی

سحر ہوتے ہی اہل انجمن کو نیند سی آئی اندھیرے اور گہرے ہو گئے جب روشنی آئی دم سیر چمن اکثر یہ منظر ہم نے دیکھا ہے جدھر تم تھے ادھر پھولوں کے رخ پر تازگی آئی سوائے شورش پرواز سب کچھ ہے گلستاں میں بہار آئی مگر اک دام پھیلاتی ہوئی آئی ابھی تک موت سے ملتا ہوا اک نشہ طاری تھا تم آئے ...

مزید پڑھیے

گزر جا راہ و منزل سے گزر جا موج و ساحل سے

گزر جا راہ و منزل سے گزر جا موج و ساحل سے محبت ہو تو یہ آسانیاں ملتی ہیں مشکل سے مقابل ہو گیا نادان ان کے حسن کامل سے ہمیں اب تنگ آ کر ہاتھ اٹھانا ہی پڑا دل سے دل ان کی راہ میں ہے پھر بھی غم جاتا نہیں دل سے محبت کا مسافر بے خبر ہے اپنی منزل سے تم اہل دل نہیں ہو پھر وفا کا لطف کیا ...

مزید پڑھیے

ہم نے رستے میں کوئی شمع جلا دی ہوتی

ہم نے رستے میں کوئی شمع جلا دی ہوتی دور سے ہی جو کبھی تم نے صدا دی ہوتی میرے سب گیت تمہارے ہی لیے ہیں شاید تم نے ان گیتوں میں آواز ملا دی ہوتی تم نے تو کچھ بھی نہ کہنے کی قسم کھائی تھی بات جو دل میں تھی ہم نے ہی بتا دی ہوتی بھیگ جانی تھیں اس طرح تمہاری پلکیں وہ کہانی جو تمہیں ہم نے ...

مزید پڑھیے

تڑپ الم میں نہیں ہے سکوں خوشی میں نہیں

تڑپ الم میں نہیں ہے سکوں خوشی میں نہیں بہت دنوں سے کوئی لطف زندگی میں نہیں اگر یہ سچ ہے تو لازم ہے خود فراموشی خود آگہی کے سوا کچھ خود آگہی میں نہیں جمی ہوئی ہے شب ہجر آسماں پہ نظر تری جھلک تو ستاروں کی روشنی میں نہیں جو اہل دل ہو تو مفہوم خامشی سمجھو یہ کیا کہا کوئی مفہوم خامشی ...

مزید پڑھیے

اے باغباں یہ جبر ہے یا اختیار ہے

اے باغباں یہ جبر ہے یا اختیار ہے مرجھا رہے ہیں پھول چمن میں بہار ہے شاید اسی کا نام غم روزگار ہے وہ مل گئے تو اور بھی دل بے قرار ہے میں صاحب چمن ہوں مجھے اعتبار ہے شام خزاں کے بعد ہی صبح بہار ہے رہبر نے قافلے ہی کو مجبور کہہ دیا اب وہ قدم بڑھائے جسے اختیار ہے کلیاں ہیں زرد زرد ...

مزید پڑھیے

اے عشق بے نیاز یہ کیا انقلاب ہے

اے عشق بے نیاز یہ کیا انقلاب ہے غم کامیاب ہے نہ خوشی کامیاب ہے مستی میں ہر فریب خرد بے نقاب ہے اس وقت جو گناہ بھی کیجے ثواب ہے فکر مآل عشق نہ کی ہم نے عشق میں معلوم تھا کہ خواب ہی تعبیر خواب ہے رسوائیاں ہیں عشق کی معراج زندگی یہ تم نے کیا کہا کہ زمانہ خراب ہے غم پر اثر نہیں ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 728 سے 4657