شاعری

کسی کی زلف شکن در شکن کی بات ہوئی

کسی کی زلف شکن در شکن کی بات ہوئی ہمارے واسطے دار و رسن کی بات ہوئی کبھی دھنک پہ کبھی چاندنی پہ ہاتھ پڑا جو تیرے جسم کی تیرے بدن کی بات ہوئی اک آہ دل سے اٹھی اور لبوں پہ ٹوٹ گئی کبھی کہیں جو تری انجمن کی بات ہوئی زہے نصیب کہ تیرا بھی نام آیا ہے جہاں جہاں مرے دیوانہ پن کی بات ...

مزید پڑھیے

زور اس پر ہے نہ حالات پہ قابو یارو

زور اس پر ہے نہ حالات پہ قابو یارو جانے اب کیا ہو ملاقات کا پہلو یارو کتنے زخموں کے تبسم کا پتہ دیتے ہیں میری پلکوں پہ سلگتے ہوئے جگنو یارو زخم اس طور سے مہکے ہیں سر شام فراق دور تک پھیل گئی درد کی خوشبو یارو کتنے خوابوں کو نچوڑا ہے تو ان آنکھوں سے آج ٹپکا ہے یہ جلتا ہوا آنسو ...

مزید پڑھیے

جب اپنا مقدر ٹھہرے ہیں زخموں کے گلستاں اور سہی

جب اپنا مقدر ٹھہرے ہیں زخموں کے گلستاں اور سہی کچھ سرخیٔ خنجر اور سوا رنگینیٔ داماں اور سہی دل داریٔ دست قاتل کو باقی ہیں ہمیں تو آؤ چلو اس کوچۂ جاناں میں یارو اک جشن چراغاں اور سہی کٹتے ہیں کٹیں بازو و گلو بہتا ہے بہے گلنار لہو اک معرکۂ دل اور سہی اک معرکۂ جاں اور سہی کٹتے ہی ...

مزید پڑھیے

کبھی اک دم کبھی چپکے سے آئے

کبھی اک دم کبھی چپکے سے آئے تمہاری یاد بھی وقفے سے آئے تھا باہر اک الگ ہی شور برپا ہم اندر چور دروازے سے آئے بدل کہ رکھ دیا تعمیر نو نے سو تیرے در پہ اندازے سے آئے نئی منزل کی لے کر آرزو ہم قدیمی معتبر رستے سے آئے ملی ہر شور میں پنہاں خموشی پلٹ کر ہم جو ویرانے سے آئے

مزید پڑھیے

غم کی تفسیر میرے ہاتھ میں ہے

غم کی تفسیر میرے ہاتھ میں ہے اس کی تحریر میرے ہاتھ میں ہے اپنی قسمت سے کیوں نہ لڑ جاؤں میری تدبیر میرے ہاتھ میں ہے خواب ایسے سنا رہے ہیں آپ جیسے تعبیر میرے ہاتھ میں ہے ٹوٹتی ہے نہ زنگ کھاتی ہے کیسی زنجیر میرے ہاتھ میں ہے اب نظاروں میں کچھ نہیں رکھا تیری تصویر میرے ہاتھ میں ...

مزید پڑھیے

چاند مانگا نہ کبھی ہم نے ستارے مانگے

چاند مانگا نہ کبھی ہم نے ستارے مانگے بس وہ دو دن جو ترے ساتھ گزارے مانگے صرف اک داغ تمنا کے سوا کچھ نہ ملا دل نے کیا سوچ کے نظروں کے اشارے مانگے ہم نے جب جام اٹھایا ہے تو وہ یاد آیا جس کی خاطر مے و مینا کے سہارے مانگے ڈھل گئی رات تو خواب رخ جاناں ٹوٹا بجھ گیا چاند تو آنکھوں نے ...

مزید پڑھیے

آپ کے اذن ملاقات سے جی ڈرتا ہے

آپ کے اذن ملاقات سے جی ڈرتا ہے اپنے بدلے ہوئے حالات سے جی ڈرتا ہے آپ تجدید محبت کا نہ دیجے پیغام آپ کی چشم عنایات سے جی ڈرتا ہے کل یہ عالم تھا کہ ہر بات پہ ہنس دیتے تھے اب یہ عالم ہے کہ ہر بات سے جی ڈرتا ہے ہم نشینو ذرا کچھ دیر مرے ساتھ رہو آج تنہائی کے لمحات سے جی ڈرتا ہے دل میں ...

مزید پڑھیے

یوں تو اس بزم میں اپنے بھی ہیں بیگانے بھی

یوں تو اس بزم میں اپنے بھی ہیں بیگانے بھی لیکن اب دیکھیے کوئی ہمیں پہچانے بھی آشنا راہ میں کترا کے گزر جاتے ہیں اپنے ہی شہر میں ہم ہو گئے انجانے بھی اب کہاں جائیں کہ اس سے بھی تعلق نہ رہا اپنا گھر یاد نہیں بند ہیں میخانے بھی فکر داماں ہے نہ کچھ جیب و گریباں کی خبر کتنے آرام سے ...

مزید پڑھیے

مہکا ہے گل خون وفا جانیے کیا ہو

مہکا ہے گل خون وفا جانیے کیا ہو جلتی ہے کوئی شمع حنا جانیے کیا ہو بندش ہے نگاہوں پہ دل و جاں پہ ہیں پہرے تعبیر تری خواب وفا جانیے کیا ہو مدت سے کسی زلف کی خوشبو نہیں آتی مصروفیت دست صبا جانیے کیا ہو شعلہ سا لپکتا ہے کوئی روزن در سے خنداں ہے پھر اک بنت حیا جانیے کیا ہو ٹھہری ہے ...

مزید پڑھیے

دل نے یوں حوصلۂ نالہ و فریاد کیا

دل نے یوں حوصلۂ نالہ و فریاد کیا میں یہ سمجھا شب غم تم نے کچھ ارشاد کیا جبر فطرت نے یہ اچھا کرم ایجاد کیا کہ مجھے وسعت زنجیر تک آزاد کیا تم نہ تھے دل میں تو ویراں تھی کہانی میری عشق نے لفظ کو مفہوم سے آباد کیا تیرا انداز تبسم ہے کہ عنوان بہار جب کوئی پھول کھلا میں نے تجھے یاد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 726 سے 4657