شاعری

غم یہ سارا تیرے دل کے تہہ خانے سے نکلے گا

غم یہ سارا تیرے دل کے تہہ خانے سے نکلے گا تیری آنکھ کا آنسو جب میرے شانے سے نکلے گا میری ساری الجھن تو ہے تیرے الجھے بالوں سے اس مسئلے کا حل تو زلفیں سلجھانے سے نکلے گا دنیا داری کے خانے سے نکلیں گے جب نام کئی نام تمہارا صرف محبت کے خانے سے نکلے گا نکل نہ پائے گا تجھ سے گو کچھ ...

مزید پڑھیے

اک اس کی ہنسی اور اداؤں کی دھن

اک اس کی ہنسی اور اداؤں کی دھن بدل دے رہی ہے ہواؤں کی دھن یہ تو نے ہی کھولیں ہیں زلفیں یا پھر کسی نے بجائی ہے چھانو کی دھن انہیں گر تو رکھ دے مرے سینہ پر تو دھڑکن سنائے گی پاؤں کی دھن سناتی ہے جس دھن میں ماں لوریاں کچھ ایسی ہی ہوگی خداؤں کی دھن مرے کانوں میں اب بھی موجود ہے وہ ...

مزید پڑھیے

کب محبت سے دیکھتے ہیں مجھے

کب محبت سے دیکھتے ہیں مجھے سب ضرورت سے دیکھتے ہیں مجھے میرا نیندوں کے ساتھ جھگڑا ہے خواب حسرت سے دیکھتے ہیں مجھے جنگ جیتی ہے کیسے خوشبو سے پھول حیرت سے دیکھتے ہیں مجھے میں تو ان سے بھی پیار کرتا ہوں جو حقارت سے دیکھتے ہیں مجھے سارے تریاک پاس ہیں میرے سانپ نفرت سے دیکھتے ہیں ...

مزید پڑھیے

سلامتی کی دعا کا ثمر بنا ہوا ہے

سلامتی کی دعا کا ثمر بنا ہوا ہے تمہارے باغ کا پودا شجر بنا ہوا ہے وہ جس کے واسطے پھولوں کا اہتمام ہوا فضائے دل سے وہی بے خبر بنا ہوا ہے ملے جو کوئی مجھے دل چرانے لگ جائے تمام شہر ترا جادوگر بنا ہوا ہے عجیب بات ہے دل بھی وہیں پہ ٹوٹے ہیں ہر ایک شخص جہاں کاریگر بنا ہوا ہے کہیں پہ ...

مزید پڑھیے

دیا اپنی روش پر کیا گیا ہے

دیا اپنی روش پر کیا گیا ہے ہوا کا ہاتھ بھی گھبرا گیا ہے تمہارے پھول مجھ تک آ گئے ہیں مگر یوں بھیجنا چونکا گیا ہے ہمارے خواب بے پردہ ہوئے ہیں ہماری آنکھ میں جھانکا گیا ہے تڑپ کر آنگنوں میں دھوپ بکھری گلا برگد کا پھر کاٹا گیا ہے سڑک پر شور اور بھگدڑ مچا کر مری آواز کو کچلا گیا ...

مزید پڑھیے

وہی میری خوشی کا مسئلہ ہے

وہی میری خوشی کا مسئلہ ہے جو صحرا میں نمی کا مسئلہ ہے شجر بھی تو زمیں کے پھیپھڑے ہیں نہ کاٹو زندگی کا مسئلہ ہے ترا چہرہ ہے دھند آلود یوں بھی بصارت میں کمی کا مسئلہ ہے ہمیں مشکوک نظروں سے نہ دیکھیں محبت تو سبھی کا مسئلہ ہے نکل آئی ہے منہ سے بات ایسی کہ جس کی واپسی کا مسئلہ ...

مزید پڑھیے

دھڑکن ہو کر دل سے سازش کرتا ہوں

دھڑکن ہو کر دل سے سازش کرتا ہوں اور پھر جینے کی فرمائش کرتا ہوں اے خالق قسمت کا تارا چمکا دے روز سمے کے جوتے پالش کرتا ہوں گندم کا ہر دانہ پانی پیتا ہے میں محنت کی اتنی بارش کرتا ہوں تم بھی تھوڑے اور کھلونے لے جاؤ میں بھی تھوڑی سی گنجائش کرتا ہوں موسم اور یہ لوگ مجھے کچھ مہلت ...

مزید پڑھیے

مری تکلیف اعصابی کہاں ہے

مری تکلیف اعصابی کہاں ہے یہ بے داری ہے بے خوابی کہاں ہے مجھے آزاد کرنا ہے کسی کو مرے زندان کی چابی کہاں ہے یہ ہم جو ساحلوں پر چل رہے ہیں خبر رکھتے ہیں غرقابی کہاں ہے ہرے ہیں پیڑ نہروں کے کنارے مری پلکوں کی شادابی کہاں ہے برائے سیر آئے باغ میں ہم شجرکاری کی بیتابی کہاں ہے

مزید پڑھیے

دل کی دھڑکن بھی جو سن لو تم مری آواز میں

دل کی دھڑکن بھی جو سن لو تم مری آواز میں تب تمہیں احساس ہوگا درد ہے اس ساز میں بے وجہ تھک کر نہیں بیٹھے ہیں کچھ طائر یہاں لگ گیا ہے کوئی گرہن ان کی بھی پرواز میں اس جہاں کی بزم سے وہ شخص پیاسا جائے گا فکر ہے انجام کی بس جس کو ہر آغاز میں راز تھا جو کھل گیا وہ اک اشارے پر یہاں کیا ...

مزید پڑھیے

بڑھتی ہوئی نفرت کو محبت سے مٹا دے

بڑھتی ہوئی نفرت کو محبت سے مٹا دے دنیا کو بھی جینے کا یہ انداز سکھا دے جاتے ہوئے لمحوں کا ہے بس اتنا تقاضا بجھتے ہوئے شعلوں کو نہ پھر کوئی ہوا دے کچھ ایسی خطائیں ہیں جو ہو جاتی ہیں سب سے مالک پہ یہ چھوڑا ہے وہ جو چاہے سزا دے فرزانوں سے پوچھا تھا کہ کس بات پہ گم ہیں کہنے لگے ہنس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 540 سے 4657