شاعری

دل کی اک حرف و حکایات ہے یہ بھی نہ سہی

دل کی اک حرف و حکایات ہے یہ بھی نہ سہی گر مری بات میں کچھ بات ہے یہ بھی نہ سہی عید کو بھی وہ نہیں ملتے ہیں مجھ سے نہ ملیں اک برس دن کی ملاقات ہے یہ بھی نہ سہی دل میں جو کچھ ہے تمہارے نہیں پنہاں مجھ سے ظاہری لطف و مدارات ہے یہ بھی نہ سہی زندگی ہجر میں بھی یوں ہی گزر جائے گی وصل کی ...

مزید پڑھیے

اے حضرت عیسیٰ نہیں کچھ جائے سخن اب

اے حضرت عیسیٰ نہیں کچھ جائے سخن اب وہ آ گئے رکھوائیے تہہ کر کے کفن اب سینچا گیا پھولا ہے نئے سر سے چمن اب اشکوں نے کیے سبز مرے داغ کہن اب وہ شوق اسیری کھلے گیسو کے شکن اب ترسیں گے قفس کے لیے مرغان چمن اب خاموشی نے معدوم کیا اور دہن اب تم ہی کہو باقی رہی کیا جائے سخن اب یاران وطن ...

مزید پڑھیے

تجھ کو تو معلوم تھا میرے یار اداسی ہے

تجھ کو تو معلوم تھا میرے یار اداسی ہے تجھ سے ہی تو ہم کہتے تھے یار اداسی ہے تیرے حصہ میں اول خوشیاں ہوں گی شاید پر میرے حصہ میں پہلے یار اداسی ہے میرے پاس نہیں ہے کوئی تیرے پاس ہوں میں پھر تیری آنکھوں میں کیسے یار اداسی ہے خود کو ہنستا جب بھی دیکھوں رو دیتا ہوں میں چھائی اس درجے ...

مزید پڑھیے

تمہیں نہیں ہو کہ جس کے حصے اپار دکھ ہیں

تمہیں نہیں ہو کہ جس کے حصے اپار دکھ ہیں ہماری آنکھیں بھی بولتی ہیں کہ یار دکھ ہیں سمجھ رہا ہے تو جس کو اپنی خوشی کی گٹھری نہیں ہیں اس میں خوشی اسے تو اتار دکھ ہیں اگر تمہیں لگ رہا ہے یہ دکھ بس اوپری ہیں یہ ہاتھ دیکھو قطار اندر قطار دکھ ہیں کچھ ایک ہی بس بچے ہیں جن کو ہے تجھ سے ...

مزید پڑھیے

تیز ہوا اب تو رک جا میں ٹوٹ گیا

تیز ہوا اب تو رک جا میں ٹوٹ گیا فرض سے تو فارغ میں جاں سے چھوٹ گیا چھوڑ کے سب قصہ بس اتنا کہتا ہوں دیواروں سے ٹکرایا سر پھوٹ گیا کان سنی باتوں کو ہم نے سچ جانا آنکھوں سے دیکھا تو سب کچھ جھوٹ گیا آئینہ دیکھا تو کچھ کچھ ہوش آیا کوئی میرا باغ سا چہرہ لوٹ گیا اب تو جی میں آتا ہے کچھ ...

مزید پڑھیے

کوئی سراغ کوئی نقش پا نہیں ملتا

کوئی سراغ کوئی نقش پا نہیں ملتا تمہارے شہر کا اب راستہ نہیں ملتا کہو تو تم کو خدا مان لیں محبت کا کہ ہم کو تم سا کوئی دوسرا نہیں ملتا یہ دشت ہجر کی وحشت ہے صاحبان وفا یہاں کسی کو کوئی آسرا نہیں ملتا سنو ہمیں ہی جلا دو کہ روشنی کے لیے ہمارے شہر کو کوئی دیا نہیں ملتا ہوا نے کر دیا ...

مزید پڑھیے

نشاط ہجر کو تیری کمی کو بھول گئے

نشاط ہجر کو تیری کمی کو بھول گئے ترے خیال میں ڈوبے تجھی کو بھول گئے وہ دنیا دار ہیں ہم نے کبھی کہا تو نہ تھا عجیب لوگ ہیں اس سادگی کو بھول گئے عدو نے ہم سے ہمارا غرور مانگا تھا انا پرست تھے ہم زندگی کو بھول گئے جنوں کا ایک تقاضا تھا صرف سر مستی کتاب جھونک دی ہم آگہی کو بھول ...

مزید پڑھیے

رائگانی کی ریاضت بھی نہیں کر سکتا

رائگانی کی ریاضت بھی نہیں کر سکتا ٹوٹے رشتوں کی مرمت بھی نہیں کر سکتا گھر کی رونق کا سبب ہوتے ہیں بچے یعنی شور ہونے پہ شکایت بھی نہیں کر سکتا جس طرح میں نے ترے نام کیا ہے سب کچھ اس طرح کوئی وصیت بھی نہیں کر سکتا کیمرہ آنکھ میں زندان لیے پھرتا ہے کوئی تصویر سے ہجرت بھی نہیں کر ...

مزید پڑھیے

ضرورت سے زیادہ جی رہا ہے

ضرورت سے زیادہ جی رہا ہے ادھورا شخص پورا جی رہا ہے ہے بارش کی مسلسل مہربانی مرے صحرا میں دریا جی رہا ہے در و دیوار سانسیں لے رہے ہیں تبھی کمرے کا پردہ جی رہا ہے بسا ہے تو مری آنکھوں میں جب سے یہاں رنگوں کا میلہ جی رہا ہے سبھی ہاتھوں میں اپنے پھول دے کر خوشی کے ساتھ گملا جی رہا ...

مزید پڑھیے

دشت ہوتے ہوئے برسات نہیں چاہتے ہم

دشت ہوتے ہوئے برسات نہیں چاہتے ہم یعنی اپنے بھی مفادات نہیں چاہتے ہم ہونٹ سگریٹ کی طلب کرتے چلے جاتے ہیں اور اس کے مضر اثرات نہیں چاہتے ہم راس یکتائی بہت آئی ہوئی ہے ہم کو قید ہو کر بھی ملاقات نہیں چاہتے ہم جو کئی شہروں کے مٹنے کا سبب ہو جائیں دوستا ایسی فتوحات نہیں چاہتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 539 سے 4657