دل کی دھڑکن بھی جو سن لو تم مری آواز میں

دل کی دھڑکن بھی جو سن لو تم مری آواز میں
تب تمہیں احساس ہوگا درد ہے اس ساز میں


بے وجہ تھک کر نہیں بیٹھے ہیں کچھ طائر یہاں
لگ گیا ہے کوئی گرہن ان کی بھی پرواز میں


اس جہاں کی بزم سے وہ شخص پیاسا جائے گا
فکر ہے انجام کی بس جس کو ہر آغاز میں


راز تھا جو کھل گیا وہ اک اشارے پر یہاں
کیا کشش باقی رہی یاروں مرے ہم راز میں


بے سبب کہتا نہیں کوئی غزل شاعر یہاں
کوئی خواہش تو چھپی ہے اس کے اس انداز میں


برتری کا اس قدر شمشادؔ جن کو ہو بھرم
کمتری کو پاؤ گے تم ان کے ہر انداز میں