شاعری

ان کو کہاں ہے فکر کسی بھی عذاب کی

ان کو کہاں ہے فکر کسی بھی عذاب کی کیوں بات کر رہے ہو گناہ و ثواب کی دنیا بنائی اس نے کچھ اپنے حساب کی تصویر کھینچ ڈالی حقیقت کی خواب کی تنقید کرتے کرتے وہ نقاد بن گئے اب آ گئی ہے باری خود ان کے حساب کی جاتی ہوئی بہار کے منظر کو دیکھ کر ان کو پڑی ہے فکر اب اپنے شباب کی آسودگی مزے ...

مزید پڑھیے

سیلاب کا گزر بھی تو لوگوں کی موت ہے

سیلاب کا گزر بھی تو لوگوں کی موت ہے دریا کا بانجھ پن جہاں نہروں کی موت ہے کچھ بھی تو کہنا روبرو بہروں کے ہے فضول جیسے خلا میں چیخنا چیخوں کی موت ہے رستہ سڑک تلک نہ مسافر کو دیں اگر میرے خیال میں تو یہ گلیوں کی موت ہے آنکھوں سے نیند کے سبھی آثار گمشدہ شب بھر ہمارا جاگنا خوابوں کی ...

مزید پڑھیے

در و دیوار سے جاری لہو ہے

در و دیوار سے جاری لہو ہے تری تصویر کا دکھ سرخ رو ہے بچھے ہیں دور تک پتے زمیں پر یہ خاموشی نہیں ہے ہاؤ ہو ہے خوشا آنکھوں میں جنگل ہیں تمہاری بھٹکنے کی مجھے بھی آرزو ہے جسے چٹکی بجانا کہہ رہے ہو ہماری انگلیوں کی گفتگو ہے کوئی تو آئے چھیڑے ذکر تیرا سماعت کب سے میری با وضو ہے

مزید پڑھیے

غم کی اندھیری رات کی جانے سحر نہ آئے کیوں

غم کی اندھیری رات کی جانے سحر نہ آئے کیوں پہروں جلے کسی کا دل زخم ابھر نہ آئے کیوں اپنے پرائے ہو گئے غیروں نے بھی کیا ستم ایسے میں دردمند دل درد سے بھر نہ آئے کیوں تیرا ہی جب خیال ہے آٹھوں پہر دماغ میں جاگتے سوتے ہر طرف تو ہی نظر نہ آئے کیوں تیرے بنا اب ایک پل مجھ سے رہا نہ جائے ...

مزید پڑھیے

جہالتوں کی غلامی سے بچ نکلنے کا

جہالتوں کی غلامی سے بچ نکلنے کا سنبھل بھی جاؤ یہی وقت ہے سنبھلنے کا بلندیاں بھی کریں گی سلام جھک کے تمہیں شعور تم میں اگر ہے زمیں پہ چلنے کا جو ناامیدی کے بادل فلک پہ چھائے ہوں تم انتظار کرو برف کے پگھلنے کا نڈھال ہو کے لو سورج بھی محو خواب ہوا اے چاند تارو یہی وقت ہے نکلنے ...

مزید پڑھیے

بھروسہ ہر کسی کا کھو چکے ہیں

بھروسہ ہر کسی کا کھو چکے ہیں سر بازار رسوا ہو چکے ہو چکے ہیں غلامی کر رہے ہیں خواہشوں کی دلوں کی حکمرانی کھو چکے ہیں توقع ہے محبت کے ثمر کی اگرچہ فصل نفرت بو چکے ہیں نہ رکھ ان سے مدد کی آس کوئی ضمیر ان سب کے مردہ ہو چکے ہیں بھلا باہر سے کیسے صاف ہوں گے یہ جب اندر سے میلے ہو چکے ...

مزید پڑھیے

سایہ پڑتے ہی زمیں کا ماہ پر

سایہ پڑتے ہی زمیں کا ماہ پر چل پڑے سب دہریت کی راہ پر بارہا اس کو کیا آگاہ پر دل کسی صورت نہ آیا راہ پر یہ بھی دیکھا ہے ہماری نسل نے کٹ گئے سر کتنے اک افواہ پر ہیں جو اسرار زمیں سے نابلد تبصرہ کرتے ہیں مہر و ماہ پر ریزہ ریزہ ہو گیا رشتوں کا پل جو ٹکا تھا صرف رسم و راہ پر ہم سخن ...

مزید پڑھیے

شر آج ظفر یاب ہے معلوم نہیں کیوں

شر آج ظفر یاب ہے معلوم نہیں کیوں اچھائی تہہ آب ہے معلوم نہیں کیوں اک چیز وفا جس کو کہا کرتی تھی دنیا وہ ان دنوں کم یاب ہے معلوم نہیں کیوں دنیا تو مرے ساتھ نہیں جائے گی پھر بھی دنیا ہی مرا خواب ہے معلوم نہیں کیوں رہتا ہے نکلنے کے لئے ہر گھڑی بیتاب آنکھوں میں جو سیلاب ہے معلوم ...

مزید پڑھیے

بے بسی سے ہاتھ اپنے ملنے والے ہم نہیں

بے بسی سے ہاتھ اپنے ملنے والے ہم نہیں مہربانی پر کسی کی پلنے والے ہم نہیں رہ گزر اپنی جدا ہے فلسفہ اپنا الگ جا ترے نقش قدم پر چلنے والے ہم نہیں ایک بس دل کا کیا ہے جان جاں تجھ سے سوال دل لئے بن تیرے در سے ٹلنے والے ہم نہیں ہم کہ سورج کی طرح بزدل نہیں اے ظلمتو تیرگیٔ شب سے ڈر کر ...

مزید پڑھیے

شور و غل آہیں کراہیں اور الم پیہم تھا شادؔ

شور و غل آہیں کراہیں اور الم پیہم تھا شادؔ رات میرے دل کی بستی کا عجب موسم تھا شادؔ برق و باراں کی نظر مجھ پر رہی آٹھوں پہر کیوں مرے ہی آشیاں پر آسماں برہم تھا شادؔ سانس لینا بھی گراں تھا ناتوانی پر مری ہجر کا عالم بھی جیسے نزع کا عالم تھا شادؔ بادلوں کی آڑ سے کوئی مخاطب تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 541 سے 4657