شاعری

کوئی بھی سامان نہیں ہے اب میری حیرانی کو

کوئی بھی سامان نہیں ہے اب میری حیرانی کو آتش دان میں پھینک دیا ہے اک خط لکھ کر پانی کو کرداروں کی کھیپ بلا کر کیا تصویر بناؤ گے ایک کہانی سے ڈھانپو کس کس کی عریانی کو ان سے پوچھو جن پر گزرے لمحے اصل قیامت کے لوگ تو ہجرت کہہ دیتے ہیں ہر اک نقل مکانی کو ہم نے جس لمحے سونپے تھے خواب ...

مزید پڑھیے

نہ پرکشش ہے نہ آشنا ہے

نہ پرکشش ہے نہ آشنا ہے مگر وہ چہرہ بھلا لگا ہے ہرے جزیرے پہ زرد بادل ہواؤں کو آج کیا ہوا ہے کسی کی آنکھوں میں رات ٹھہری کسی کی راتوں میں دن گھلا ہے تری اداسی کا یہ دبستاں کہیں کہیں سے جلا ہوا ہے ہواؤ بوندوں کو راستہ دو زمیں کا سینہ چٹخ رہا ہے مری محبت کا سبز موسم تری کمی میں ...

مزید پڑھیے

یہ آسماں زمیں کے ہونٹ چومتا ہوا نہ ہو

یہ آسماں زمیں کے ہونٹ چومتا ہوا نہ ہو کسے خبر ہے کل تلک یہاں پہ کیا ہو کیا نہ ہو وہ مجھ سے مل کے بھی کسی سے وصل کی دعا کرے عجیب پیڑ ہے جو پانی پی کے بھی ہرا نہ ہو یہ دستکیں کواڑ پر برس رہی ہیں جس طرح کواڑ ہی کی نبض آشنا کوئی ہوا نہ ہو وہ کم سخن سہی مگر کوئی تو اور بات ہے خموشیوں کی ...

مزید پڑھیے

کسی روشنی کے حصار میں نہیں چل رہا

کسی روشنی کے حصار میں نہیں چل رہا وہ دیا بدست غبار میں نہیں چل رہا یہ اتھل پتھل جو مچی ہوئی ہے چہار سو کوئی ایک ٹھیک قطار میں نہیں چل رہا یہی بارشیں تو ہیں تیری یاد کی مہتمم مگر اک رکارڈ پھوار میں نہیں چل رہا مرے پاس آ کے رکا ہوا ہے وہ دور ہی یہ خزاں کا دور بہار میں نہیں چل رہا

مزید پڑھیے

ستارہ ہو کہ آنسو بس چمک ہے

ستارہ ہو کہ آنسو بس چمک ہے لگا لے شرط مجھ سے جس کو شک ہے کہاں تک آپ کو جانا ہے کہیے نظر کا راستہ تو دل تلک ہے تلاطم خیز کر دے ان کی دھڑکن مری چوڑی میں ایسی بھی کھنک ہے محبت سے اسے منسوب مت کر مرے لہجے میں جو تھوڑی لچک ہے میں اتنی دور بھی تم سے نہیں ہوں ہمارے درمیاں کچھ ہے تو شک ...

مزید پڑھیے

کچھ دن سے اٹھ رہی ہے دل و شہر جاں سے خاک

کچھ دن سے اٹھ رہی ہے دل و شہر جاں سے خاک جب ہم ہرے بھرے ہیں تو آئی کہاں سے خاک پھر بھی یہ دل دھڑک اٹھا اس کی پکار پر گو اس پہ لا کے ڈالی تھی سارے جہاں سے خاک چہرہ اٹا ہے دھول سے خالی ہیں دونوں ہاتھ تم آ رہے ہو چھان کے آخر کہاں سے خاک ہم اس لیے بھی اس سے ملاتے نہیں نظر نسبت زمین کو ہے ...

مزید پڑھیے

ایک آہٹ پہ دل بنا پتا

ایک آہٹ پہ دل بنا پتا ٹوٹ کر شاخ سے گرا پتا وہ اگر ہارتا تو رو دیتا میں نے تبدیل کر دیا پتا مجھ کو تو نے شجر مزاج کیا اب مری شاخ پر اگا پتا زندگی ہے خزاں میں سوکھا پیڑ اور دعا اس پہ پھوٹتا پتا ڈھیر بھی اک وجود رکھتا ہے ہو جو پتے کا آسرا پتا میں نے پوچھا مزاج کیسے ہیں بس شجر نے ...

مزید پڑھیے

جوں ہی سر سے چادر سرکی

جوں ہی سر سے چادر سرکی اونچی ہوئیں فصیلیں گھر کی دیکھ مصور گہرا پانی اور تصویر بنا اندر کی عمر پہ طاری ہو جاتی ہے نبض کبھی اک لمحے بھر کی تاریکی ہی تاریکی ہے بوجھے کون پہیلی ڈر کی سارے آنسو پی جاتی ہے ماں سی عادت ہے چادر کی رستے میں دل ہار آئے ہیں خاک کہیں روداد سفر کی یار ...

مزید پڑھیے

جسم کو روح کی سرحد پہ بلا کر دیکھیں

جسم کو روح کی سرحد پہ بلا کر دیکھیں کیوں نہ آئینے کے اندر کبھی جا کر دیکھیں جن کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہے وہ لوگ سوکھے پیڑوں سے پرندے ہی اڑا کر دیکھیں خواب ہم دن میں پکڑ لیں کوئی جگنو جیسا بارہا رات میں پھر اس کو جلا کر دیکھیں اس میں گرداب بہاؤ نہ کٹاؤ ہے کہیں کیوں نہ تالاب ...

مزید پڑھیے

رکھے چراغ طاق پر سارے بجھے ہوئے

رکھے چراغ طاق پر سارے بجھے ہوئے پھر بھی ہوا کے ساتھ مرے معرکے ہوئے پہلے پہل تو اس سے فقط گفتگو ہوئی اور پھر تعلقات بھی اچھے بھلے ہوئے اک دن ہماری لو نے چراغوں کو مات دی لگتے ہیں آپ ٹھیک اسی دن سے جلے ہوئے اس نے کہا تھا آج وہ آئے گا لازماً مرجھا گئے ہیں پھول گلی تک بچھے ہوئے

مزید پڑھیے
صفحہ 520 سے 4657