شاعری

طلسم ذات سے باہر نکلیے

طلسم ذات سے باہر نکلیے نظر کے گھات سے باہر نکلیے اجالے جانے کب سے منتظر ہیں اندھیری رات سے باہر نکلیے تصور سے فقط ہوتا نہیں کچھ ہوائی بات سے باہر نکلیے ہیں انساں کے لئے یہ سم قاتل بری عادات سے باہر نکلیے ندی نالے سبھی امڈے ہوئے ہیں بھری برسات سے باہر نکلیے کہیں گم ہو نہ ...

مزید پڑھیے

آنکھ ہو تو برا بھلا دیکھے

آنکھ ہو تو برا بھلا دیکھے بے بصر آئنے میں کیا دیکھے زندگی کی حسین راہوں میں کربلا ہم نے جا بجا دیکھے اندھا ساون کا ہو تو چاروں طرف کوئی رت ہو ہرا بھرا دیکھے اس کو آئے گا معجزہ ہی نظر عقل سے جو بھی ماورا دیکھے خوشبوؤں کی بہار سے عاری پھول کاغذ کے خوش نما دیکھے بے عمل کو ہمیشہ ...

مزید پڑھیے

تند خو ہوا بھی کب کام کر سکی تنہا

تند خو ہوا بھی کب کام کر سکی تنہا آندھیوں میں روشن ہے شمع زندگی تنہا ساتھ ساتھ چلتے ہیں غم رہ مسرت میں راس کس کو آیا ہے لمحۂ خوشی تنہا اور تیز ہوتا ہے وحشتوں کے عالم میں کیا ہوا بجھائے گی رقص شعلگی تنہا صبح کے مسافر کو کون روک سکتا ہے راستہ بناتا ہے سیل روشنی تنہا رہ گئے سبھی ...

مزید پڑھیے

سلجھی ہوئی پہیلی کا الجھاؤ دیکھ کر

سلجھی ہوئی پہیلی کا الجھاؤ دیکھ کر حیران ہوں میں اب ترا برتاؤ دیکھ کر قسمت کی بات اور ہے لیکن حقیقتاً دریا سے خوف آتا نہیں ناؤ دیکھ کر ہم حسن اشک ہجر ہرے زخم لائے ہیں آؤ خرید لو کوئی غم بھاؤ دیکھ کر یہ دل ہے میرا دل کوئی ان کی دکاں نہیں بکھرے پڑے ہیں جا بہ جا خواب آؤ دیکھ کر اس ...

مزید پڑھیے

پرانے رستوں پہ کوئی کیا راستہ بنائے

پرانے رستوں پہ کوئی کیا راستہ بنائے اسے بنانا ہے تو جدا راستہ بنائے میں اس کی تحویل میں دیا کھو چکی ہوں اب تو عجب نہیں خود ہوا مرا راستہ بنائے مجھے یقیں ہے کہ پانیوں پر بھی چل سکوں گی بغیر کشتی بہ زور پا راستہ بنائے میں اپنی حجت تمام کر کے رکی ہوئی ہوں اب اس سے آگے مرا خدا راستہ ...

مزید پڑھیے

جو ہو سکے تو میسر ہمیں تمام رہو

جو ہو سکے تو میسر ہمیں تمام رہو قیام دل میں کرو اور یہیں مدام رہو یہ کوئی بات کہ اس کے ہوئے کبھی اس کے ہمارے ہو تو سراسر ہمارے نام رہو کبھی تو آؤ ہماری رسائی کی حد میں کبھی کبھی تو ہمارے لیے بھی عام رہو بعید کچھ بھی نہیں ہے ہماری بات سنو طناب خیمۂ امکاں ذرا سا تھام رہو نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

یوں صبح دکھائیں گے ہم رات کے ماروں کو

یوں صبح دکھائیں گے ہم رات کے ماروں کو ٹانکیں گے دوپٹے پر ٹوٹے ہوئے تاروں کو آنکھیں ہی نہیں پہلے منظر بھی نیا دینا پھر ریت سے الجھانا ان خواب سواروں کو محراب سے دل اندر گونجی ہے محبت پھر دروازہ نہ کھولا تو ڈھائے گی مناروں کو تا حد نظر ہے اب تا حد نظر پانی طوفان کی آمد اب توڑے گی ...

مزید پڑھیے

کچھ دن سے اٹھ رہی ہے دل و شہر جاں سے خاک

کچھ دن سے اٹھ رہی ہے دل و شہر جاں سے خاک جب ہم ہرے بھرے ہیں تو آئی کہاں سے خاک پھر بھی یہ دل دھڑک اٹھا اس کی پکار پر گو اس پہ لا کے ڈالی تھی سارے جہاں سے خاک چہرہ اٹا ہے دھول سے خالی ہیں دونوں ہاتھ تم آ رہے ہو چھان کے آخر کہاں سے خاک ہم اس لئے بھی اس سے ملاتے نہیں نظر نسبت زمین کو ہے ...

مزید پڑھیے

جلتے بجھتے ہوئے مکانوں سے

جلتے بجھتے ہوئے مکانوں سے خوف آتا ہے آسمانوں سے آسماں اور زمین گرنے لگے ایک دوجے کو تھامے شانوں سے یہ نئے لوگ تو حقیقت میں منفرد ہیں بہت پرانوں سے زندگی تیری شاہراہوں پر رونقیں ہیں مری دکانوں سے سانپ ہوتے ہیں آستینوں میں فیض ملتا ہے آستانوں سے تیر الجھتے رہے شکاری کے اپنی ...

مزید پڑھیے

خموش درد تھا روتے ہوئے دلاسے تھے

خموش درد تھا روتے ہوئے دلاسے تھے نگاہیں ایک طرف اک طرف تماشے تھے مٹانا چاہیں بھی تو کس طرح مٹا پائیں کہ ایک دوسرے کے دل پہ نام لکھے تھے ہمارا مسئلہ جوہڑ کا مسئلہ نہیں تھا ہمارے آنسو تواتر سے بہتے رہتے تھے میں سوچتی ہوں بھلا اس کا کیا بنا جس نے مری طرح کئی خوش رنگ خواب دیکھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 519 سے 4657