خوبیوں خامیوں اچھی بری عادات سمیت
خوبیوں خامیوں اچھی بری عادات سمیت بول منظور ہوں میں سارے تضادات سمیت جھانک سکتے ہو اگر نیند کی وادی سے پرے دیکھ سکتے ہو مجھے خواب و خیالات سمیت بوڑھے برگد کے جھکے شانے بتاتے ہیں مجھے اس نے ڈھویا ہے کہانی کو روایات سمیت پیڑ کا سایہ نہیں پھل بھی ضرورت ہے مری دل بھی درکار ہے ...