شاعری

خوبیوں خامیوں اچھی بری عادات سمیت

خوبیوں خامیوں اچھی بری عادات سمیت بول منظور ہوں میں سارے تضادات سمیت جھانک سکتے ہو اگر نیند کی وادی سے پرے دیکھ سکتے ہو مجھے خواب و خیالات سمیت بوڑھے برگد کے جھکے شانے بتاتے ہیں مجھے اس نے ڈھویا ہے کہانی کو روایات سمیت پیڑ کا سایہ نہیں پھل بھی ضرورت ہے مری دل بھی درکار ہے ...

مزید پڑھیے

بدلے نہ اگر مقسوم سکھی

بدلے نہ اگر مقسوم سکھی پھر جینا ہے مذموم سکھی مرا دل تیری جاگیر ہوا ہر سمت یہاں پر گھوم سکھی میں سات سروں سے راگ بنی ہر لے ہے مجھے معلوم سکھی مرے کان کے پردے چیرتا ہے مرے اندر ایک ہجوم سکھی دھک دھک پسلی میں شور کرے ترا بنجارا معصوم سکھی

مزید پڑھیے

یہ آسماں زمیں کے ہونٹ چومتا ہوا نہ ہو

یہ آسماں زمیں کے ہونٹ چومتا ہوا نہ ہو کسے خبر ہے کل تلک یہاں پہ کیا ہو کیا نہ ہو وہ مجھ سے مل کے بھی کسی سے وصل کی دعا کرے عجیب پیڑ ہے جو پانی پی کے بھی ہرا نہ ہو یہ دستکیں کواڑ پر برس رہی ہیں جس طرح کواڑ ہی کی نبض آشنا کوئی ہوا نہ ہو وہ کم سخن سہی مگر کوئی تو اور بات ہے خموشیوں کی ...

مزید پڑھیے

مصلحت کوش نہ تھے خواب جلانے سے رہے

مصلحت کوش نہ تھے خواب جلانے سے رہے رات بنتی ہوئی اک بات بنانے سے رہے بزم آئندہ میں کب کون کہاں بیٹھے گا رفتگاں سب کو یہ اسرار بتانے سے رہے تم نے لوٹ آنے کی امید لگائی ہے عبث ہم جو دیوار اٹھا دیں وہ گرانے سے رہے ترے پہلو سے سرکتے ہوئے دل رونے لگا ڈوبنے والے کو تیراک بچانے سے ...

مزید پڑھیے

دہشت کے موسم میں کھلنے والے پھول

دہشت کے موسم میں کھلنے والے پھول پتی پتی بکھرے کون سنبھالے پھول ان ہونٹوں کے لمس میں ایسا جادو ہے آنکھوں پر رکھتے ہی ہو گئے چھالے پھول تتلی تیرا رنگ چرانے آئی ہے خوش رو تتلی کے پریمی متوالے پھول اس کا رستہ دیکھنے والی آنکھوں میں تیرتے رہتے ہیں کچھ منت والے پھول میں نے وصل ...

مزید پڑھیے

جو ہو سکے تو میسر ہمیں تمام رہو

جو ہو سکے تو میسر ہمیں تمام رہو قیام دل میں کرو اور یہیں مدام رہو یہ کوئی بات کہ اس کے ہوئے کبھی اس کے ہمارے ہو تو سراسر ہمارے نام رہو کبھی تو آؤ ہماری رسائی کی حد میں کبھی کبھی تو ہمارے لیے بھی عام رہو بعید کچھ بھی نہیں ہے ہماری بات سنو طناب خیمۂ امکاں ذرا سا تھام رہو نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں اب تو اس کی آنکھوں کے مے کدے میسر ہیں پھر سکون ڈھونڈوگے ساغروں میں جاموں میں دوستی کا دعویٰ کیا عاشقی سے کیا مطلب میں ترے فقیروں میں میں ترے غلاموں میں زندگی بکھرتی ہے شاعری نکھرتی ہے دلبروں کی گلیوں ...

مزید پڑھیے

مختلف ایک ہی سپاہ کا دکھ

مختلف ایک ہی سپاہ کا دکھ اک پیادے کا ایک شاہ کا دکھ منزلوں تک ہمارے ساتھ گیا مختصر ایک شاہراہ کا دکھ دکھ ہمیں اک ادھورے رشتے کا اسی رشتے سے پھر نباہ کا دکھ یعنی یک طرفہ تھا ہمارا عشق ہم نے پالا تھا خواہ مخواہ کا دکھ آپ شہزادی لینے آئے ہیں کیسے سمجھیں گے بادشاہ کا دکھ

مزید پڑھیے

میں رنگ برنگی مورنی مرے پنکھ بہت ممتاز

میں رنگ برنگی مورنی مرے پنکھ بہت ممتاز مرا رقص انوکھا رقص ہے مجھے اپنے آپ پہ ناز میں سبز رتوں کی راز داں میں پت جھڑ کی ہمدرد میں اپنی آپ مثال ہوں میرا ایک جدا انداز میں دھانی شام کا روپ بھی میں صبح کی کومل دھوپ مجھے دیکھ کے کوئل گائے تو ہر پات بجائے ساز میں مست الست فقیرنی ...

مزید پڑھیے

توجہ چاہیں گے پھر بھی کسی بہانے سے

توجہ چاہیں گے پھر بھی کسی بہانے سے شریر تھک گئے جب سیٹیاں بجانے سے میں دھیرے دھیرے اسے اپنی راہ پر لائی اندھیرا گھٹتا گیا روشنی بڑھانے سے خدا دماغ دے ان کو چراغ دے ان کو جو جل گئے ہیں ہمارے دیا جلانے سے سکوت ٹوٹ گیا جیسے کتنی صدیوں کا شجر کا سوکھا ہوا پتا چرمرانے سے

مزید پڑھیے
صفحہ 521 سے 4657