شاعری

مٹی ہستی ہماری بد گمانی میں

مٹی ہستی ہماری بد گمانی میں مرے تھے پیاس سے دریا کے پانی میں کہانی خود کشی پہ ہو گئی مجبور کوئی کردار تھا ایسا کہانی میں ہے ممکن داد دیتے آپ رو بھی دے فنا شاعر ہوا مطلع کے ثانی میں مرا ارماں جو ٹوٹا تو لگا جیسے کسی کا بیٹا دم توڑے جوانی میں شفقؔ کے شعر پڑھنا جو ملے فرصت ملے گا ...

مزید پڑھیے

بھول بیٹھے ساری دنیا عاشقی کی خاطر

بھول بیٹھے ساری دنیا عاشقی کی خاطر عاشقی بھی چھوڑ دی پھر نوکری کی خاطر مار ڈالا ہر خوشی کو خامشی کی خاطر کیا نہیں اس نے کیا میری ہنسی کی خاطر مفلسی ایسی عدو کو بھی نہ بخشے مولیٰ بیچنا ہو جو چراغاں روشنی کی خاطر جانے کتنے لوگ گزرے مجھ سے ہو کر بھائی منتظر میں رہ گیا اک آدمی کی ...

مزید پڑھیے

ہمیں ان سے محبت ہے ضرورت سے زیادا ہی

ہمیں ان سے محبت ہے ضرورت سے زیادا ہی انہیں ہم سے شکایت ہے ضرورت سے زیادہ ہی ستارے رشک کرتے ہیں نظارے رشک کرتے ہیں مری جاں خوب صورت ہے ضرورت سے زیادہ ہی ملا ہے ہم نوا ایسا جو میرا ہم زباں بھی ہے پسند اس کو بھی ثروتؔ ہے ضرورت سے زیادہ ہی فرشتوں کو سناؤں گا میں برگ گل کے ...

مزید پڑھیے

چاندنی سے بھی جل رہے ہیں لوگ

چاندنی سے بھی جل رہے ہیں لوگ لمحہ لمحہ پگھل رہے ہیں لوگ جانے کیا بات ہے کہ مقتل سے منہ چھپائے نکل رہے ہیں لوگ کیسے پہچانوں آشناؤں کو اپنا چہرہ بدل رہے ہیں لوگ مانگتے ہیں قدم پرانی زمیں کیسے پانی پہ چل رہے ہیں لوگ ہم تو برباد ہیں مروت میں اور سب پھول پھل رہے ہیں لوگ ہے یہ ...

مزید پڑھیے

رفتہ رفتہ سنور رہی ہے رات

رفتہ رفتہ سنور رہی ہے رات مانگ تاروں سے بھر رہی ہے رات برف کی چوٹیوں سے ہو ہو کر فرش گل پر اتر رہی ہے رات خواب پلکوں پہ اب نہیں سجتے اب تو ان پر ٹھہر رہی ہے رات میں سحر کی تلاش کیا کرتا میری تو ہم سفر رہی ہے رات نور کی کشتیاں ہیں ساحل پر پانیوں میں اتر رہی ہے رات اپنا سایہ بھی ...

مزید پڑھیے

زمیں سے اونچا حد آسمان پر رکھ دے

زمیں سے اونچا حد آسمان پر رکھ دے شعور ذات کو اونچے نشان پر رکھ دے بلندیاں جسے چاہیں تو ایسا شاہیں ہے ہوا نہ دیکھ پروں کو اڑان پر رکھ دے میں تیرا امن ہوں ترکش میں قید ہوں کب سے کبھی مجھے بھی اٹھا کر کمان پر رکھ دے کڑی سی دھوپ میں احساس ہی نہ کھو جائے کوئی بھی ذائقہ میری زبان پر ...

مزید پڑھیے

مختصر سی یہ زندگانی ہے

مختصر سی یہ زندگانی ہے تیری میری ہی بس کہانی ہے آگ دریا میں جو لگاتا ہے وہ تری آنکھ کا ہی پانی ہے تیری صورت کو روز پڑھتا ہوں یہ صحیفہ تو آسمانی ہے آسماں بھی زمیں پہ اترا ہے دل میں جب بھی کسی نے ٹھانی ہے دھوپ ہی دھوپ ہے مرے سر پر دوستوں کی ہی مہربانی ہے ہے ندی کا پہاڑ سے رشتہ اس ...

مزید پڑھیے

انکار کی طلب ہے نہ اقرار کی طلب

انکار کی طلب ہے نہ اقرار کی طلب دل میں ہے میرے بس ترے دیدار کی طلب ہوتی ہے جیسے صبح کو اخبار کی طلب ہونے لگی ہے پھر کسی دل دار کی طلب خواہش کہ ہو سکون مری زندگی کے ساتھ صحرا میں جیسے سایۂ دیوار کی طلب پرچھائیوں نے ساتھ نہ چھوڑا تمام عمر شاید اسی کو کہتے ہیں سنسار کی طلب دزدیدہ ...

مزید پڑھیے

کسی صحیفے کے جیسا ہوا ہے نام ترا

کسی صحیفے کے جیسا ہوا ہے نام ترا خدا نے ہم پہ اتارا ہوا ہے نام ترا وہی زمانہ جو گزرا بطور عہد وفا اسی زمانے سے بدلا ہوا ہے نام ترا یہاں نہیں ہے ضرورت گلاب رکھنے کی مری کتاب میں لکھا ہوا ہے نام ترا ہمارے دل کی طرح وہ بھی کھل اٹھی ہوگی وہ شاخ جس پہ تراشا ہوا ہے نام ترا بدلتے ...

مزید پڑھیے

اسی لیے تو اجالوں سے دوستی ہوئی ہے

اسی لیے تو اجالوں سے دوستی ہوئی ہے کہ تیرے آنکھ جھپکنے سے روشنی ہوئی ہے ضرور عشق کی حدت سے یہ نمی ہوئی ہے کہ گھاس آپ کے چلنے سے ریشمی ہوئی ہے ہمیں یقین ہے اس باغ کے نہیں ہو تم کہ ہم نے چڑیوں کی تعداد تک گنی ہوئی ہے اسی کا حق ہے کہ دیوان اس کے نام کروں وہ جس کی یاد میں دن رات شاعری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4516 سے 4657