کسی کا خط ہے یا یہ غزل ہے یہ کیسا پرچہ پڑا ہوا ہے
کسی کا خط ہے یا یہ غزل ہے یہ کیسا پرچہ پڑا ہوا ہے گلال سے لب بنے ہیں اس میں کتاب چہرہ بنا ہوا ہے نگاہ اس کی ہے جھیل جیسی کمان جیسی بھوؤں کے نیچے تو سرخ ہونٹوں کے ایک جانب بھی تل کا پہرہ لگا ہوا ہے ہاں سبز قندیل جل رہی ہے بلا کی سرخی ابل رہی ہے ادا سے پلکیں جھکی ہوئیں ہیں حیا کا آنچل ...