شاعری

کسی کا خط ہے یا یہ غزل ہے یہ کیسا پرچہ پڑا ہوا ہے

کسی کا خط ہے یا یہ غزل ہے یہ کیسا پرچہ پڑا ہوا ہے گلال سے لب بنے ہیں اس میں کتاب چہرہ بنا ہوا ہے نگاہ اس کی ہے جھیل جیسی کمان جیسی بھوؤں کے نیچے تو سرخ ہونٹوں کے ایک جانب بھی تل کا پہرہ لگا ہوا ہے ہاں سبز قندیل جل رہی ہے بلا کی سرخی ابل رہی ہے ادا سے پلکیں جھکی ہوئیں ہیں حیا کا آنچل ...

مزید پڑھیے

پاؤں جب میرے آسمان میں تھے

پاؤں جب میرے آسمان میں تھے اس گھڑی آپ ہی دھیان میں تھے جس گھڑی ہم بہت تھے پر امید اس گھڑی آپ کے جہان میں تھے عسرت زیست ہم غریبوں پر دھوپ چھوٹی تو ہم تھکان میں تھے سیر دیوار و در کی کی ہم نے عیش تھی رات ہم مکان میں تھے یاد رہتے تو چور ہو جاتے خواب کیا کیا مرے گمان میں تھے یاد ہے ...

مزید پڑھیے

ہماری آنکھ میں دو پل کی جو خماری تھی

ہماری آنکھ میں دو پل کی جو خماری تھی ادھاری تھی وہ تمہیں دیکھ کر اتاری تھی ہمارے شانوں پہ دن بوجھ تھا گھرانے کا سفر میں شام کٹی رات بے قراری تھی خلوص نام کا پنچھی تمہارے پاس نہ تھا دغا تھا جھوٹ تھا تم میں فریب کاری تھی تمہارے بعد نئے خواب کی تلاش میں تھے ہماری پلکوں پہ وہ ایک ...

مزید پڑھیے

پلٹ جانا کوئی مشکل نہیں تھا

پلٹ جانا کوئی مشکل نہیں تھا مرا ہی واپسی کا دل نہیں تھا متاع زیست لا حاصل نہیں تھا ولے پانے کے میں قابل نہیں تھا وہ چھریاں دھار جس پر ہو رہیں تھیں مرا ہی دل تھا کوئی سل نہیں تھا کھلا باب جنوں جب مجھ پہ یارو مرا تب کوئی مستقبل نہیں تھا مریض عشق ہونے تک سنا ہے ادھوری ذات تھا کامل ...

مزید پڑھیے

پاؤں جب میرے آسمان میں تھے

پاؤں جب میرے آسمان میں تھے اس گھڑی آپ ہی دھیان میں تھے جس گھڑی ہم بہت تھے پر امید اس گھڑی آپ کے جہان میں تھے عسرت زیست ہم غریبوں پر دھوپ چھوٹی تو ہم تھکان میں تھے سیر دیوار و در کی کی ہم نے عیش تھی رات ہم مکان میں تھے یاد رہتے تو چور ہو جاتے خواب کیا کیا مرے گمان میں تھے یاد ہے ...

مزید پڑھیے

پلٹ جانا کوئی مشکل نہیں تھا

پلٹ جانا کوئی مشکل نہیں تھا مرا ہی واپسی کا دل نہیں تھا متاع زیست لا حاصل نہیں تھا ولے پانے کے میں قابل نہیں تھا وہ چھریاں دھار جس پر ہو رہیں تھیں مرا ہی دل تھا کوئی سل نہیں تھا کھلا باب جنوں جب مجھ پہ یارو مرا تب کوئی مستقبل نہیں تھا مریض عشق ہونے تک سنا ہے ادھوری ذات تھا کامل ...

مزید پڑھیے

ملی ہے چھٹی سو تو بھی اپنوں کو جا ملے گا

ملی ہے چھٹی سو تو بھی اپنوں کو جا ملے گا ہماری آنکھوں کا کی خیر پھر جاگنا ملے گا نہ آئنے سے ہی خود یہ پوچھیں کہ آپ کیا ہیں بہت ملیں گے مگر کہاں آپ سا ملے گا وہ اپنا حامی یہ کہہ رہا تھا کہ تیری خاطر جو جنگ ہوئی تو وہ پہلی صف میں کھڑا ملے گا ہماری آنکھوں سے چین لے کر تو سو سکے گا تو ...

مزید پڑھیے

عقل تھی آگہی نے مار دیا

عقل تھی آگہی نے مار دیا دید کو روشنی نے مار دیا ایک بیکس تھا جس کے خوابوں کو اس کی بے چارگی نے مار دیا ہم نے چاہا کہ بات بن جائے زیست کی بے رخی نے مار دیا دیکھ کر پانی مر گیا پیاسا اس کو سچی خوشی نے مار دیا تھا جو اپنا بنا وہ انجانا پھر اسی اجنبی نے مار دیا کیا تعجب کی کوئی بات ...

مزید پڑھیے

جب جہاں میں پیٹ سب کا ہی ہے بھرتی روٹی

جب جہاں میں پیٹ سب کا ہی ہے بھرتی روٹی منہ چڑھاتی روز و شب پھر کیوں مرا ہی روٹی روز چولھے میں جلاتا ہے جو خود داری کو بھوک پھر اس کی مٹائے کیسے اس کی روٹی عمر اتنی تھی کہ روٹی ماں کے ہاتھوں کھاتا مجھ کو تو اس عمر میں کھانے لگی تھی روٹی ناچتی ہے بھوک جب بھی چار دن آنگن میں تب لہو ...

مزید پڑھیے

جاتے جاتے یہ تکلف بھی نبھاتے جائیے

جاتے جاتے یہ تکلف بھی نبھاتے جائیے عشق کے ظلم و ستم سارے بھلاتے جائیے مفلسوں کو اک زباں اس کے لیے دے دی گئی صاحبوں کی ہاں میں بس ہاں ہاں ملاتے جائیے راہ بربادی پہ جانا ہے تو جائیں شوق سے ہاں مگر اپنے یہ نقش پا مٹاتے جائیے سرحدیں ہو ختم ساری ختم ہو سب بھید بھاؤ خوں سے میرے ایسا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4515 سے 4657