شاعری

کیا دن تھے گلابوں سے شناسائی تھی اپنی

کیا دن تھے گلابوں سے شناسائی تھی اپنی آتش کا جواں ہونا بھی رسوائی تھی اپنی مہتاب کی سانسوں میں توازن نہ رہا تھا اس چاند نے اک رات جو چمکائی تھی اپنی یہ عشق تو لگتا ہے کہ آسیب ہے کوئی ہم نے تو طبیعت ذرا بہلائی تھی اپنی اب ڈھونڈ کے لائے کوئی اور آئنہ جس میں صورت ہمیں اک روز نظر ...

مزید پڑھیے

کیا کہیں کیا یہ جہان گزراں لگتا ہے

کیا کہیں کیا یہ جہان گزراں لگتا ہے گل کا ہنسنا بھی طبیعت پہ گراں لگتا ہے اس جہاں سے بھی تو اک روز نکلنا ہوگا یہ جہاں بھی تو کرائے کا مکاں لگتا ہے اشک غم آنکھ میں آ جاتے ہیں روکیں کیسے آگ جلتی ہے تو آنکھوں میں دھواں لگتا ہے جانے کیا میری سماعت کو ہوا ہے فاخرؔ نغمۂ عیش بھی سنئے ...

مزید پڑھیے

اے شوق دل بھی ایک معما عجیب ہے

اے شوق دل بھی ایک معما عجیب ہے صحرا کو آندھیوں کی تمنا عجیب ہے موجوں کے اضطراب نے دھڑکا دیا تھا دل اترے جو ہم اتر گیا دریا عجیب ہے دشوار ہو گئی ہے اب اپنی شناخت بھی آئینہ کہہ رہا ہے کہ چہرہ عجیب ہے شاخیں جو میرے صحن میں ہیں ان میں پھل نہ آئے ہم سائے کا درخت بھی کتنا عجیب ...

مزید پڑھیے

سیاہ رات پشیماں ہے ہم رکابی سے

سیاہ رات پشیماں ہے ہم رکابی سے وہ روشنی ہے ترے غم کی ماہتابی سے صبا کے ہاتھ ہے اب عزت نگاہ مری چمن مہکنے لگا گل کی بے حجابی سے فرار ان سے ہے مشکل وہ دسترس میں نہیں یہ زرد زرد سے موسم وہ دن گلابی سے لہو لہو نظر آتی ہے شاخ گل مجھ کو کھلے وہ پھول تری تازہ انقلابی سے عجب نہیں ہے کہ ...

مزید پڑھیے

کیا کہئے راہ شوق کو کس طرح سر کیا

کیا کہئے راہ شوق کو کس طرح سر کیا ہم نے سفر فضاؤں میں بے بال و پر کیا زلف اس کی ہو رہی تھی پریشاں ہواؤں میں ہم یہ سمجھ رہے تھے دعا نے اثر کیا پوچھو نہ کس طرح سے گزاری ہے زندگی مدھم سے اک دیے نے ہوا میں سفر کیا فاخرؔ گزر رہے ہیں ہم اس دور سے یہاں جس نے محبتوں کو بھی مرہون زر کیا

مزید پڑھیے

آج یوں ہستیٔ امکان و گماں سے نکلے

آج یوں ہستیٔ امکان و گماں سے نکلے ڈوب کر جیسے مکاں سیل رواں سے نکلے رت جگے بولنے لگتے ہیں مری آنکھوں میں روبرو حرف نہ جب کوئی زباں سے نکلے شاخ ہستی سے نہ اڑ جائے کہیں طائر جاں جب تلک تیر کسی شوخ کماں سے نکلے سب گلاب اپنے ہی لگتے ہیں چمن میں لیکن کوئی تو اپنا صف لالہ رخاں سے ...

مزید پڑھیے

اب چاند نہیں کوئی ستارہ نہیں کوئی

اب چاند نہیں کوئی ستارہ نہیں کوئی شب اتنی اندھیری ہے کہ نکلا نہیں کوئی ہر چند نظر آتی ہے دیوار تمنا چاہیں کہ ٹھہر جائیں تو سایہ نہیں کوئی چہروں کو یہ غم ہے کوئی آئینہ نہیں ہے آئینہ ترستا ہے کہ چہرہ نہیں کوئی جس سے بھی ملو دیکھ کے رہ جاتا ہے منہ کو ایسا بھی نہیں ہے کہ شناسا نہیں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کا بھی ہم سے کبھی پردہ نہیں رکھا

آنکھوں کا بھی ہم سے کبھی پردہ نہیں رکھا ملنے کا بھی لیکن کوئی رستہ نہیں رکھا وہ زخم دیے باد صبا نے کہ شجر نے پتہ بھی سر شاخ تمنا نہیں رکھا ہم نے تو بہت صاف کیا آئنہ دل کا اس نے مگر آئینے میں چہرہ نہیں رکھا دیوار اٹھائی اگر الفاظ کی اس نے بھولے سے بھی معنی کا دریچہ نہیں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں اس کی ڈوب کے ابھرا نہیں ہوں میں

آنکھوں میں اس کی ڈوب کے ابھرا نہیں ہوں میں جس نے بھلا دیا اسے بھولا نہیں ہوں میں اب لمحہ لمحہ اپنے بکھرنے کا خوف ہے غنچے کی طرح بند ہوں کھلتا نہیں ہوں میں پیچھے پلٹ کے دیکھا تو پرچھائیں بھی نہ تھی سوچا تھا راہ شوق میں تنہا نہیں ہوں میں یہ سوچتا ہوں کیسے رہوں گا تمہارے ساتھ اکثر ...

مزید پڑھیے

اک ہم ہیں گلا کرنے کی ہمت نہیں کرتے

اک ہم ہیں گلا کرنے کی ہمت نہیں کرتے اک تم ہو کہ خوابوں کو حقیقت نہیں کرتے جاؤ تو مگر عکس کوئی چھوڑ نہ جانا اب آئنے عکسوں کی حفاظت نہیں کرتے اب چاند کا ارماں بھی سر شام نہیں ہے آنکھوں کے جھروکے بھی شکایت نہیں کرتے ہم دھوپ سے نرمی کی امیدیں ہی رکھے جائیں ہر چند کہ سائے بھی مروت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4406 سے 4657