شاعری

جس سمے تیرا اثر تھا مجھ میں

جس سمے تیرا اثر تھا مجھ میں بات کرنے کا ہنر تھا مجھ میں صبح ہوتے ہی سبھی نے دیکھا کوئی تا حد نظر تھا مجھ میں ماں بتاتی ہے کہ بچپن کے سمے کسی آسیب کا ڈر تھا مجھ میں جو بھی آیا کبھی واپس نہ گیا ایسی چاہت کا بھنور تھا مجھ میں میں تھا صدیوں کے سفر میں احمدؔ اور صدیوں کا سفر تھا مجھ ...

مزید پڑھیے

کیا کیا محبتوں کے زمانے بدل گئے

کیا کیا محبتوں کے زمانے بدل گئے اب تم کبھی ملے ہو تو آنسو نکل گئے فرط غم حوادث دوراں کے باوجود جب بھی ترے دیار سے گزرے مچل گئے میں نکتہ چیں نہیں ہوں مگر یہ بتائیے وہ کون تھے جو ہنس کے گلوں کو مسل گئے کچھ دست گل فروش میں سنولا کے رہ گئے کچھ باغباں کی برق نوازی سے جل گئے تم نے ...

مزید پڑھیے

زندگی غم کی آنچ سہہ کوئی

زندگی غم کی آنچ سہہ کوئی یوں جلی یوں بجھی کہ دھول ہوئی ہم نے بھی جشن گل کو دیکھا تھا آج تک سوچتے ہیں بھول ہوئی کیا کریں اپنی اس طبیعت کو آپ سے مل کے بھی ملول ہوئی حسن شیریں رہا شکار ہوس جہد فرہاد بے حصول ہوئی ہم ہیں وہ کشتگان شوق جنہیں صحبت دار بھی قبول ہوئی لے سنبھل ظلمتوں کے ...

مزید پڑھیے

بہ وصف شوق بھی دل کا کہا نہیں کرتے

بہ وصف شوق بھی دل کا کہا نہیں کرتے فروغ قامت و رخ کی ثنا نہیں کرتے شکست عہد ستم پر یقین رکھتے ہیں ہم انتہائے ستم کا گلا نہیں کرتے کچھ اس طرح سے لٹی ہے متاع دیدہ و دل کہ اب کسی سے بھی ذکر وفا نہیں کرتے اسی لئے ہیں سزاوار جور برق ستم کہ حق خدمت گلچیں ادا نہیں کرتے مذاق کوہکنی ہو ...

مزید پڑھیے

ہم ہی بدلیں گے رہ و رسم گلستاں یارو

ہم ہی بدلیں گے رہ و رسم گلستاں یارو ہم سے وابستہ ہے تعمیر بہاراں یارو قربت کاکل و رخسار سے جی تنگ نہیں اک ذرا چین تو دے گردش دوراں یارو لاکھ ہم مرحلۂ دار و رسن سے گزرے زندگی سے نہ ہوئے پھر بھی گریزاں یارو اک تھکا خواب کہ سینے میں سلگتا ہے ابھی اک دبی یاد کہ ہے نیش رگ جاں ...

مزید پڑھیے

مثال برگ شکستہ ہوا کی زد پر ہے

مثال برگ شکستہ ہوا کی زد پر ہے کوئی چراغ اکیلا ہوا کی زد پر ہے امان ڈھونڈ رہا ہے کھلا ہوا پانی محبتوں کا جزیرہ ہوا کی زد پر ہے کراہتی ہیں کسی کے فراق میں شامیں دل ایسا ایک شگوفہ ہوا کی زد پر ہے منائیں خیر کہو ساحلوں سے آج کی رات سبک خرام سا دریا ہوا کی زد پر ہے وفور رنج تمنا سے ...

مزید پڑھیے

ان کو میں کربلا کے مہینے میں لاؤں گا

ان کو میں کربلا کے مہینے میں لاؤں گا کوفہ کے سارے لوگ مدینے میں لاؤں گا یہ زر بھی ایک روز دفینے میں لاؤں گا سارے جہاں کے درد کو سینے میں لاؤں گا مٹی کچھ اجنبی سے جزیروں کی لازمی لوٹا تو اپنے ساتھ سفینے میں لاؤں گا پہلے کروں گا چھت پہ بہت دیر گفتگو پھر اس کے بعد چاند کو زینے میں ...

مزید پڑھیے

سوچتا ہوں یہاں کس سے ہے شناسائی مری

سوچتا ہوں یہاں کس سے ہے شناسائی مری وہی ویراں سا مکاں ہے وہی تنہائی مری جس کی زلفوں میں لگایا ہے محبت کا گلاب کاغذی پھولوں سے کرتا ہے پذیرائی مری اس دریچے میں نہیں دیکھنے والا کوئی وہ تماشا ہوں کہ ہے خلق تماشائی مری بند غم ٹوٹ کے اشعار میں بہہ نکلا ہے قریے قریے میں ہوئی جاتی ...

مزید پڑھیے

موسم تو بدلتا ہے بدل جائے تو کیا ہو

موسم تو بدلتا ہے بدل جائے تو کیا ہو پھولوں سے جو خوشبو بھی نکل جائے تو کیا ہو جاتا ہوں کڑی دھوپ میں پرچھائیں کے ہم راہ صحرا میں یہ پرچھائیں بھی جل جائے تو کیا ہو یہ مشورۂ ضبط بھی تسلیم ہے لیکن آنسو مری آنکھوں سے نکل جائے تو کیا ہو مہتاب سہارا ہے شب زیست کا فاخرؔ یہ زرد سا مہتاب ...

مزید پڑھیے

جلتا رہا چراغ یقین و گمان کا

جلتا رہا چراغ یقین و گمان کا لیکن ہوا نہ دور اندھیرا مکان کا گندم کی بالیوں سے بہت روشنی ہوئی اس روشنی سے قرض نہ اترا کسان کا آنچل کسی کا تیز ہوا نے اڑا دیا کشتی سے رابطہ نہ رہا بادبان کا زخم نوازشات مہکتا رہا سدا دیکھا کوئی گلاب نہ اس آن بان کا فاخرؔ جمی ہوئی ہے ابھی تک وہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4405 سے 4657