شاعری

جس شخص کو دیکھو وہی سرگرم سفر ہے

جس شخص کو دیکھو وہی سرگرم سفر ہے دنیا کہیں ویران نہ ہو جائے یہ ڈر ہے لائے گی کبھی رنگ ہواؤں کی محبت ہم جس میں بسر کرتے ہیں وہ ریت کا گھر ہے صحرا میں کسی سائے کی امید نہ ٹوٹی حسرت کی نگاہوں میں بگولا بھی شجر ہے نکلی ہے گمانوں سے یہی شکل یقیں کی جس سمت اڑے گرد وہی راہ گزر ہے مہتاب ...

مزید پڑھیے

چاندنی جس کی در جاں پہ ہم اکثر دیکھیں

چاندنی جس کی در جاں پہ ہم اکثر دیکھیں کبھی اس چاند کو بھی ہاتھ سے چھو کر دیکھیں کیسے بھر لیں در و دیوار پہ آویزاں ہیں جس طرف دیکھیں تری یاد کا منظر دیکھیں کبھی بارش کی بھی راتوں میں نہ چمکی بجلی یہی ارمان رہا گھر کو منور دیکھیں آنکھ کھل جائے تو صحرا کی زمیں پر ہوں قدم نیند آ ...

مزید پڑھیے

مری حیات کے صحرا میں چھاؤں جیسا تھا

مری حیات کے صحرا میں چھاؤں جیسا تھا عجیب شخص تھا ٹھنڈی ہواؤں جیسا تھا کھلا ہی رہتا تھا ہر دم گلاب کی صورت مزاج اس کا چمن کی فضاؤں جیسا تھا اسی زمانے میں رہتا ہوں ہر زمانے میں وہ جب بدن پہ گلوں کی قباؤں جیسا تھا یہ اس کی یاد تپاں کیوں ہے دھوپ سی فاخرؔ وہ بے وفا تو برستی گھٹاؤں ...

مزید پڑھیے

مسافت شب ہجراں طویل لکھتے رہے

مسافت شب ہجراں طویل لکھتے رہے ملے جو درد انہیں سنگ میل لکھتے رہے حکایتیں ہی نہیں لکھیں آگ کی ہم نے حقیقتیں بھی برنگ خلیل لکھتے رہے جو قلب و جاں میں ہے خوشبو کسی کی زلفوں کی اسی کو اپنی متاع جلیل لکھتے رہے رہی یہ آس کہ سیراب ہوگی کشت حیات سو جوہڑوں کو بھی دریائے نیل لکھتے ...

مزید پڑھیے

بھٹکتے پھرتے ہیں شہر وفا سے نکلے ہوئے

بھٹکتے پھرتے ہیں شہر وفا سے نکلے ہوئے بہت ملول ہیں کوئے وفا سے نکلے ہوئے طلسم آب ثبات گلاب عکس چراغ تمام رنگ ہیں تیری قبا سے نکلے ہوئے بلائیں پھرتی ہیں خالی مکان میں شاید پڑے ہیں دور دریچے ہوا سے نکلے ہوئے نوا میں کرب وہی دل کی وحشتیں بھی وہی گو ایک عمر ہوئی ہے بلا سے نکلے ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں پہ تبسم کا لبادہ تو نہیں تھا

ہونٹوں پہ تبسم کا لبادہ تو نہیں تھا اے دل سم اندوہ زیادہ تو نہیں تھا اک رنج تمنا سے بہت سرخ تھیں آنکھیں صد شکر خدا نشۂ بادہ تو نہیں تھا آئے تھے ترے پاس گھڑی بھر کے لیے ہم تا عمر ٹھہرنے کا ارادہ تو نہیں تھا آسان تو پہلے بھی نہیں تھی یہ رہ دل مشکل بھی مگر اتنا یہ جادہ تو نہیں ...

مزید پڑھیے

مثال برگ شکستہ ہوا کی زد پر ہے

مثال برگ شکستہ ہوا کی زد پر ہے کوئی چراغ اکیلا ہوا کی زد پر ہے امان ڈھونڈ رہا ہے کھلا ہوا پانی محبتوں کا جزیرہ ہوا کی زد پر ہے کراہتی ہیں کسی کے فراق میں شامیں دل ایسا ایک شگوفہ ہوا کی زد پر ہے منائیں خیر کہو ساحلوں سے آج کی رات سبک خرام سا دریا ہوا کی زد پر ہے وفور رنج تمنا سے ...

مزید پڑھیے

اب نہ صحرا ہے نہ دریا باقی

اب نہ صحرا ہے نہ دریا باقی رہ گئی چشم تماشا باقی ان ہواؤں نے نہ چھوڑا اب کے شاخ پر ایک بھی پتا باقی چھن گیا زعم گل افشانیٔ لب رہ گیا ہونٹ پہ نوحہ باقی لوٹ جانے کے لیے دشت امید اب رہا کوئی نہ رستہ باقی

مزید پڑھیے

خلاف تھا نہ زمانہ نہ وقت ایسا تھا

خلاف تھا نہ زمانہ نہ وقت ایسا تھا جو سوچیے تو یہی ہے نا بخت ایسا تھا بہار رت میں بھی شاخوں کے ہاتھ خالی تھے کھلے نہ پھول کہ موسم ہی سخت ایسا تھا دئے ہیں زخم کچھ ایسے کہ بھر سکیں نہ کبھی یہ اور بات کہ وہ گل بدست ایسا تھا شعاع مہر ہی آئی نہ چاندنی اتری میں کیا کہوں کہ مرے دل کا دشت ...

مزید پڑھیے

اگا ویرانیوں کا اک شجر آہستہ آہستہ

اگا ویرانیوں کا اک شجر آہستہ آہستہ شکستہ ہو گئے دیوار و در آہستہ آہستہ کہاں جاتا ہے یہ سیل روان عمر گم گشتہ بہے جاتے ہیں روز و شب کدھر آہستہ آہستہ مرے دل کے خرابے کو کبھی آباد کر ایسے مری جاں کے بیاباں سے گزر آہستہ آہستہ ہوئے ہم دونوں خاکستر دھواں اٹھا نہ آنچ آئی ہوئی کیونکر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4407 سے 4657