شاعری

عرفان و آگہی کے سزا وار ہم ہوئے

عرفان و آگہی کے سزا وار ہم ہوئے سویا پڑا تھا شہر کہ بیدار ہم ہوئے تا عمر انتظار سہی پر بروز حشر اچھا ہوا کہ تیرے طلب گار ہم ہوئے ہم پر وفائے عہد انا الحق بھی فرض تھا اس واسطے کہ محرم اسرار ہم ہوئے ٹھہرے گی ایک دن وہی معراج بندگی جو بات کہہ کے آج گنہ گار ہم ہوئے ہوتے گئے وہ خلق ...

مزید پڑھیے

تجھ سے اے زیست ہمیں جتنے حسیں خواب ملے

تجھ سے اے زیست ہمیں جتنے حسیں خواب ملے نقش بر آب کبھی صورت سیماب ملے ہم نے ہر موج حوادث کو کنارا سمجھا ہم کو ہر موج میں لپٹے ہوئے گرداب ملے گردش وقت نے گہنا دئے کتنے سورج صبح کی گود میں دم توڑتے مہتاب ملے جب بھی صدیوں کی فتوحات کو مڑ کر دیکھا خوں میں لتھڑے ہوئے تاریخ کے ابواب ...

مزید پڑھیے

وہ کم نصیب جو عہد جفا میں رہتے ہیں

وہ کم نصیب جو عہد جفا میں رہتے ہیں عجیب معرض کرب و بلا میں رہتے ہیں نمود ذوق و بلوغ ہنر کا ذکر ہی کیا یہاں یہ لوگ تو آہ و بکا میں رہتے ہیں وداع خلد کے بعد عرصۂ فراق میں ہیں بہ قید جسم دیار فنا میں رہتے ہیں وہ صبح و شام مری روح میں ہیں جلوہ نما دل فگار و الم آشنا میں رہتے ہیں حصار ...

مزید پڑھیے

دن ڈھلا شب ہوئی چراغ جلے

دن ڈھلا شب ہوئی چراغ جلے بزم رنداں میں پھر ایاغ جلے دفعتاً آندھیوں نے رخ بدلا ناگہاں آرزو کے باغ جلے آس ڈوبی تو دل ہوا روشن بجھ گیا دل تو دل کے داغ جلے جل بجھے جستجو کے پروانے مستقل منزل سراغ جلے گاہ مصروفیت سلگ اٹھے گاہ تنہائی و فراغ جلے آنکھیں کرتی ہیں شبنم افشانی جب تری ...

مزید پڑھیے

کیسے سمجھے گا صدف کا وہ گہر سے رشتہ

کیسے سمجھے گا صدف کا وہ گہر سے رشتہ جو سمجھ پائے نہ آنکھوں کا نظر سے رشتہ معتبر سر ہی بنا لو تو بہت اچھا ہے کم ہی رہ پاتا ہے دستار کا سر سے رشتہ ہے غریبوں کا امیروں سے تعلق اتنا جتنا ہوتا ہے چراغوں کا سحر سے رشتہ بے اثر جب ہیں زبانیں تو کیا کیا جائے ورنہ رکھتی ہیں دعائیں بھی اثر ...

مزید پڑھیے

میں ترے لطف و کرم کا جب سے رس پینے لگا

میں ترے لطف و کرم کا جب سے رس پینے لگا بس تبھی سے کھل کے اپنی زندگی جینے لگا اے بلندی چاہنے والے بھٹک مت آ ادھر میرے شانوں کے سہارے عرش تک زینے لگا ہو خوشی کوئی بھی جا کر پڑ گئی تیرے گلے غم ہو کوئی بھی وہ آ کر بس مرے سینے لگا ہوک کتنی سوز کتنا ٹیس کتنی دل میں ہے اے متاع زخم تو اب ...

مزید پڑھیے

ہم اس سے عشق کا اظہار کر کے دیکھتے ہیں

ہم اس سے عشق کا اظہار کر کے دیکھتے ہیں کیا ہے جرم تو اقرار کر کے دیکھتے ہیں ہے عشق جنگ تو پھر جیت لیں چلو ہم لوگ ہے دریا آگ کا تو پار کر کے دیکھتے ہیں ہے کوہسار تو نہریں نکال دیں اس سے ہے ریگزار تو گلزار کر کے دیکھتے ہیں ہم اس کو دیکھنا چاہیں تو کس طرح دیکھیں سو اس کی یاد کو کردار ...

مزید پڑھیے

نظم خبروں کو کیا اور نہ لطیفے لکھے

نظم خبروں کو کیا اور نہ لطیفے لکھے میں نے اشعار میں جینے کے سلیقے لکھے مرتبے اہل سخن کے تمہیں طے کرنے ہیں کس نے حق بات کہی کس نے قصیدے لکھے سب کو تدبیر بھی کرنے کو وہی کہتا ہے اور ہیں سب کے مقدر بھی اسی کے لکھے شدت مہر سے دی اس کے غضب کو تشبیہ اس کی رحمت کو اگر فضل کے سائے ...

مزید پڑھیے

زندگی سے پاس لیکن حسن کے قصے سے دور

زندگی سے پاس لیکن حسن کے قصے سے دور ہم غزل رکھتے ہیں اپنی زلف کے سائے سے دور ہم سے جن کو انسیت ہے وہ کھنچے آ جائیں گے ان کو کیا نزدیک لائیں جو ہیں خود پہلے سے دور جانے کیسے کرب ابھرے میرے چہرے پر کہ جو وہ نگاہیں اپنی رکھتے ہیں مرے چہرے سے دور ایک لمحہ پیار کا جس کو ملے وہ سرخ ...

مزید پڑھیے

ہم نشیں رات ہے تو رات بھی ڈھل جائے گی

ہم نشیں رات ہے تو رات بھی ڈھل جائے گی صبح دم صورت حالات بدل جائے گی حدت شوق سلامت ہے تو زنجیر جفا صورت شمع کسی روز پگھل جائے گی ان کا دم بھرتے ہو تو غم نہ کرو آخر کار ان پہ دم دینے کی حسرت بھی نکل جائے گی ہم صفیرو کبھی مٹتی ہے تمنائے بہار یہ کسی پھول کسی شعلے میں ڈھل جائے گی یہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4294 سے 4657