شاعری

برش تیغ بھی ہے پھول کی مہکار بھی ہے

برش تیغ بھی ہے پھول کی مہکار بھی ہے وہ خموشی کہ جو صد موجب اظہار بھی ہے چھوڑیئے ان کے شب و روز کی روداد زبوں آپ کو خاک نشینوں سے سروکار بھی ہے مصلحت مجھ کو بھی ملحوظ ہے اے ہم سخنو پر مرے پیش نظر وقت کی رفتار بھی ہے موت کے خوف سے ہر سانس رکی جاتی ہے زندگی آج کوئی تیرا خریدار بھی ...

مزید پڑھیے

جب بہ فیضان جنوں پرچم زر کھلتے ہیں

جب بہ فیضان جنوں پرچم زر کھلتے ہیں قفل شب توڑ کے انوار سحر کھلتے ہیں یوں ابھرتی ہے دل تار میں امید کی ضو جیسے زنداں کے کبھی روزن و در کھلتے ہیں غم سے ملتا ہے مری فکر کو اس طرح فراغ جس طرح طائر پر بستہ کے پر کھلتے ہیں ابر برسے تو بیاباں میں مہکتی ہے بہار لاکھ مے خانے سر راہ گزر ...

مزید پڑھیے

آنکھ دریا جگر لہو کرنا

آنکھ دریا جگر لہو کرنا کتنا مشکل ہے آرزو کرنا تجزیہ دل نشیں خیالوں کا ہے غزالوں کی جستجو کرنا تذکرہ ان کی دل نوازی کا اور پھر میرے روبرو کرنا بس یہی ایک شغل تنہائی رہ گیا خود سے گفتگو کرنا کشتگان الم سے سیکھا ہے درد مندوں کی آبرو کرنا دوستوں کے کرم سے چھوڑ دیا ہم نے اندیشۂ ...

مزید پڑھیے

جاں رہے یا نہ رہے نام رہے

جاں رہے یا نہ رہے نام رہے ساتھیو رسم جنوں عام رہے بارہا سعیٔ طلب کی ہم نے یہ الگ بات کہ ناکام رہے عظمت عشق سے ناواقف تھے جو اسیر ہوس خام رہے کیا تعجب ہے کہ پیران حرم مر کے بھی طالب اصنام رہے کیا خبر ہے کہ یوں ہی اے اخترؔ تا بہ کے گردش ایام رہے

مزید پڑھیے

بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک

بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک بنے رہو گے تم اس ملک میں میاں کب تک حرم سرا کی حفاظت کو تیغ ہی نہ رہی تو کام دیں گی یہ چلمن کی تیلیاں کب تک میاں سے بی بی ہیں پردہ ہے ان کو فرض مگر میاں کا علم ہی اٹھا تو پھر میاں کب تک طبیعتوں کا نمو ہے ہوائے مغرب میں یہ غیرتیں یہ حرارت یہ ...

مزید پڑھیے

سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں

سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں یہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں بحر ہستی میں ہوں مثال حباب مٹ ہی جاتا ہوں جب ابھرتا ہوں اتنی آزادی بھی غنیمت ہے سانس لیتا ہوں بات کرتا ہوں شیخ صاحب خدا سے ڈرتے ہوں میں تو انگریزوں ہی سے ڈرتا ہوں آپ کیا پوچھتے ہیں میرا مزاج شکر اللہ کا ہے مرتا ہوں یہ ...

مزید پڑھیے

دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا

دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا بت کے بندے ملے اللہ کا بندا نہ ملا بزم یاراں سے پھری باد بہاری مایوس ایک سر بھی اسے آمادۂ سودا نہ ملا گل کے خواہاں تو نظر آئے بہت عطر فروش طالب زمزمۂ بلبل شیدا نہ ملا واہ کیا راہ دکھائی ہے ہمیں مرشد نے کر دیا کعبہ کو گم اور کلیسا نہ ملا رنگ ...

مزید پڑھیے

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیا بلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا اللہ بچائے مرض عشق سے دل کو سنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ...

مزید پڑھیے

حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا

حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا یہ طرز احسان کرنے کا تمہیں کو زیب دیتا ہے مرض میں مبتلا کر کے مریضوں کو دوا دینا بلائیں لیتے ہیں ان کی ہم ان پر جان دیتے ہیں یہ سودا دید کے قابل ہے کیا لینا ہے کیا دینا خدا کی یاد میں محویت دل بادشاہی ...

مزید پڑھیے

آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے

آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے پھر مری جان گرفتار بلا ہوتی ہے شوق پابوسیٔ جاناں مجھے باقی ہے ہنوز گھاس جو اگتی ہے تربت پہ حنا ہوتی ہے پھر کسی کام کا باقی نہیں رہتا انساں سچ تو یہ ہے کہ محبت بھی بلا ہوتی ہے جو زمیں کوچۂ قاتل میں نکلتی ہے نئی وقف وہ بہر مزار شہدا ہوتی ہے جس نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4295 سے 4657