میں ترے لطف و کرم کا جب سے رس پینے لگا
میں ترے لطف و کرم کا جب سے رس پینے لگا
بس تبھی سے کھل کے اپنی زندگی جینے لگا
اے بلندی چاہنے والے بھٹک مت آ ادھر
میرے شانوں کے سہارے عرش تک زینے لگا
ہو خوشی کوئی بھی جا کر پڑ گئی تیرے گلے
غم ہو کوئی بھی وہ آ کر بس مرے سینے لگا
ہوک کتنی سوز کتنا ٹیس کتنی دل میں ہے
اے متاع زخم تو اب یوں نہ تخمینے لگا
جھریاں چہرے کی اخترؔ یہ دکھائیں گے تجھے
عمر جب ڈھلنے لگے گھر میں نہ آئینے لگا