شاعری

غرور پاس روایت بدل کے رکھ دوں گا

غرور پاس روایت بدل کے رکھ دوں گا میں رفتگاں کی شریعت بدل کے رکھ دوں گا گدائے علم ہوں نکلا تو پھر قرینے سے تمہارا طرز طریقت بدل کے رکھ دوں گا صلاح دوست شرافت سے مان لے ورنہ میں یہ لباس شرافت بدل کے رکھ دوں گا جو عہد رفتہ سے جاؤں گا رفتگاں کی طرف تو پھر سکون سے وحشت بدل کے رکھ دوں ...

مزید پڑھیے

نفرتوں سے چہرہ چہرہ گرد تھا

نفرتوں سے چہرہ چہرہ گرد تھا مجرم انسانیت ہر فرد تھا کچھ ہواؤں میں بھی تھا خوف و ہراس کچھ فضاؤں کا بھی چہرہ زرد تھا بے حسی میں دفن تھی انسانیت آدمیت کا بھی لہجہ سرد تھا اپنے کاندھوں پر اٹھائے اپنا بوجھ کوئی آوارہ کوئی شب گرد تھا پھول سے چہرے تھے مرجھائے ہوئے شہر گل بھی آج شہر ...

مزید پڑھیے

برق سے آشیاں کا رشتہ ہے

برق سے آشیاں کا رشتہ ہے عرش سے خاکداں کا رشتہ ہے میرے افسانۂ محبت سے آپ کی داستاں کا رشتہ ہے آج کل ہم جنوں پسندوں سے ہر نئے امتحاں کا رشتہ ہے اہل گلشن کی خستہ حالی سے سازش باغباں کا رشتہ ہے آپ مختار اور ہم مجبور سوچئے تو کہاں کا رشتہ ہے شیخ صاحب کا حور و غلماں سے صرف وہم و ...

مزید پڑھیے

عہد وفا کا قرض ادا کر دیا گیا

عہد وفا کا قرض ادا کر دیا گیا محرومیوں کا درد عطا کر دیا گیا پھولوں کے داغ ہائے فروزاں کو دیکھ کر ارزاں کچھ اور رنگ حنا کر دیا گیا وارفتگان شوق کا شکوہ سنے بغیر گلشن سپرد اہل جفا کر دیا گیا دل سے امنگ لب سے دعا چھین لی گئی کہنے کو قیدیوں کو رہا کر دیا گیا یک دو نفس بھی کار زیاں ...

مزید پڑھیے

جفا کی رسم ستم کا رواج بدلے گا

جفا کی رسم ستم کا رواج بدلے گا فقیہ شہر کا آخر مزاج بدلے گا میں جانتا ہوں بدلتی رتوں کی خوشبو سے ہوائے دشت ترا امتزاج بدلے گا جمود مرگ نمود اصل زندگی ہے تو پھر جو کل نہ بدلا یقیناً وہ آج بدلے گا خلوص و مہر و وفا خواب ہو گئے جیسے نہ جانے کب یہ نحوست کا راج بدلے گا نئے شعور کے ...

مزید پڑھیے

ملا جو کوئی یہاں رمز آشنا نہ مجھے

ملا جو کوئی یہاں رمز آشنا نہ مجھے وبال ہوش رہا حرف محرمانہ مجھے اداس پھرتی ہے شاداب وادیوں کی مہک ہے کائنات یہی کنج آشیانہ مجھے عدو کی سنگ زنی کی نہیں مجھے پروا ترے کرم کا میسر ہے شامیانہ مجھے کوئی علاج غم زندگی بتا واعظ سنے ہوئے جو فسانے ہیں پھر سنا نہ مجھے سبک سری میں زمین ...

مزید پڑھیے

دم عیسیٰ ید بیضا کے قرینے والے

دم عیسیٰ ید بیضا کے قرینے والے اب نہ منصور نہ سقراط سے پینے والے وہی کوفی وہی لشکر وہی پیمان وفا وہی آثار محرم کے مہینے والے دم نکلتا ہے نہ سر جھکتا ہے دیوانوں کا جانے کس آس پہ جیتے ہیں یہ جینے والے یہ جو ساحل کے مناظر ہیں جو آوازیں ہیں جا کے اس پار نہ پائیں گے سفینے والے ہم ...

مزید پڑھیے

اپنی قسمت میں غم عرصۂ ہجراں ہے تو کیا

اپنی قسمت میں غم عرصۂ ہجراں ہے تو کیا اشک منت کش گہوارۂ مژگاں ہے تو کیا حسن ارباب حقیقت کو ہے ناظورۂ حق شیخ جی آپ کو اندیشۂ ایماں ہے تو کیا وقت کے ساتھ فزوں ہوتا ہے احساس زیاں فہم و ادراک ہی غارت گر انساں ہے تو کیا بے محابانہ مسرت کے تعاقب میں نہ دوڑ دام نیرنگ پس سرحد امکاں ...

مزید پڑھیے

چھپے ہوئے ہیں سر راہ سو خطر خاموش

چھپے ہوئے ہیں سر راہ سو خطر خاموش چلے چلو میرے یاران ہم سفر خاموش فضائے قریہ طلسم سکوت میں گم صم سیاہ رات کے دامن میں بام و در خاموش ہمارے بعد اگر رستخیز ہو بھی تو کیا بساط وقت سے ہم تو گئے گزر خاموش بہ ایں نوازش موسم شگفت گل پہ نہ جا زبان حال سے گویا بہ چشم تر خاموش جو عرش جاہ ...

مزید پڑھیے

غیر کی بد گمانیوں پہ نہ جا

غیر کی بد گمانیوں پہ نہ جا بے حقیقت کہانیوں پہ نہ جا کھینچ لیتا ہے دامن احساس پھول کی بے زبانیوں پہ نہ جا اس کی غارت گری کو دھیان میں رکھ عقل کی پاسبانیوں پہ نہ جا صبر کی دوستی کو رکھ ملحوظ جبر کی حکمرانیوں پہ نہ جا خبث باطن کے زہر سے بھی بچ محض شیریں بیانیوں پہ نہ جا مستقل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4293 سے 4657