زندگی سے پاس لیکن حسن کے قصے سے دور

زندگی سے پاس لیکن حسن کے قصے سے دور
ہم غزل رکھتے ہیں اپنی زلف کے سائے سے دور


ہم سے جن کو انسیت ہے وہ کھنچے آ جائیں گے
ان کو کیا نزدیک لائیں جو ہیں خود پہلے سے دور


جانے کیسے کرب ابھرے میرے چہرے پر کہ جو
وہ نگاہیں اپنی رکھتے ہیں مرے چہرے سے دور


ایک لمحہ پیار کا جس کو ملے وہ سرخ رو
کیوں مجھے رکھا گیا پھر اک اسی لمحے سے دور


ضبط کرنا کتنا مشکل تھا مجھے معلوم ہے
زندگی کو پھر بھی رکھا میں نے ہر فتنے سے دور


ظلم کر کے تو عدالت سے اگر بچ بھی گیا
سوچ بھاگے گا کہاں تک آسماں والے سے دور


آخرش اشکوں کے چلتے ہی دعا پوری ہوئی
تم نے اختر جن کو رکھا آج تک اپنے سے دور