نظم خبروں کو کیا اور نہ لطیفے لکھے

نظم خبروں کو کیا اور نہ لطیفے لکھے
میں نے اشعار میں جینے کے سلیقے لکھے


مرتبے اہل سخن کے تمہیں طے کرنے ہیں
کس نے حق بات کہی کس نے قصیدے لکھے


سب کو تدبیر بھی کرنے کو وہی کہتا ہے
اور ہیں سب کے مقدر بھی اسی کے لکھے


شدت مہر سے دی اس کے غضب کو تشبیہ
اس کی رحمت کو اگر فضل کے سائے لکھے


کچھ ضرور ان میں نصیحت تھی مگر یاد نہیں
جو پڑھے تھے وہ بزرگوں کے مقولے لکھے


زندگی تجھ پہ لکھوں گا نہ زیادہ اب کچھ
جو بھی مضمون تری مدح میں لکھے لکھے


لکھتا رہتا ہے وہی حرف تعلق اخترؔ
اس سے کہہ دو کہ اب اس بات سے آگے لکھے