ہم اس سے عشق کا اظہار کر کے دیکھتے ہیں
ہم اس سے عشق کا اظہار کر کے دیکھتے ہیں
کیا ہے جرم تو اقرار کر کے دیکھتے ہیں
ہے عشق جنگ تو پھر جیت لیں چلو ہم لوگ
ہے دریا آگ کا تو پار کر کے دیکھتے ہیں
ہے کوہسار تو نہریں نکال دیں اس سے
ہے ریگزار تو گلزار کر کے دیکھتے ہیں
ہم اس کو دیکھنا چاہیں تو کس طرح دیکھیں
سو اس کی یاد کو کردار کر کے دیکھتے ہیں
وہ ہوش مند اگر ہے تو کر دیں دیوانہ
وہ بے خبر ہے تو ہشیار کر کے دیکھتے ہیں
ہمارے سر پہ تو آتی نہیں کوئی دستار
سو اپنے سر کو ہی دستار کر کے دیکھتے ہیں