کیسے سمجھے گا صدف کا وہ گہر سے رشتہ
کیسے سمجھے گا صدف کا وہ گہر سے رشتہ
جو سمجھ پائے نہ آنکھوں کا نظر سے رشتہ
معتبر سر ہی بنا لو تو بہت اچھا ہے
کم ہی رہ پاتا ہے دستار کا سر سے رشتہ
ہے غریبوں کا امیروں سے تعلق اتنا
جتنا ہوتا ہے چراغوں کا سحر سے رشتہ
بے اثر جب ہیں زبانیں تو کیا کیا جائے
ورنہ رکھتی ہیں دعائیں بھی اثر سے رشتہ
ہم نے رسوائی کی اس وقت سے چادر اوڑھی
جس گھڑی توڑ دیا تھا ترے در سے رشتہ
دل کا رشتہ بھی اگر سوچو تو کیا رشتہ ہے
نبھ رہا ہے اسی رشتے کے اثر سے رشتہ
جستجو اس کی خدا جانے ہے کس منزل تک
ختم ہوتا نہیں اخترؔ کا سفر سے رشتہ