شاعری

وصال ایسے بھی مہنگا پڑے گا دونوں کو

وصال ایسے بھی مہنگا پڑے گا دونوں کو بچھڑنے کے لیے ملنا پڑے گا دونوں کو پھر ایسے ترک تعلق کا فائدہ کیا ہے جب ایک کمرے میں رہنا پڑے گا دونوں کو اب اس کہانی کو اک موڑ کی ضرورت ہے اب اس کہانی میں مرنا پڑے گا دونوں کو یہ جان کر بھی تعلق بڑھانا ٹھیک نہیں کہ اگلے سال بچھڑنا پڑے گا ...

مزید پڑھیے

قفس کے ہوش اڑتے جا رہے تھے

قفس کے ہوش اڑتے جا رہے تھے پرندے پر کترتے جا رہے تھے خموشی شور کرتی جا رہی تھی سو ہم چینل بدلتے جا رہے تھے ادھر بھی زندگی بس کٹ رہی تھی ادھر بھی پیڑ گرتے جا رہے تھے نہ جانے ذہن میں کیا چل رہا تھا سبھی کو کال کرتے جا رہے تھے ہماری جان بھی گروی پڑی تھی ہمارے لوگ مرتے جا رہے ...

مزید پڑھیے

اگر جو پیار خطا ہے تو کوئی بات نہیں

اگر جو پیار خطا ہے تو کوئی بات نہیں قضا ہی اس کی سزا ہے تو کوئی بات نہیں تو صرف میری ہے اس کا غرور ہے مجھ کو اگر یہ وہم مرا ہے تو کوئی بات نہیں معاف کرنے کی عادت نہیں ہے ویسے تو اگر یہ تیر ترا ہے تو کوئی بات نہیں بنا بدن کے تعلق بچا نہیں سکتے یہی جو رستہ بچا ہے تو کوئی بات ...

مزید پڑھیے

اگرچہ سب یہاں سستا پڑے گا

اگرچہ سب یہاں سستا پڑے گا تمہیں بس عشق ہی مہنگا پڑے گا مصور سے الجھنے کی سزا ہے ہمیں تصویر میں رہنا پڑے گا مری آنکھوں میں تم بچ کر اترنا یہاں اشکوں کا اک دریا پڑے گا سبھی کردار گر رکھنے ہیں زندہ کہانی میں ہمیں مرنا پڑے گا تمہیں بھی اچھے ہم لگنے لگے ہیں سنو تم کو بھی پچھتانا ...

مزید پڑھیے

دھوپ میں جلتے ہیں تب سایہ بنتا ہے

دھوپ میں جلتے ہیں تب سایہ بنتا ہے بڑے جتن سے کوئی اپنا بنتا ہے سارے بکھرے خواب اکٹھا کرنے پر ایک مکمل تیرا چہرہ بنتا ہے گھر کے دونوں جانب در لگوائے ہیں اب تو تیرا دستک دینا بنتا ہے پیار کرو تو ایک خرابی یہ بھی ہے حد درجے کا یار تماشا بنتا ہے اس کا پہلو صرف میسر ہے مجھ کو یعنی ...

مزید پڑھیے

بہت مشکل ہوا رستہ ہمارا

بہت مشکل ہوا رستہ ہمارا جب اس نے کھو دیا نقشہ ہمارا ملا جب روشنی سے مدتوں بعد لپٹ کر رو پڑا سایہ ہمارا بہت محدود ہے دنیا ہماری نہیں نبھ پائے گا رشتہ ہمارا اگرچہ کوئی بھی آتا نہیں تھا کھلا رہتا تھا دروازہ ہمارا نہیں اس میں محبت کے سوا کچھ بہت ہے مختصر قصہ ہمارا ہماری کوئی ...

مزید پڑھیے

غم اٹھانے کا حوصلہ بھی نہیں

غم اٹھانے کا حوصلہ بھی نہیں اور اس کے بنا مزہ بھی نہیں ساتھ تیرا عذاب ہے مجھ کو چاہیے کوئی دوسرا بھی نہیں تم بھلا کیوں اداس رہنے لگے تم کو تو یار عشق تھا بھی نہیں عشق کی راہ سے گزرنا پڑا اور تھا کوئی راستہ بھی نہیں ان کو دراصل دور جانا تھا مسئلہ اتنا تھا بڑا بھی نہیں خود سمجھ ...

مزید پڑھیے

جھوٹ کا بولنا آسان نہیں ہوتا ہے

جھوٹ کا بولنا آسان نہیں ہوتا ہے دل ترے بعد پریشان نہیں ہوتا ہے سب ترے بعد یہی پوچھتے رہتے ہیں مجھے اب کسی بات پہ حیران نہیں ہوتا ہے کیسے تم بھول گئے ہو مجھے آسانی سے عشق میں کچھ بھی تو آسان نہیں ہوتا ہے ہجر کا ذائقہ لیجے ذرا دھیرے دھیرے سب کی تھالی میں یہ پکوان نہیں ہوتا ...

مزید پڑھیے

عشق کے ٹوٹے ہوئے رشتوں کا ماتم کیا کریں

عشق کے ٹوٹے ہوئے رشتوں کا ماتم کیا کریں زندگی آ تجھ سے پھر اک بار سمجھوتا کریں زندگی کب تک ترے درماندگان آرزو خواب دیکھیں اور تعبیروں کو شرمندہ کریں مڑ کے دیکھا اور پتھر کے ہوئے اس شہر میں خود صدا بن جاؤ آوازیں اگر پیچھا کریں ناامیدانہ بھی جینے کا سلیقہ ہے ہمیں آئنے ٹوٹے ...

مزید پڑھیے

موج شمیم ہیں نہ خرام صبا ہیں ہم

موج شمیم ہیں نہ خرام صبا ہیں ہم ٹھہری ہوئی گلوں کے لبوں پر دعا ہیں ہم بیگانہ خلق سے ہیں نہ تجھ سے خفا ہیں ہم اے زندگی معاف کہ دیر آشنا ہیں ہم اس راز کو بھی فاش کر اے چشم دل نواز کانٹا کھٹک رہا ہے یہ دل میں کہ کیا ہیں ہم یا رب ترا کمال ہنر ہم پہ ختم ہے یا صرف مشق ناز کا اک تجربہ ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4288 سے 4657