سن رہا ہوں بے صدا نغمہ جو میں با چشم تر
سن رہا ہوں بے صدا نغمہ جو میں با چشم تر چپکے چپکے زندگی ہنستی ہے میرے حال پر اپنی ساری عمر کھو کر میں نے پایا ہے تمہیں آؤ میرے غم کے سناٹو مرے نزدیک تر ایک دل تھا سو ہوا ہے پائمال آرزو اب نہ کوئی رہنما ہے اور نہ کوئی ہم سفر ہر قدم پر پوچھتا ہوں پاؤں کے چھالوں سے میں یہ مری منزل ہے ...