شاعری

سن رہا ہوں بے صدا نغمہ جو میں با چشم تر

سن رہا ہوں بے صدا نغمہ جو میں با چشم تر چپکے چپکے زندگی ہنستی ہے میرے حال پر اپنی ساری عمر کھو کر میں نے پایا ہے تمہیں آؤ میرے غم کے سناٹو مرے نزدیک تر ایک دل تھا سو ہوا ہے پائمال آرزو اب نہ کوئی رہنما ہے اور نہ کوئی ہم سفر ہر قدم پر پوچھتا ہوں پاؤں کے چھالوں سے میں یہ مری منزل ہے ...

مزید پڑھیے

یہ ہم سے پوچھتے ہو رنج امتحاں کیا ہے

یہ ہم سے پوچھتے ہو رنج امتحاں کیا ہے تمہیں کہو صلۂ خون کشتگاں کیا ہے اسیر بند خزاں ہوں نہ پوچھ اے صیاد خرام کیا ہے صبا کیا ہے گلستاں کیا ہے ہوئی ہے عمر کہ دل کو نظر سے ربط نہیں مگر یہ سلسلۂ چشم خوں فشاں کیا ہے نظر اٹھے تو نہ سمجھوں جھکے تو کیا سمجھوں سکوت ناز یہ پیرایۂ بیاں کیا ...

مزید پڑھیے

میں نے مانا ایک نہ اک دن لوٹ کے تو آ جائے گا

میں نے مانا ایک نہ اک دن لوٹ کے تو آ جائے گا لیکن تجھ بن عمر جو گزری کون اسے لوٹائے گا ہجر کے صدمے اس کا تغافل باتیں ہیں سب کہنے کی کچھ بھی نہ مجھ کو یاد رہے گا جب وہ گلے لگ جائے گا خواب وفا آنکھوں میں بسائے پھرتا ہے کیا دیوانے تعبیریں پتھراؤ کریں گی جب تو خواب سنائے گا کتنی ...

مزید پڑھیے

مدت سے لاپتہ ہے خدا جانے کیا ہوا

مدت سے لاپتہ ہے خدا جانے کیا ہوا پھرتا تھا ایک شخص تمہیں پوچھتا ہوا وہ زندگی تھی آپ تھے یا کوئی خواب تھا جو کچھ تھا ایک لمحے کو بس سامنا ہوا ہم نے ترے بغیر بھی جی کر دکھا دیا اب یہ سوال کیا ہے کہ پھر دل کا کیا ہوا سو بھی وہ تو نہ دیکھ سکی اے ہوائے دہر سینے میں اک چراغ رکھا تھا جلا ...

مزید پڑھیے

یہ اندھیرا جو عیاں صبح کی تنویر میں ہے

یہ اندھیرا جو عیاں صبح کی تنویر میں ہے کچھ کمی خون جگر کی ابھی تصویر میں ہے اہل تقدیر نے سر رکھ دیا جس کے آگے آج وہ عقدہ مرے ناخن تدبیر میں ہے رنگ گل رنگ بتاں رنگ جبین محنت جو حسیں رنگ ہے شامل مری تصویر میں ہے میں نے جس خواب کو آنکھوں میں بسا رکھا ہے تو بھی ظالم مرے اس خواب کی ...

مزید پڑھیے

کبھی زباں پہ نہ آیا کہ آرزو کیا ہے

کبھی زباں پہ نہ آیا کہ آرزو کیا ہے غریب دل پہ عجب حسرتوں کا سایا ہے صبا نے جاگتی آنکھوں کو چوم چوم لیا نہ جانے آخر شب انتظار کس کا ہے یہ کس کی جلوہ گری کائنات ہے میری کہ خاک ہو کے بھی دل شعلۂ تمنا ہے تری نظر کی بہار آفرینیاں تسلیم مگر یہ دل میں جو کانٹا سا اک کھٹکتا ہے جہان فکر و ...

مزید پڑھیے

کہیں کس سے ہمارا کھو گیا کیا

کہیں کس سے ہمارا کھو گیا کیا کسی کو کیا کہ ہم کو ہو گیا کیا کھلی آنکھوں نظر آتا نہیں کچھ ہر اک سے پوچھتا ہوں وو گیا کیا مجھے ہر بات پر جھٹلا رہی ہے یہ تجھ بن زندگی کو ہو گیا کیا اداسی راہ کی کچھ کہہ رہی ہے مسافر راستے میں کھو گیا کیا یہ بستی اس قدر سنسان کب تھی دل شوریدہ تھک کر ...

مزید پڑھیے

نگاہیں منتظر ہیں کس کی دل کو جستجو کیا ہے

نگاہیں منتظر ہیں کس کی دل کو جستجو کیا ہے مجھے خود بھی نہیں معلوم میری آرزو کیا ہے بدلتی جا رہی ہے کروٹوں پر کروٹیں دنیا کسی صورت نہیں کھلتا جہان رنگ و بو کیا ہے یہ سوچا دل کو نذر آرزو کرتے ہوئے ہم نے نگاہ حسن خود آرا میں دل کی آبرو کیا ہے مجھے اب دیکھتی ہے زندگی یوں بے ...

مزید پڑھیے

دیدنی ہے زخم دل اور آپ سے پردا بھی کیا

دیدنی ہے زخم دل اور آپ سے پردا بھی کیا اک ذرا نزدیک آ کر دیکھیے ایسا بھی کیا ہم بھی ناواقف نہیں آداب محفل سے مگر چیخ اٹھیں خاموشیاں تک ایسا سناٹا بھی کیا خود ہمیں جب دست قاتل کو دعا دیتے رہے پھر کوئی اپنی ستم گاری پہ شرماتا بھی کیا جتنے آئینے تھے سب ٹوٹے ہوئے تھے سامنے شیشہ گر ...

مزید پڑھیے

یاد آئیں جو ایام بہاراں تو کدھر جائیں

یاد آئیں جو ایام بہاراں تو کدھر جائیں یہ تو کوئی چارہ نہیں سر پھوڑ کے مر جائیں قدموں کے نشاں ہیں نہ کوئی میل کا پتھر اس راہ سے اب جن کو گزرنا ہے گزر جائیں رسمیں ہی بدل دی ہیں زمانے نے دلوں کی کس وضع سے اس بزم میں اے دیدۂ تر جائیں جاں دینے کے دعوے ہوں کہ پیمان وفا ہو جی میں تو یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4289 سے 4657