شاعری

امن میں حصہ چھوڑ چکا ہوں

امن میں حصہ چھوڑ چکا ہوں ایک پرندہ چھوڑ چکا ہوں وقت کسی کا کب ہوتا ہے وقت کا رونا چھوڑ چکا ہوں میرے حصے آتا بھی کیا اپنا حصہ چھوڑ چکا ہوں امیدوں کے سینے پر اب سر کو رکھنا چھوڑ چکا ہوں تم سگریٹ کی بات کرو ہو میں تو جینا چھوڑ چکا ہوں تیرے حسن پہ لعنت ہے جا تیرا رونا چھوڑ چکا ...

مزید پڑھیے

اب درمیاں کوئی بھی شکایت نہیں بچی

اب درمیاں کوئی بھی شکایت نہیں بچی یعنی قریب آنے کی صورت نہیں بچی اب اور کوئی صدمہ نہیں جھیل سکتا میں اب اور میری آنکھوں میں حیرت نہیں بچی خاموشیوں نے اپنا اثر کر دیا شروع اب رشتے کو صدا کی ضرورت نہیں بچی ہر سمت صرف بات محبت کی ہے رواں یعنی جہاں میں آج محبت نہیں بچی فرصت کے وقت ...

مزید پڑھیے

اس نے یوں راستہ دیا مجھ کو

اس نے یوں راستہ دیا مجھ کو راستے سے ہٹا دیا مجھ کو دور کرنے کے واسطے خود سے خود کا ہی واسطہ دیا مجھ کو موت ہی کچھ سکون دے شاید زندگی نے تھکا دیا مجھ کو جب مرے بال و پر شکستہ ہوئے تب قفس سے اڑا دیا مجھ کو جس ہوا نے مجھے جلائے رکھا پھر اسی نے بجھا دیا مجھ کو

مزید پڑھیے

جدائی میں تری آنکھوں کو جھیل کرتے ہوئے

جدائی میں تری آنکھوں کو جھیل کرتے ہوئے ثبوت ضائع کیا ہے دلیل کرتے ہوئے میں اپنے آپ سے خوش بھی نہیں ہوں جانے کیوں سو خوش ہوں اپنے ہی رستے طویل کرتے ہوئے نہ جانے یاد اسے آیا کیا اچانک ہی گلے لگا لیا مجھ کو ذلیل کرتے ہوئے کہیں تری ہی طرح ہو گیا نہ ہو یہ دل سو ڈر رہا ہوں اب اس کو ...

مزید پڑھیے

اسے کب سے یہی سمجھا رہا ہوں

اسے کب سے یہی سمجھا رہا ہوں ترا ہی تھا میں جب تیرا رہا ہوں مجھے فرصت دبوچے جا رہی ہے میں اپنے آپ سے اکتا رہا ہوں کوئی بھی روکنے والا نہیں ہے خموشی سے گزرتا جا رہا ہوں مری تشنہ لبی پر ہنسنے والے گزشتہ وقت میں دریا رہا ہوں وہ غلطی جو کبھی کی ہی نہیں ہے اسی غلطی پہ میں پچھتا رہا ...

مزید پڑھیے

چھوڑ کر ایسے گیا ہے چھوڑنے والا مجھے

چھوڑ کر ایسے گیا ہے چھوڑنے والا مجھے دوستو اس نے کہیں کا بھی نہیں چھوڑا مجھے بول بالا اس قدر خاموشیوں کا ہے یہاں کاٹنے کو دوڑتا ہے میرا ہی کمرہ مجھے ہاں وہی تصویر جو کھینچی تھی میں نے ساتھ میں ہاں وہی تصویر کر جاتی ہے اب تنہا مجھے بات تو یہ بعد کی ہے کچھ بنوں گا یا نہیں کوزہ گر ...

مزید پڑھیے

یہ محبت اگر ضرورت ہے

یہ محبت اگر ضرورت ہے یہ ضرورت بھی تو محبت ہے میرا بھی دل نہیں تھا رکنے کا اس نے بھی کہہ دیا اجازت ہے شاعروں کی نظر سے مت دیکھو دنیا دراصل خوب صورت ہے تم مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ میری قربت اگر مصیبت ہے لوٹ آیا مرا اکیلا پن اب کسی کی کہاں ضرورت ہے عکسؔ بے حد نصیب والے ہو تم کو مرنے ...

مزید پڑھیے

ہرگز کسی بھی طور کسی کے نہ ہو سکے

ہرگز کسی بھی طور کسی کے نہ ہو سکے ہم اس کے بعد اور کسی کے نہ ہو سکے آیا تھا ایسا دور سبھی کے ہوئے تھے ہم پھر آیا ایسا دور کسی کے نہ ہو سکے افسوس تم کو اتنی بھی فرصت نہیں ملی تم مجھ پہ کرتے غور کسی کے نہ ہو سکے یعنی ہم عمر بھر رہے برباد خود میں ہی یعنی ٹھکانہ ٹھور کسی کے نہ ہو ...

مزید پڑھیے

عمر بھر سینہ میں اک درد دبائے رکھا

عمر بھر سینہ میں اک درد دبائے رکھا ایک بے نام سے رشتہ کو نبھائے رکھا تھا مجھے وہم و گماں کہ وہ فقط میری ہے اور اس نے بھی بھرم میرا بنائے رکھا آندھیاں شرم سے ہو جائیں نہ پانی پانی سر یہی سوچ کے پیڑوں نے جھکائے رکھا ویسے ہر بات سے رکھا اسے واقف ہم نے لیکن افسانۂ الفت کو چھپائے ...

مزید پڑھیے

دن رات اس کے ہجر کا دیمک لگے لگے

دن رات اس کے ہجر کا دیمک لگے لگے دل کے تمام خانے مجھے کھوکھلے لگے محفل میں نام اس کا پکارا گیا تھا اور سب لوگ تھے کہ میری طرف دیکھنے لگے افسوس فکر جاں ہی نہیں رہتی ہے ہمیں افسوس آپ جان ہمیں ماننے لگے جو کہتے تھے کوئی تجھے ٹھکرا نہ پائے گا جب بات خود پہ آئی تو وہ سوچنے لگے میں آج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4287 سے 4657