شاعری

کوئی بھی رسم ہو کچھ ہو بہانا ہوتا تھا

کوئی بھی رسم ہو کچھ ہو بہانا ہوتا تھا نہ جانے کیا تھا کہ ملنا ملانا ہوتا تھا کسی سے ملتے اگر دل سے ہو کے ملتے تھے عجیب لوگ تھے کیسا زمانہ ہوتا تھا وہ لڑ جھگڑ کے بھی اک دوسرے پہ مرتے تھے یہ سب تو تھا ہی مگر آنا جانا ہوتا تھا کوئی بھی توڑ نہیں عہد یاد ماضی کا ہزار غم تھے مگر ...

مزید پڑھیے

کسی کو پھر اسے پانے کی ضد ہے

کسی کو پھر اسے پانے کی ضد ہے ہمارے درمیاں آنے کی ضد ہے مری چاہت ہے اس کو روک لینا مگر وہ ہے کہ بس جانے کی ضد ہے دیار شام سے آگے نکل کر محبت کے عزا خانے کی ضد ہے شعور غم وہاں پہنچا کہ اب تو خوشی کو مرثیہ خانے کی ضد ہے کسی کی پیاس زندہ جاوداں ہے کسی کو پھر سے مر جانے کی ضد ہے فرات ...

مزید پڑھیے

کسی کے عشق کا مارا ہوا ہے

کسی کے عشق کا مارا ہوا ہے مکمل جیت کے ہارا ہوا ہے بڑا بے درد ہے وہ کیا بتائیں ہمیں تو جان سے پیارا ہوا ہے علاج عشق ہے درد محبت وہ جس سے درد کا چارہ ہوا ہے یہ کیسا ربط ہے قصے میں یارو کہانی کی طرح سارا ہوا ہے کسی کے واسطے سنگ ملامت کسی کی آنکھ کا تارا ہوا ہے

مزید پڑھیے

اسے پہلے پہل اچھا لگے گا

اسے پہلے پہل اچھا لگے گا نیا رستہ نیا رستہ لگے گا تعلق توڑنا مشکل نہیں ہے یہی کہ دوسرا جھٹکا لگے گا مرا احسان ہے تجھ پر محبت اگر ایسا کہوں کیسا لگے گا تمہارے نام کا چلتا ہے سکہ کہو کچھ بھی کہو اچھا لگے گا مرے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا یہ صدمہ اس قدر گہرا لگے گا یہی سب جان کر ...

مزید پڑھیے

راستہ روکنا پڑا اس کا

راستہ روکنا پڑا اس کا اتنا زیادہ تھا تذکرہ اس کا ایک آسان سا حوالہ ہے لفظ بہ لفظ بولنا اس کا لوگ کہتے تھے مرنے والا ہے یہ جو چہرہ ہے دوسرا اس کا دن کوئی مرحلہ نہیں ہوتا رات لمبی ہے سوچنا اس کا عشق پتھر ہے ایک بھاری سا کون سنتا ہے اب کہا اس کا

مزید پڑھیے

اسے بھی لوٹ کر آنا نہیں تھا

اسے بھی لوٹ کر آنا نہیں تھا وہ جس کے سامنے رستہ نہیں تھا اسی کے خواب دیکھے جا رہے تھے جسے ہم نے کبھی دیکھا نہیں تھا ہمارا ظاہر و باطن مکمل کسی کے عشق میں ڈوبا نہیں تھا اسی امید پر زندہ تھے اب تک مسیحا لوٹ کر آیا نہیں تھا سروں کی بھیڑ تھی حد نظر تک مگر ان میں کوئی زندہ نہیں ...

مزید پڑھیے

ایسے رستے پہ آ گیا ہوں میں

ایسے رستے پہ آ گیا ہوں میں جیسے پتھر کوئی ہے یا ہوں میں اس نے پوچھا حیات کا قصہ کیا بتاؤں گا سوچتا ہوں میں وقت گھڑیوں کے درمیاں ہے کہیں سارے محور پہ گھومتا ہوں میں مجھ سے پوچھو نہ ماجرا دل کا ریزہ ریزہ جدا جدا ہوں میں مجھ سے کہتی ہے میری خاموشی شور کرتا ہوں چیختا ہوں میں اب تو ...

مزید پڑھیے

ایک ایسا بھی مرحلہ ہوگا

ایک ایسا بھی مرحلہ ہوگا اس نے سب کچھ مٹا دیا ہوگا یہ جو لڑتا ہے رات دن مجھ سے کوئی مجھ میں بھی دوسرا ہوگا وہ جو سچی تھی وہ کہانی تھی یہ جو قصہ ہے حادثہ ہوگا اس نے صدیوں کو باندھ رکھا ہے وہ جو کہتا تھا کل رہا ہوگا وہ جو ٹوٹا تھا نیند جیسا کچھ اس کا نقشہ بھی خواب سا ہوگا وہ جو ...

مزید پڑھیے

میرے پیڑ کے سارے پتے سوکھے ہیں

میرے پیڑ کے سارے پتے سوکھے ہیں اک اک کر کے ڈالی سے سب ٹوٹے ہیں رو لیتے ہیں چھپ کر سامنے ہنستے ہیں میرے گھر میں سارے کتنے جھوٹے ہیں سر پہ چھت نہ باپ کا سایہ اور شکم اس پہ قہر کہ اپنے ہم سے روٹھے ہیں جلدی جسم کی بھوک مٹا لو اے صاحب گھر پر میرے سارے بچے بھوکے ہیں خالی پیٹ تھا دودھ ...

مزید پڑھیے

دلوں میں گھر بنانا آ گیا ہے

دلوں میں گھر بنانا آ گیا ہے تمہیں ملنا ملانا آ گیا ہے گئے ہو سیکھ منہ پہ جھوٹ کہنا تمہیں اب سچ چھپانا آ گیا ہے تمہارے منہ میں یہ شہرت کی ہڈی تمہیں بھی دم ہلانا آ گیا ہے سنا ہے شعر کہنے لگ پڑے ہو تمہیں مصرع لگانا آ گیا ہے پرانی اک غزل کا شعر پڑھ کر تمہیں محفل اٹھانا آ گیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4242 سے 4657