کوئی بھی رسم ہو کچھ ہو بہانا ہوتا تھا
کوئی بھی رسم ہو کچھ ہو بہانا ہوتا تھا نہ جانے کیا تھا کہ ملنا ملانا ہوتا تھا کسی سے ملتے اگر دل سے ہو کے ملتے تھے عجیب لوگ تھے کیسا زمانہ ہوتا تھا وہ لڑ جھگڑ کے بھی اک دوسرے پہ مرتے تھے یہ سب تو تھا ہی مگر آنا جانا ہوتا تھا کوئی بھی توڑ نہیں عہد یاد ماضی کا ہزار غم تھے مگر ...