شاعری

بن کر لہو یقین نہ آئے تو دیکھ لیں

بن کر لہو یقین نہ آئے تو دیکھ لیں ٹپکی ہیں پائے خواب سے صحرا کی وسعتیں پوچھے کبھی جو آبلہ پائی کی داستاں دریا سے کہہ بھی دیتے پہ صحرا سے کیا کہیں چلنا ہے ساتھ ساتھ رہ زیست میں تو آؤ نا آشنائیوں کی قبائیں اتار دیں جس کو چھپا کے دل میں سمندر نے رکھ لیا بادل کے منہ سے آؤ وہی داستاں ...

مزید پڑھیے

کرنا پڑا تھا جس کے لئے یہ سفر مجھے

کرنا پڑا تھا جس کے لئے یہ سفر مجھے وہ موج شوق چھوڑ گئی ریت پر مجھے آداب بزم کے سوا کچھ اور تو نہ تھا محفل میں اس نے پان دیے خاص کر مجھے لوٹا ہوں پھر وہ جسم کی ویرانیاں لئے حسرت سے دیکھتے ہیں یہ دیوار و در مجھے بازار کا تو ہوش ہے لیکن نہیں یہ یاد کل رات کون چھوڑ گیا میرے گھر ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھ ربط ہے کیا اس کی داستاں سے مجھے

نہ پوچھ ربط ہے کیا اس کی داستاں سے مجھے بچھڑ گیا کہ بچھڑنا تھا کارواں سے مجھے مرے بدن میں کوئی بھر دے برف کے ٹکڑے کہ آنچ آتی ہے راتوں کو کہکشاں سے مجھے کرایہ دار بدلنا تو اس کا شیوہ تھا نکال کر وہ بہت خوش ہوا مکاں سے مجھے صدائیں جسم کی دیوار پار کرتی ہیں کوئی پکار رہا ہے مگر ...

مزید پڑھیے

چمن میں وہ فراموشی کا موسم تھا میں خود کو بھی (ردیف .. ا)

چمن میں وہ فراموشی کا موسم تھا میں خود کو بھی زمیں پر برگ آوارہ نظر آیا تو یاد آیا ابھی اک نسبت دار و رسن کا قرض باقی ہے فراز جاہ و منصب سے اتر آیا تو یاد آیا بھلایا گردش ایام نے دست پدر یوں تو مگر جب موڑ کوئی پر خطر آیا تو یاد آیا کسی کی آنکھ کا تارا ہوا کرتے تھے ہم بھی تو اچانک ...

مزید پڑھیے

برسر باد ہوا اپنا ٹھکانا سر راہ

برسر باد ہوا اپنا ٹھکانا سر راہ کام آیا مرا آواز لگانا سر راہ دوستو فرط جنوں راہ بدلتا ہے مری کس نے چاہا تھا تمہیں چھوڑ کے جانا سر راہ دل ملاقات کا خواہاں ہو تو خاک اڑتی ہے بچ کے چلتا ہوں تو ملتا ہے زمانا سر راہ یہ جو مٹی تن باقی کی لیے پھرتا ہوں چھوڑ جاؤں گا کہیں یہ بھی خزانا سر ...

مزید پڑھیے

رنگ محفل سے فزوں تر مری حیرانی ہے

رنگ محفل سے فزوں تر مری حیرانی ہے پیرہن باعث عزت ہے نہ عریانی ہے نیند آتی ہے مگر جاگ رہا ہوں سر خواب آنکھ لگتی ہے تو یہ عمر گزر جانی ہے اور کیا ہے تری دنیا میں سوائے من و تو منت غیر کی ذلت ہے جہاں بانی ہے چوم لو اس کو اسی عالم مدہوشی میں آخر خواب وہی بے سر و سامانی ہے اپنے ساماں ...

مزید پڑھیے

سر بچے یا نہ بچے طرۂ دستار گیا

سر بچے یا نہ بچے طرۂ دستار گیا شاہ کج فہم کو شوق دو سری مار گیا اب کسی اور خرابے میں صدا دے گا فقیر یاں تو آواز لگانا مرا بے کار گیا سرکشو شکر کرو جائے شکایت نہیں دار سر گیا بار گیا طعنہ اغیار گیا اولیں چال سے آگے نہیں سوچا میں نے زیست شطرنج کی بازی تھی سو میں ہار گیا صد ایام پہ ...

مزید پڑھیے

کیسے کیسے راز چھپانے لگتی ہیں

کیسے کیسے راز چھپانے لگتی ہیں آنکھیں کیسے آنکھ چرانے لگتی ہیں خاموشی سے جب بھی ہم دو چار ہوئے آوازیں آواز لگانے لگتی ہیں عشق کا دریا ایسا دریا ہے جس میں امیدیں دن رات ٹھکانے لگتی ہیں جنگل تو جنگل تھے اب تو شہروں میں کیا کیا چیزیں آنکھ دکھانے لگتی ہیں مجھ کو باہر جاتے دیکھ کے ...

مزید پڑھیے

سفر اندر سفر کرتے اگر تم

سفر اندر سفر کرتے اگر تم کہانی مختصر کرتے اگر تم ہمیں منظور تھے سارے تماشے کسی عنوان پر کرتے اگر تم سیاست مسئلہ کوئی نہیں تھا کسی کے نام پر کرتے اگر تم ہمارے رابطے کٹنے لگے ہیں کہیں پھر نامہ بر کرتے اگر تم حقیقت کھل کے آ جاتی نظر میں حقیقت پر نظر کرتے اگر تم

مزید پڑھیے

جسم ٹوٹا ہے جان ٹوٹی ہے

جسم ٹوٹا ہے جان ٹوٹی ہے عمر بھر کی تھکان ٹوٹی ہے وہ جو پھیلا تھا کل دھواں بن کر آج اس کی اٹھان ٹوٹی ہے ایسا لگتا ہے شہر ٹوٹ گیا سب سے اونچی دکان ٹوٹی ہے کوئی دھوکا تھا کھا لیا اس نے اس کے ہاتھوں زبان ٹوٹی ہے وہ بظاہر ہے مطمئن لیکن اس کے اندر کی آن ٹوٹی ہے رقص طاری ہے سارے جنگل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4241 سے 4657