بن کر لہو یقین نہ آئے تو دیکھ لیں
بن کر لہو یقین نہ آئے تو دیکھ لیں ٹپکی ہیں پائے خواب سے صحرا کی وسعتیں پوچھے کبھی جو آبلہ پائی کی داستاں دریا سے کہہ بھی دیتے پہ صحرا سے کیا کہیں چلنا ہے ساتھ ساتھ رہ زیست میں تو آؤ نا آشنائیوں کی قبائیں اتار دیں جس کو چھپا کے دل میں سمندر نے رکھ لیا بادل کے منہ سے آؤ وہی داستاں ...