شاعری

جو دونوں میں جدائی مرحلہ ہے

جو دونوں میں جدائی مرحلہ ہے یہی وہ انتہائی مرحلہ ہے تمہاری انتہا دیکھی تو سمجھا یہ میرا ابتدائی مرحلہ ہے اٹھا کر انگلیاں سب ہنس رہے ہیں سمجھ لو جگ ہنسائی مرحلہ ہے بتا دو دودھ کا کوئی دھلا ہے یہاں اب پارسائی مرحلہ ہے یہ مٹھی بھر ہی لشکر سے لڑیں گے کہ پھر سے کربلائی مرحلہ ...

مزید پڑھیے

ترے ہاتھوں میں جب ہو ہاتھ تو ہمزور لگتا ہے

ترے ہاتھوں میں جب ہو ہاتھ تو ہمزور لگتا ہے مگر جب ساتھ چلنا ہو مرا کیوں زور لگتا ہے محبت کے مذاہب میں سنو دونوں ہی کافر ہیں ترا ایماں مجھے میرا تجھے کمزور لگتا ہے اثر کچھ حادثوں کا یوں پڑا میری سماعت پر کسی کا دھیما لہجہ بھی مجھے اب شور لگتا ہے سنو انسان جو انسانیت سے دور رہتا ...

مزید پڑھیے

لب جو دیکھے تشنگی تڑپا گئی

لب جو دیکھے تشنگی تڑپا گئی پھر نگاہ ناز ہم کو کھا گئی ہم ابھی آنکھوں سے لب تک آئے تھے بات اتنی تھی کہ وہ شرما گئی تھا اگر پتھر کا میرا دل تو پھر تیری قربت کیوں اسے پگھلا گئی اس نے آنکھوں سے دھماکہ کر دیا دل پہ دہشت گرد لڑکی چھا گئی تھا ابھی پہلی محبت کا خمار ایک پھر جام شہادت پا ...

مزید پڑھیے

نیم کے اس پیڑ سے اترا ہے جن

نیم کے اس پیڑ سے اترا ہے جن پھر کسی کے خون کا پیاسا ہے جن گھر میں جتنے لوگ تھے وہ کھا گیا میں بچا ہوں پر ابھی بھوکا ہے جن پھونکتا ہوں پڑھ کے ساری آیتیں اور مجھ کو دیکھ کے ہنستا ہے جن کودتا ہے رات بھر وہ صحن میں ہر جگہ گھر میں مرے پھرتا ہے جن رات ڈائن ہے مچاں سے جھولتی اور اس کے ...

مزید پڑھیے

سفر میں راہ کے آشوب سے نہ ڈر جانا

سفر میں راہ کے آشوب سے نہ ڈر جانا پڑے جو آگ کا دریا تو پار کر جانا یہ اک اشارہ ہے آفات ناگہانی کا کسی مقام سے چڑیوں کا کوچ کر جانا یہ انتقام ہے دشت بلا سے بادل کا سمندروں پہ برستے ہوئے گزر جانا تمہارا قرب بھی دوری کا استعارہ ہے کہ جیسے چاند کا تالاب میں اتر جانا طلوع مہر درخشاں ...

مزید پڑھیے

اٹھتے ہوئے طوفان کا منظر نہیں دیکھا

اٹھتے ہوئے طوفان کا منظر نہیں دیکھا دیکھو مجھے گر تم نے سمندر نہیں دیکھا گزرا ہوا لمحہ تھا کہ بہتا ہوا دریا پھر میری طرف اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا اک دشت ملا کوچۂ جاناں سے نکل کر ہم نے تو کبھی عشق کو بے گھر نہیں دیکھا تھے سنگ تو بیتاب بہت نقش گری کو ہم نے ہی انہیں آنکھ اٹھا کر ...

مزید پڑھیے

سوائے دربدری اس کو خاک ملتا ہے

سوائے دربدری اس کو خاک ملتا ہے جو آسمان سے اپنی زمیں بدلتا ہے میں جب بھی گھر سے نکلتا ہوں رات کو تنہا چراغ لے کے کوئی ساتھ ساتھ چلتا ہے عجیب ہوتا ہے نظارگان شوق کا حال ردائے ماہ پہن کر وہ جب نکلتا ہے بروئے چشم ردائے حجاب تان لی جائے وہ زیر سایۂ گل پیرہن بدلتا ہے فریب قرب تو ...

مزید پڑھیے

اب بھی ذروں پہ ستاروں کا گماں ہے کہ نہیں

اب بھی ذروں پہ ستاروں کا گماں ہے کہ نہیں زیر پا اب بھی ترے کاہکشاں ہے کہ نہیں اب بھی وہ جشن طرب ہے کہ نہیں مقتل میں اک تماشے کو ہجوم نگراں ہے کہ نہیں اب بھی فریاد بہ لب ہے کہ نہیں راندۂ عشق وہ ہی بے چارگیٔ دل زدگاں ہے کہ نہیں کہیے نم ہے کہ نہیں چشم ندامت آثار قافلے والوں کو احساس ...

مزید پڑھیے

گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے

گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے ہم ساتھ کے قبیلوں میں ضم کر دیے گئے پہلے نصاب عقل ہوا ہم سے انتساب پھر یوں ہوا کہ قتل بھی ہم کر دیے گئے پہلے لہولہان کیا ہم کو شہر نے پھر پیرہن ہمارے علم کر دیے گئے پہلے ہی کم تھی قریۂ جاناں میں روشنی اور اس پہ کچھ چراغ بھی کم کر دیے گئے اس دور ...

مزید پڑھیے

وہ کہ ہر عہد محبت سے مکرتا جائے

وہ کہ ہر عہد محبت سے مکرتا جائے دل وہ ظالم کہ اسی شخص پہ مرتا جائے میرے پہلو میں وہ آیا بھی تو خوشبو کی طرح میں اسے جتنا سمیٹوں وہ بکھرتا جائے کھلتے جائیں جو ترے بند قبا زلف کے ساتھ رنگ پیراہن شب اور نکھرتا جائے عشق کی نرم نگاہی سے حنا ہوں رخسار حسن وہ حسن جو دیکھے سے نکھرتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4243 سے 4657