شاعری

رنج و غم لاکھ ہوں مسکراتے رہو

رنج و غم لاکھ ہوں مسکراتے رہو دوست دشمن سے ملتے ملاتے رہو یہ اندھیرے ہیں مہمان اک رات کے تم مگر صبح تک جگمگاتے رہو میں بھلانے کی کوشش کروں گا تمہیں تم مجھے روز و شب یاد آتے رہو راہ کے پیچ و خم خود سلجھ جائیں گے سوئے منزل قدم کو بڑھاتے رہو ابر بن کر برستے رہو ہر طرف عمر شادابیوں ...

مزید پڑھیے

یہ مہکتے ہوئے جذبات یہ اشعار کے پھول

یہ مہکتے ہوئے جذبات یہ اشعار کے پھول کاش کام آئیں کسی کے مرے افکار کے پھول میرے دل نے جو سجا رکھے ہیں زخموں کی طرح کھل نہ پائے کسی گلشن میں وہ معیار کے پھول سونگھتی ہیں انہیں خوش ہو کے بہشتی حوریں سرفروشوں کے بدن پر ہیں جو تلوار کے پھول یہ مرے اشک ندامت ہیں خدا کو محبوب دنیا ...

مزید پڑھیے

دل میں دھڑکن لب میں جنبش چاہیے

دل میں دھڑکن لب میں جنبش چاہیے زندہ رہنے کو یہ ورزش چاہیے آدمی ہونے کا دینے کو ثبوت پاؤں میں تھوڑی سی لغزش چاہیے بیٹھے بیٹھے قسمتیں بنتی نہیں عزم محنت اور کوشش چاہیے امتزاج عیش و غم ہے زندگی لاکھ خوشیاں بھی ہوں رنجش چاہیے حافظؔ اس کو جستجو سورج کی ہے اور تمہیں بھی ایک مہوش ...

مزید پڑھیے

پھول نہیں تو کانٹا دے

پھول نہیں تو کانٹا دے مجھ کو کوئی تحفہ دے شبنم مانگ رہے ہیں گل اپنی آنکھیں چھلکا دے پتھر کاٹ کے کیڑے کو پالنے والا دانہ دے دھوپ میں جلتا ہے دن بھر سورج کو اک چشمہ دے حافظؔ وقت اگر چاہے حاتم کو بھی کاسہ دے

مزید پڑھیے

رات پرانی لگتی ہے

رات پرانی لگتی ہے بوڑھی نانی لگتی ہے میں راجا ہوں سپنوں کا اور وہ رانی لگتی ہے جو میری سانسوں کی طرح آنی جانی لگتی ہے یاد آتی ہے جب اس کی شام سہانی لگتی ہے میں دیوانہ لگتا ہوں وہ دیوانی لگتی ہے دل جب ٹوٹنے لگتا ہے دنیا فانی لگتی ہے شاعری آپ کی اے حافظؔ اپنی کہانی لگتی ہے

مزید پڑھیے

ہم نے سیکھا ہے محبت کرنا

ہم نے سیکھا ہے محبت کرنا ایک اک دل پہ حکومت کرنا ہم بھی تاریخ بدل سکتے ہیں شرط ہے ہمت و جرأت کرنا زیب دیتا نہیں انسانوں کو کسی انساں کی عبادت کرنا رکھ کے خود اپنی ضرورت کو ادھار پوری اوروں کی ضرورت کرنا شب کی تاریکی میں سیکھا ہم نے چاند تاروں کی تلاوت کرنا آخری سانس تلک جیون ...

مزید پڑھیے

گھر آنگن میں پھیلی دھوپ

گھر آنگن میں پھیلی دھوپ پیلے رنگ میں لپٹی دھوپ روز کتابیں چومتی ہے صبح کی اجلی اجلی دھوپ ہم جب بھی اسکول گئے ہم سے پہلے وہاں تھی دھوپ ہم نہ رکیں گے منزل تک کیسی بارش کیسی دھوپ دھرتی سونا لگتی ہے چمکائے یوں مٹی دھوپ ڈھونڈا تھا ہم نے تو قلم بستے میں سے نکلی دھوپ کرنوں کی ...

مزید پڑھیے

کئی جلوے تری پہچان کے دھوکے سے نکلے ہیں

کئی جلوے تری پہچان کے دھوکے سے نکلے ہیں سیاست سینکڑوں چہرے ترے چہرے سے نکلے ہیں ہمارے دور کے بچے سبق پڑھتے ہیں چاہت کا کتابوں کے بجائے دل ہر اک بستے سے نکلے ہیں ہر اک بھائی کی خواہش ہے کہ بٹوارا ہو اب گھر کا ابھی ہم ملک کی تقسیم کے صدمے سے نکلے ہیں ادھر دیکھو یہاں ماں ہے ادھر ہے ...

مزید پڑھیے

مری وفا کی وہ پہچان بھی نہیں رکھتے

مری وفا کی وہ پہچان بھی نہیں رکھتے صلہ تو دور ہے احسان بھی نہیں رکھتے وہ برکتوں کے فرشتوں کے انتظار میں ہیں گھروں میں اپنے جو قرآن بھی نہیں رکھتے جنہیں خلوص کی خوشبو عزیز ہوتی ہے وہ اپنی میز پہ گلدان بھی نہیں رکھتے وہ حادثوں سے ڈراتے ہیں اپنے بچوں کو دیوں کے سامنے طوفان بھی ...

مزید پڑھیے

دیکھو اپنی آنکھ‌ مچولی ایک حقیقت ہو گئی نا

دیکھو اپنی آنکھ‌ مچولی ایک حقیقت ہو گئی نا تم سے مجھ کو مجھ سے تم کو آج محبت ہو گئی نا میں نے کہا تھا دھوپ میں میرے ساتھ نہ تم چل پاؤ گے میلی میلی تمہاری اجلی چاند سی صورت ہو گئی نا محفل میں ہنستے ہیں لیکن تنہائی میں روتے ہیں ایک سی میری اور تمہاری اب یہ حالت ہو گئی نا دوزخ میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4136 سے 4657