شاعری

آگ کے ساتھ میں بہتا ہوا پانی سننا

آگ کے ساتھ میں بہتا ہوا پانی سننا رات بھر اپنے عناصر کی سنانی سننا دیکھنا روز اندھیروں میں شعاعوں کی نمو پتھروں میں کسی دریا کی روانی سننا وہ سنائیں گی کبھی میری کہانی تم کو تم ہواؤں سے کبھی میری کہانی سننا میری خاموشی مری مشق ہے اس مشق میں تم مار کر تیر مری تشنہ دہانی ...

مزید پڑھیے

چلتے چلتے یہ گلی بے جان ہوتی جائے گی

چلتے چلتے یہ گلی بے جان ہوتی جائے گی رات ہوتی جائے گی سنسان ہوتی جائے گی دیکھنا کیا ہے نظر انداز کرنا ہے کسے منظروں کی خود بہ خود پہچان ہوتی جائے گی اس کے چہرے پر مسلسل آنکھ رک سکتی نہیں آنکھ بار حسن سے ہلکان ہوتی جائے گی سوچ لو یہ دل لگی بھاری نہ پڑ جائے کہیں جان جس کو کہہ رہے ...

مزید پڑھیے

ان کو خلا میں کوئی نظر آنا چاہیے

ان کو خلا میں کوئی نظر آنا چاہیے آنکھوں کو ٹوٹے خواب کا ہرجانہ چاہیے وہ کام رہ کے شہر میں کرنا پڑا ہمیں مجنوں کو جس کے واسطے ویرانہ چاہیے ہے ہجر تو کباب نہ کھانے سے کیا حصول گر عشق ہے تو کیا ہمیں مر جانا چاہیے اس زخم دل پہ آج بھی سرخی کو دیکھ کر اترا رہے ہیں ہم ہمیں اترانا ...

مزید پڑھیے

بن کے سایہ ہی سہی سات تو ہوتی ہوگی

بن کے سایہ ہی سہی سات تو ہوتی ہوگی کم سے کم تجھ میں تری ذات تو ہوتی ہوگی یہ الگ بات کوئی چاند ابھرتا نہ ہو اب دل کی بستی میں مگر رات تو ہوتی ہوگی دھوپ میں کون کسے یاد کیا کرتا ہے پر ترے شہر میں برسات تو ہوتی ہوگی ہم تو صحرا میں ہیں تم لوگ سناؤ اپنی شہر سے روز ملاقات تو ہوتی ...

مزید پڑھیے

یوں مرے ہونے کو مجھ پر آشکار اس نے کیا

یوں مرے ہونے کو مجھ پر آشکار اس نے کیا مجھ میں پوشیدہ کسی دریا کو پار اس نے کیا پہلے صحرا سے مجھے لایا سمندر کی طرف ناؤ پر کاغذ کی پھر مجھ کو سوار اس نے کیا میں تھا اک آواز مجھ کو خامشی سے توڑ کر کرچیوں کو دیر تک میری شمار اس نے کیا دن چڑھا تو دھوپ کی مجھ کو صلیبیں دے گیا رات آئی ...

مزید پڑھیے

مدھم ہوئی تو اور نکھرتی چلی گئی

مدھم ہوئی تو اور نکھرتی چلی گئی زندہ ہے ایک یاد جو مرتی چلی گئی تھی زندگی کی مثل شب ہجر دوستو اور زندگی کی مثل گزرتی چلی گئی ہم سے یہاں تو کچھ بھی سمیٹا نہ جا سکا ہم سے ہر ایک چیز بکھرتی چلی گئی آئے تھے چند زخم گزرگاہ وقت پر گزری ہوائے وقت تو بھرتی چلی گئی اک اشک قہقہوں سے ...

مزید پڑھیے

کوئی خوشی نہ کوئی رنج مستقل ہوگا

کوئی خوشی نہ کوئی رنج مستقل ہوگا فنا کے رنگ سے ہر رنگ متصل ہوگا عجب ہے عشق عجب تر ہیں خواہشیں اس کی کبھی کبھی تو بچھڑنے تلک کو دل ہوگا بدن میں ہو تو گلہ کیا تماش بینی کا یہاں تو روز تماشا و آب و گل ہوگا ابھی تو اور بھی چہرے تمہیں پکاریں گے ابھی وہ اور بھی چہروں میں منتقل ...

مزید پڑھیے

کبھی تو بنتے ہوئے اور کبھی بگڑتے ہوئے

کبھی تو بنتے ہوئے اور کبھی بگڑتے ہوئے یہ کس کے عکس ہیں تنہائیوں میں پڑتے ہوئے عجیب دشت ہے اس میں نہ کوئی پھول نہ خار کہاں پہ آ گیا میں تتلیاں پکڑتے ہوئے مری فضائیں ہیں اب تک غبار آلودہ بکھر گیا تھا وہ کتنا مجھے جکڑتے ہوئے جو شام ہوتی ہے ہر روز ہار جاتا ہوں میں اپنے جسم کی ...

مزید پڑھیے

نیند کے بوجھ سے پلکوں کو جھپکتی ہوئی آئی

نیند کے بوجھ سے پلکوں کو جھپکتی ہوئی آئی صبح جب رات کی گلیوں میں بھٹکتی ہوئی آئی دیدۂ خشک میں اک ماہیٔ بے آب تھی نیند چشمۂ خواب تلک آئی پھڑکتی ہوئی آئی اور پھر کیا ہوا کچھ یاد نہیں ہے مجھ کو ایک بجلی تھی کہ سینہ میں لپکتی ہوئی آئی آج کیا پھر کسی آواز نے بیعت مانگی یہ مری خامشی ...

مزید پڑھیے

شوق ثواب کچھ نہیں خوف عذاب کچھ نہیں

شوق ثواب کچھ نہیں خوف عذاب کچھ نہیں جس میں نہ جوش جہد ہو اس کا شباب کچھ نہیں زندگی اک سوال ہے جس کا جواب موت ہے موت بھی اک سوال ہے جس کا جواب کچھ نہیں نغمۂ نو کے واسطے غیر کی احتیاج کیا چھیڑ دے تار ساز دل چنگ و رباب کچھ نہیں صاف دلوں کے واسطے تنگ ہے عرصۂ حیات ذات حباب خوب ہے عمر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4135 سے 4657