شاعری

آنکھ کے تارے ٹوٹ گئے

آنکھ کے تارے ٹوٹ گئے خواب ہمارے ٹوٹ گئے کل موجوں میں جنگ ہوئی اور کنارے ٹوٹ گئے قطرہ قطرہ برف بنا اور فوارے ٹوٹ گئے میری پلکوں سے گر کے آنسو سارے ٹوٹ گئے حافظؔ وقت برا آیا دیکھ سارے ٹوٹ گئے

مزید پڑھیے

یہ راز کوئی جاننے والا بھی نہیں ہے

یہ راز کوئی جاننے والا بھی نہیں ہے سورج کی وراثت میں اجالا بھی نہیں ہے سو رستے کمانے کے نظر آتے ہیں لیکن کھانے کے لیے ایک نوالہ بھی نہیں ہے لب نام ترا لینے سے کترانے لگے ہیں حالانکہ تجھے دل سے نکالا بھی نہیں ہے کیوں سرخ ہوا ہے یہ فلک آج سر شام میں نے تو لہو اپنا اچھالا بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

دور کے ڈھول سہانے ہیں

دور کے ڈھول سہانے ہیں صدیوں کے افسانے ہیں شمع محبت جل کے سمجھ ہم تیرے پروانے ہیں دل میں اتر کر دیکھو ذرا چاہت کے تہہ خانے ہیں مانگ رہے ہیں تجھ سے وفا ہم بھی کیا دیوانے ہیں یاروں کی بد نیت سے شرمندہ یارانے ہیں حافظؔ اب ٹکڑے ٹکڑے ذہن کے تانے بانے ہیں

مزید پڑھیے

آدمی نور ہے

آدمی نور ہے جلوۂ طور ہے رب ہے مختار کل بندہ مجبور ہے نشۂ حرص میں ہر کوئی چور ہے صالحوں کے لیے وعدۂ حور ہے کیا ہے صیہونیت ایک ناسور ہے مغلیہ سلطنت عزم تیمور ہے حافظؔ انسان سے زندگی دور ہے

مزید پڑھیے

عقل سے کام کر

عقل سے کام کر دہر میں نام کر میں نے دیکھا اسے اپنا دل تھام کر قوم کا ہو بھلا ایسا اقدام کر اپنا ہر رنج و غم تو مرے نام کر زندگی ہے یہی صبح سے شام کر مول اپنا بڑھا مجھ کو بے دام کر دیر حافظؔ نہ ہو جلد ہر کام کر

مزید پڑھیے

زندگی اپنا سفر طے تو کرے گی لیکن (ردیف .. ا)

زندگی اپنا سفر طے تو کرے گی لیکن ہم سفر آپ جو ہوتے تو مزا اور ہی تھا کعبہ و دیر میں اب ڈھونڈ رہی ہے دنیا جو دل و جان میں بستا تھا خدا اور ہی تھا اب یہ عالم ہے کہ دولت کا نشہ طاری ہے جو کبھی عشق نے بخشا تھا نشہ اور ہی تھا دور سے یوں ہی لگا تھا کہ بہت دوری ہے جب قریب آئے تو جانا کہ گلا ...

مزید پڑھیے

وفا کی شان وہ لیکن کبھی مرے نہ ہوئے

وفا کی شان وہ لیکن کبھی مرے نہ ہوئے ہے میری جان وہ لیکن کبھی مرے نہ ہوئے انہیں کا ذکر غزل بھی وہی فسانہ بھی سخن کی آن وہ لیکن کبھی مرے نہ ہوئے نشہ ہے ان کی صدا کا کہ دھڑکنیں میری رہا گمان وہ لیکن کبھی مرے نہ ہوئے گلوں میں رنگ انہیں سے مہک مہک ان سے چمن کی شان وہ لیکن کبھی مرے نہ ...

مزید پڑھیے

محبت عمر بھر کی رائیگاں کرنا نہیں اچھا

محبت عمر بھر کی رائیگاں کرنا نہیں اچھا سنبھل اے دل انا کو آسماں کرنا نہیں اچھا کچھ ایسے راز ہوتے ہیں بیاں کرنا نہیں اچھا ہر اک چہرے کی سچائی عیاں کرنا نہیں اچھا کسی ناکام حسرت کی جو سلگے آگ سینہ میں ہوا یادوں کی مت دینا دھیاں کرنا نہیں اچھا چمن میں ہوں تو پھر میں بھی چمن کا ایک ...

مزید پڑھیے

رقیب جاں نظر کا نور ہو جائے تو کیا کیجے

رقیب جاں نظر کا نور ہو جائے تو کیا کیجے زیاں دل کو اگر منظور ہو جائے تو کیا کیجے وفا کرنے سے وہ مجبور ہو جائے تو کیا کیجے محبت روح کا ناسور ہو جائے تو کیا کیجے وہی چرچے وہی قصے ملی رسوائیاں ہم کو انہی قصوں سے وہ مشہور ہو جائے تو کیا کیجے زمانے سے گلا کیسا جب اپنے جسم کا ...

مزید پڑھیے

کیا میں اک حرف تھا لکھا یوں ہی

کیا میں اک حرف تھا لکھا یوں ہی میرا ہونا بھی بس ہوا یوں ہی جانتی ہوں کہ تم کو پیار نہیں یوں ہی مجھ کو لگا لگا یوں ہی اک خدا کی وہ بات کرتا تھا اور پھر ہو گیا خدا یوں ہی کیا پتا کب قبول ہو جائے تو بھی تو مانگ لیں دعا یوں ہی ایک خدشہ ہے بہکے قدموں سے ڈھونڈ ہی لیں نہ راستہ یوں ہی وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4137 سے 4657