شاعری

جیون کے کئی راز بتاتا ہے جزیرہ

جیون کے کئی راز بتاتا ہے جزیرہ شاعر کو نئی راہ سجھاتا ہے جزیرہ کیا دور ہے خود موج لگاتی ہے یہ تہمت دنیا میں بہت شور مچاتا ہے جزیرہ اللہ کی تخلیق کا انداز تو دیکھو وہ آب کی کھیتی میں اگاتا ہے جزیرہ جیون کا سفر دکھ کے سمندر میں ہے اکثر میلوں میں کبھی خوشیوں کا آتا ہے جزیرہ ہو ...

مزید پڑھیے

رکھتا ہے اپنے ساتھ گناہوں کا بار دل

رکھتا ہے اپنے ساتھ گناہوں کا بار دل اجلے سے میرے سینے میں ہے داغدار دل تقویٰ سے گر بھرا ہو تو پھر نیکیوں کی سمت اس طرح دوڑتا ہے کہ ہو شہسوار دل ہیں آج سب کے سینوں میں پتھر رکھے ہوئے برسائے آسمان سے پروردگار دل کب تک تو اس کی یاد کو رکھے گا اوڑھ کر پھٹنے لگی ہے اب تو قبا یہ اتار ...

مزید پڑھیے

جب یاد تری آتی ہے تھمتے نہیں آنسو

جب یاد تری آتی ہے تھمتے نہیں آنسو پھر رات بھی ہو جائے تو سوتے نہیں آنسو جب خوف خدا سے یہ نکل جائیں تو موتی جز آب کے کچھ اور تو ہوتے نہیں آنسو رخسار کے رستہ پہ ہی چلتے ہیں یہ سیدھے انساں کی طرح رہ سے بھٹکتے نہیں آنسو تعظیم میں پلکوں سے اتر جاتے ہیں نیچے غم آئیں تو بیٹھے ہوئے رہتے ...

مزید پڑھیے

محبت کر چکی ہے کام اپنا

محبت کر چکی ہے کام اپنا مجھے معلوم ہے انجام اپنا نہیں اس مے کدہ میں کام اپنا جہاں مے ہو پرائی جام اپنا محبت تو محبت ہی رہے گی ضرورت کچھ بھی رکھ لے نام اپنا مقدر بھی بدلنا جانتے ہیں گزارش ہی نہیں ہے کام اپنا جو خود اپنی نظر سے گر چکے ہیں انہیں بھی گردش ایام اپنا تم اور یہ زحمت ...

مزید پڑھیے

طبیعت میں یہ سرشاری کہاں سے آ گئی ہے

طبیعت میں یہ سرشاری کہاں سے آ گئی ہے ابھی اچھے تھے بیماری کہاں سے آ گئی ہے کبھی دوگانہ پڑھتے تھے نماز عشق ہم تم اب اس رشتے میں بے گاری کہاں سے آ گئی ہے ذلیل و خوار ناہنجار پیارے کم نصیبو تمہارے سر میں سرداری کہاں سے آ گئی ہے یہ محفل خوب صورت خوب سیرت دوستوں کی یہاں اک شکل سرکاری ...

مزید پڑھیے

غم کی اک کیفیت نشاط میں ہو

غم کی اک کیفیت نشاط میں ہو جو یہی کیفیت حیات میں ہو درد سے ہاتھ پاؤں شل ہو جائیں درد یک گونہ ساری ذات میں ہو پھول پھل سب کے سب فنا ہو جائیں صرف موسیقی ڈال پات میں ہو ہر ستم مجھ پہ میں روا رکھوں میری ہمدردی میری ذات میں ہو ہم بھی ڈالیں کسی پہ ایک نظر کوئی بیٹھا ہماری گھات میں ...

مزید پڑھیے

ہجر سے بات کی وصال کے بعد

ہجر سے بات کی وصال کے بعد اب کے آنا تو ماہ و سال کے بعد جیسے آیا تھا ماضی حال کے بعد کیا جنوب آئے گا شمال کے بعد بات سے بات چلتی رہتی ہے ختم ہو جاتی ہے مثال کے بعد اک خموشی حصار کی مانند پہلے اور آخری سوال کے باد ایک سیل ملال ہر جانب اک ملال اور اک ملال کے بعد اک خموشی رواں دواں ...

مزید پڑھیے

میں اپنے سارے کرب و بلا لے کے جاؤں گا

میں اپنے سارے کرب و بلا لے کے جاؤں گا میں جب بھی جاؤں اپنی انا لے کے جاؤں گا آنکھوں کی آبرو کا بھی رکھوں گا میں خیال آنکھوں میں گر خلا ہے خلا لے کے جاؤں گا فرعون وقت سے جو کروں گا مقابلہ میں بھی دعا کروں گا عصا لے کے جاؤں گا سارے سپاہ و تیر و تفنگ و تبر لیے اک کربلائے شوق سوا لے کے ...

مزید پڑھیے

جو بچ گیا تھا اب تک پندار بیچتے تھے

جو بچ گیا تھا اب تک پندار بیچتے تھے در کو بچا لیا تھا دیوار بیچتے تھے اک بار ہی نہیں وہ ہر بار بیچتے تھے بیمار تھا میں ان کا آزار بیچتے تھے بازار میرے اندر بازار میرے باہر بازار میں کھڑے تھے بازار بیچتے تھے سب سے بڑی دکاں تھی بازار میں ہماری اپنی دکاں میں ہم تو رفتار بیچتے ...

مزید پڑھیے

ہماری بات میں سن ذم کا رمز ہے گا کیا

ہماری بات میں سن ذم کا رمز ہے گا کیا کسی بھی پیچ کسی خم کا رمز ہے گا کیا وہ دور اور تھا جب تم نے مجھ سے پوچھا تھا محبتوں میں کہیں غم کا رمز ہے گا کیا یہ آب سادہ یہ آب رواں یہ آب ازل اس آب ناب میں زمزم کا رمز ہے گا کیا فلک پہ مہر بھی انجم بھی ابر باراں بھی مگر زمیں پہ جھما جھم کا رمز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4113 سے 4657